*مفتی محمد ابراہیم غفاری*
مدرسہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ 
abzghifariedu@gmail.com

کبھی کبھی قومیں حالات سے نہیں ہارتیں، اپنے ذہن سے ہار جاتی ہیں۔ شاید آج مسلمان کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔

وہ اپنے اردگرد کے حالات دیکھتا ہے، کہیں مسجد کے بارے میں کوئی خبر سنتا ہے، کہیں اپنے کسی حق کے چھن جانے کی بات سامنے آتی ہے، کہیں ظلم کی کوئی داستان اسے بے چین کرتی ہے، تو دل میں ایک سوال اٹھتا ہے:

"ہم کیا کر سکتے ہیں؟"

شاید یہی جملہ ہماری سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے۔

ہم نے حالات سے پہلے اپنے دل میں شکست مان لی ہے۔ ہم نے خود کو سمجھا دیا ہے کہ ہم کمزور ہیں، ہماری کوئی حیثیت نہیں، ہماری آواز کون سنے گا، ہم کچھ بدل نہیں سکتے۔

مگر ذرا رک کر سوچیے!

کیا واقعی ہندوستان کا مسلمان اتنا بے وزن ہے کہ اس کی آواز کی کوئی قیمت نہیں؟

نہیں!

مسئلہ ہماری تعداد کا نہیں، ہماری منتشر حالت کا ہے۔ ہم کروڑوں میں ہیں، مگر ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ہمارے اندر جذبہ ہے، مگر اجتماعی منصوبہ بندی کمزور ہے۔ ہم شکایت بہت کرتے ہیں، مگر اپنے حقوق، اپنے آئین، اپنے قانونی راستوں اور اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف نہیں۔

ہم خطرے کو محسوس تو کرتے ہیں، مگر اس کے مقابلے کے لیے اپنے بچوں کو تیار نہیں کرتے۔ ہم اپنے نوجوانوں کو جذبات دیتے ہیں، مگر علم، ہنر، قانون اور قیادت کی تربیت کم دیتے ہیں۔

ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اپنے جائز حقوق کی بات کرنا کسی کے خلاف نفرت نہیں۔ اپنی مسجد کی حفاظت کی فکر کرنا کسی دوسرے مذہب کی توہین نہیں۔ اپنی جان، مال، عزت، تعلیم اور مذہبی آزادی کے لیے آواز اٹھانا دشمنی نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار شہری کا حق ہے۔

لیکن یہ آواز قانون کے دائرے میں، امن کے ساتھ، حکمت کے ساتھ اور دلیل کے ساتھ اٹھانی ہوگی۔

ہمیں اپنے بچوں کو یہ نہیں سکھانا کہ ظلم دیکھو اور خاموش رہو، کیونکہ ہم کمزور ہیں۔

ہمیں انہیں یہ سکھانا ہے کہ حق کے لیے کھڑے ہونا ہے، مگر حکمت کے ساتھ؛ اپنے حقوق کو جاننا ہے، مگر قانون کے دائرے میں؛ اپنی مسجد اور اپنی دینی شناخت کی حفاظت کرنی ہے، مگر کسی کے خلاف نفرت پیدا کیے بغیر۔

ہمیں اپنے وکیل چاہئیں، اپنے صحافی چاہئیں، اپنے ماہرین چاہئیں، اپنے مضبوط تعلیمی ادارے چاہئیں، اپنے ہنرمند نوجوان چاہئیں، اپنی مضبوط معیشت چاہیے اور سب سے بڑھ کر ایک دوسرے کے لیے درد رکھنے والی امت چاہیے۔

کیونکہ صرف تعداد طاقت نہیں بنتی۔
تعلیم، اتحاد، شعور، کردار اور منظم جدوجہد ہی تعداد کو طاقت بناتے ہیں۔

آج ہمیں کسی کے خلاف کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنے اندر کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔

اپنی غفلت کے خلاف، اپنی جہالت کے خلاف، اپنی مایوسی کے خلاف، اپنی باہمی نفرت کے خلاف اور اس سوچ کے خلاف کہ:

"کچھ نہیں ہو سکتا۔"
بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

مگر اس کے لیے ہمیں دعا کے ساتھ تدبیر، توکل کے ساتھ اسباب، ایمان کے ساتھ علم اور جذبات کے ساتھ حکمت بھی اختیار کرنا ہوگی۔

اور ہماری مسجدیں صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارتیں نہیں ہیں۔ یہ ہماری عبادت گاہیں ہیں، ہماری دینی شناخت کے مراکز ہیں، ہماری نسلوں کی تربیت گاہیں ہیں۔ اس لیے جہاں کسی مسجد کے حق، آزادی یا حفاظت کا مسئلہ ہو، وہاں بے حسی اختیار کرنا درست نہیں۔

قانون کو جانیں، دستاویزات محفوظ رکھیں، قانونی ماہرین سے رابطہ کریں، آئینی اور پُرامن راستے اختیار کریں اور اپنی اجتماعی آواز کو مضبوط بنائیں۔

*خاموشی ہمیشہ صبر نہیں ہوتی، کبھی خاموشی اپنی ذمہ داری سے فرار بھی بن جاتی ہے۔*

لیکن ہمیں اشتعال نہیں چاہیے، تصادم نہیں چاہیے، نفرت نہیں چاہیے۔

ہمیں ایسی طاقت چاہیے جو علم سے پیدا ہو، کردار سے پہچانی جائے، اتحاد سے مضبوط ہو اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کی حفاظت کرنا جانتی ہو۔
ہمیں ایسی قوم بننا ہے جو اپنے بچوں کو تعلیم دے، اپنی بیٹیوں کے مستقبل کی فکر کرے، اپنے نوجوانوں کو ہنر دے، اپنے ادارے قائم کرے، اپنی معیشت مضبوط کرے، اپنے حقوق کو سمجھے اور اپنے ملک کے ذمہ دار شہری بن کر زندگی گزارے۔

اور یہاں ایک بات میں خاص طور پر امت کے تمام رہنماؤں سے کہنا چاہتا ہوں۔
چاہے آپ علماء ہوں، ائمہ ہوں، دانشور ہوں، سیاسی رہنما ہوں، سماجی کارکن ہوں، صحافی ہوں یا کسی بھی میدان میں امت کی رہنمائی کا مقام رکھتے ہوں—خدارا! امت کی صحیح رہنمائی کیجیے۔
امت کو آپس میں لڑانے والی باتوں سے زیادہ آج اسے جوڑنے والی آواز کی ضرورت ہے۔
امت کو صرف جذباتی نعروں کی نہیں، صحیح سمت کی ضرورت ہے۔
اسے صرف غصہ دلانے والوں کی نہیں، راستہ دکھانے والوں کی ضرورت ہے۔

اس کے نوجوانوں کو بتائیے کہ ان کا مستقبل صرف شکایت میں نہیں، علم میں ہے؛ صرف احتجاج میں نہیں، تعمیر میں ہے؛ صرف جذبات میں نہیں، کردار اور حکمت میں ہے۔

اپنی منبر و محراب کی ذمہ داری کو محسوس کیجیے، اپنی قیادت کی ذمہ داری کو محسوس کیجیے، اپنی قلم کی ذمہ داری کو محسوس کیجیے۔

لوگ آپ کی بات سنتے ہیں، آپ پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس اعتماد کو امت کی تعمیر کے لیے استعمال کیجیے۔

*خدارا! امت کو مزید تقسیم نہ ہونے دیجیے۔*
اسے جوڑیے، سنبھالیے، تعلیم دیجیے، بیدار کیجیے اور صحیح سمت دکھائیے۔

کیونکہ یہ صرف دنیا کا معاملہ نہیں ہے۔
ایک دن ہمیں اس دنیا سے جانا ہے۔
*ایک دن وہ وقت بھی آئے گا جب ہمیں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا۔*

اور اس دن صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ ہم خود کیا کرتے رہے، بلکہ یہ سوال بھی ہمارے سامنے ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں کی رہنمائی کا موقع تمہیں ملا تھا، تم نے ان کی کتنی رہنمائی کی؟

جن نوجوانوں نے تمہاری طرف دیکھا، تم نے انہیں کیا دیا؟
جن لوگوں نے تم پر اعتماد کیا، تم نے انہیں کس راستے پر چلایا؟

*کل رسول اللہ ﷺ کے سامنے بھی پیش ہونا ہے۔*
*پھر ہم اپنے رب کے سامنے کیا جواب دیں گے؟*

اس لیے آج ہمیں ایک دوسرے سے نہیں، اپنے نفس سے سوال کرنا ہوگا:

کیا ہم واقعی کمزور ہیں؟
نہیں!
ہم کمزور نہیں، ہم منتشر ہیں۔
ہم بے طاقت نہیں، ہم بے سمت ہیں۔
ہم بے حیثیت نہیں، ہم بے خبر ہیں۔

اور اگر یہ امت اپنے رب سے تعلق مضبوط کرے، علم حاصل کرے، اپنے اختلافات کو کم کرے، اپنے ادارے بنائے، اپنے حقوق کو سمجھے، اپنے نوجوانوں کو تیار کرے اور پُرامن و قانونی طریقے سے اپنی اجتماعی آواز کو مضبوط کرے، تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

بس شرط یہ ہے کہ ہم خود کو شکست خوردہ سمجھنا چھوڑ دیں۔

اپنے رب پر بھروسہ کیجیے۔
اپنے حقوق کو پہچانیے۔
اپنی صفوں کو درست کیجیے۔
اپنی نسلوں کو تعلیم دیجیے۔
اور امت کی صحیح رہنمائی کیجیے۔

کیونکہ شاید مسئلہ یہ نہیں کہ مسلمان کے پاس طاقت نہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان اپنی طاقت، اپنی ذمہ داری اور اپنے مقام کا صحیح شعور کھو بیٹھا ہے۔

اور شاید آج سب سے پہلے اسی شعور کو جگانے کی ضرورت ہے۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va4Ow8qInlqSJbGemE2H