*طلاق کیوں ہوئی ایک سفر میں ملنے والی سبق آموز حقیقت*
کبھی کبھی انسان کا سفر صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ تک نہیں ہوتا بلکہ راستے میں ایسی کہانیاں بھی مل جاتی ہیں جو انسان کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل مجھے *جامعہ اشرفیہ* سے راجستھان کا ایک طویل سفر درپیش ہوا،سفر خاصا طویل تھا راستے کی تھکن اپنی جگہ مگر علم و مقصد کی طلب نے قدموں کو روکا نہیں چند روز راجستھان میں گزارنے کے بعد جب واپسی کے لیے ٹرین میں سوار ہوا تو میرے برابر کی نشست پر ایک عمر رسیدہ صاحب آ بیٹھے،چہرے پر عمر کی لکیریں تھیں گفتگو میں سنجیدگی اور لہجے میں ایک عجیب سی اپنائیت،ان کے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں ان کی بیٹی، اور ان کی گود میں ایک ننھا سا وجود تھا بے حد حسین و جمیل، معصوم سا چہرہ آنکھوں میں عجیب سی چمک اور ایسی مسکراہٹ کہ دیکھنے والا چند لمحوں کے لیے اپنی پریشانیاں بھول جائے۔
بچے کو دیکھ کر بے اختیار دل میں خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ جب اولاد کی نعمت عطا فرماتا ہے تو گھر کو آباد کرنے کے لیے ایک فرشتہ سا وجود بھیج دیتا ہے،باتوں باتوں میں تعارف ہوا سفر آگے بڑھتا رہا مگر بزرگ صاحب کے چہرے پر چھائی اداسی بار بار میری توجہ اپنی طرف کھینچ رہی تھی،آخر میں نے پوچھ ہی لیا حاجی صاحب طبیعت کچھ بوجھل معلوم ہوتی ہے خیریت تو ہے؟وہ کچھ دیر خاموش رہے،ھر آہستہ سے بولے بیٹا خیریت کہاں یہ میری بیٹی ہے اس کی زندگی اجڑ گئی ہے۔
میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا،میرے سامنے ایک جوان عورت بیٹھی تھی گود میں ایک معصوم بچہ تھا مگر اس کے چہرے پر وہ رونق نہیں تھی جو ایک ماں کے چہرے پر ہونی چاہیے،بزرگ نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے تک ان کی بیٹی ایک خوشحال گھر میں رہتی تھی، شوہر تعلیم یافتہ تھا محنت کرتا تھا بچوں سے محبت کرتا تھا مگر آمدنی محدود تھی،ابتدا میں سب کچھ ٹھیک تھا،پھر آہستہ آہستہ گھر میں *موازنہ*(مقابلہ کرنا) داخل ہو گیا،کبھی کسی رشتہ دار کے گھر کی تعریف دیکھو ان کے پاس کتنی بڑی گاڑی ہے،کبھی کسی بہن کا گھر،ان کے گھر میں ہر کمرے میں اے سی لگی ہوئی ہے،کبھی کسی سہیلی کا موبائل اس کے پاس نیا آئی فون ہے، اور ہمارے پاس ابھی تک یہی پرانا فون وغیرہ وغیرہ۔
پھر یہی موازنہ خواہش بنا خواہش ضد بنی ضد مطالبہ بنی اور مطالبات نے گھر کے سکون کو نگلنا شروع کر دیا،شوہر اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرتا رہا،کبھی قرض لے کر چیز خریدی کبھی اپنی ضرورت قربان کی کبھی بچوں کی خواہش مؤخر کی مگر گھر کی فرمائشوں کا سلسلہ ختم نہ ہوا،کیونکہ مسئلہ ضرورت کا نہیں تھا،مسئلہ دوسروں کے ساتھ مقابلے کا تھا۔
*بزرگ صاحب نے ایک لمبی سانس لی اور کہا بیٹا غریب آدمی کی سب سے بڑی آزمائش غربت نہیں بلکہ دوسروں کی دولت دیکھ کر اپنے گھر کو حقیر سمجھنا ہے* یہ جملہ میرے دل میں اتر گیا،میں نے پوچھا پھر بات یہاں تک کیسے پہنچی؟انہوں نے کہا ایک دن معمولی سی بات پر گھر میں جھگڑا ہوا، پرانی شکایتیں نکل آئیں طعنے شروع ہوئے غصہ بڑھا اور وہ لفظ کہہ دیا گیا جس کے بعد واپسی کا راستہ بہت مشکل ہو جاتا ہے طلاق ہو گئی۔
میں کچھ دیر خاموش رہا،میری نگاہ اس معصوم بچے پر پڑی جو اس پوری داستان سے بے خبر اپنی دنیا میں مسکرا رہا تھا،مجھے اچانک محسوس ہوا کہ طلاق صرف دو انسانوں کو جدا نہیں کرتی کبھی کبھی دو خاندانوں کو توڑ دیتی ہے بچوں کے بچپن کو تقسیم کر دیتی ہے اور ایک ننھے وجود سے وہ گھر چھین لیتی ہے جسے وہ اپنا حق سمجھ کر پیدا ہوا تھا،میں نے بزرگ سے پوچھا اب آپ کی بیٹی کہاں رہتی ہے؟انہوں نے بتایا اب ہمارے ساتھ ہے حالات پہلے جیسے نہیں رہے بہت سی چیزیں جو کبھی معمولی لگتی تھیں آج خواب معلوم ہوتی ہیں،یہ سن کر مجھے خیال آیا کہ انسان کو اکثر نعمت کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔
کبھی ایک چھوٹا سا گھر بھی بہت بڑا لگتا ہے، اگر اس میں محبت ہو،اور کبھی بڑی سے بڑی کوٹھی بھی قید خانہ بن جاتی ہے، اگر وہاں ہر روز موازنہ، شکایت اور طعنہ ہو،ہم نے سوشل میڈیا، رشتہ داروں اور آس پاس کے لوگوں کی زندگیوں کو دیکھ دیکھ کر اپنی زندگیوں کا سکون داؤ پر لگا دیا ہے،کسی کے پاس نئی گاڑی ہے تو ہمیں اپنی گاڑی پر شرمندگی ہونے لگتی ہے،کسی کے گھر میں مہنگا فرنیچر ہے تو اپنا سادہ سامان معمولی محسوس ہونے لگتا ہے،کسی کے ہاتھ میں جدید موبائل دیکھ کر اپنے شوہر کی محبت بھی کم محسوس ہونے لگتی ہے،اور پھر ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم دوسروں کی زندگی کا صرف دکھائی دینے والا حصہ دیکھ رہے ہیں، ان کے قرض، پریشانیاں، گھریلو مسائل اور اندر کے زخم نہیں۔
ہر گھر کی اپنی کہانی ہے،کسی کے پاس پیسہ زیادہ ہے، کسی کے پاس سکون زیادہ،کسی کے پاس بڑا گھر ہے، کسی کے پاس بڑا دل ہے کسی کے پاس گاڑی ہے، کسی کے پاس ایسی محبت ہے جو گاڑی سے کہیں زیادہ قیمتی ہے،اس لیے اپنے گھر کو دوسروں کے گھر کے ترازو میں مت تولیے،اپنے شوہر کو کسی اور کے شوہر سے، اپنی بیوی کو کسی اور کی بیوی سے، اپنے بچوں کو کسی اور کے بچوں سے اور اپنے گھر کو کسی اور کے گھر سے موازنہ کرنا بند کر دیجیے،موازنہ محبت کا قاتل ہے۔
ٹرین اپنی رفتار سے منزل کی طرف بڑھ رہی تھی،وہ ننھا سا بچہ اب اپنی ماں کی گود میں سو چکا تھا،میں اسے دیکھتا رہا اور دل میں سوچتا رہا اس بچے کا کیا قصور تھا؟اس نے تو نہ مہنگا موبائل مانگا تھا نہ بڑی گاڑی، نہ عالیشان مکان،اسے تو صرف ایک ایسا گھر چاہیے تھا جہاں ماں باپ دونوں موجود ہوں، جہاں محبت ہو، شفقت ہو، اور رات کو سکون سے نیند آ سکے،مگر بڑوں کی خواہشات اور انا نے اس معصوم کے حصے میں جدائی لکھ دی،ٹرین اپنی منزل کے قریب پہنچ رہی تھی، مگر میرے ذہن میں وہ بزرگ صاحب کی باتیں مسلسل گردش کر رہی تھیں۔
اس سفر نے مجھے ایک بہت بڑا سبق دیا،زندگی کو آسائشوں سے نہیں، قناعت سے خوبصورت بنایا جاتا ہے،گھر کو مہنگی چیزیں نہیں، اچھے اخلاق آباد کرتے ہیں،رشتے دولت سے نہیں، اعتماد سے مضبوط ہوتے ہیں،اور شادی صرف یہ نام نہیں کہ شوہر کتنا کما رہا ہے یا بیوی کتنی چیزیں حاصل کر رہی ہے شادی کا اصل حسن یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے حالات کو سمجھیں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھیں،اگر رزق کم ہے تو ساتھ بیٹھ کر شکر کیجیے،اگر گھر چھوٹا ہے تو محبت بڑی رکھیے،اگر موبائل پرانا ہے تو دل نئے اور زندہ رکھیے،اگر گاڑی نہیں تو پیدل چلتے ہوئے بھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام سکتے ہیں،کیونکہ سکون بازار سے نہیں ملتا، سکون گھر کے اندر پیدا کیا جاتا ہے۔
*خدا کے لیے اپنی اولاد کو یہ مت سکھائیے کہ خوشی کا مطلب مہنگا لباس، قیمتی موبائل، بڑی گاڑی اور عالیشان مکان ہے،انہیں سکھائیے کہ خوشی کا اصل نام قناعت، شکر، محبت، عزت اور اپنائیت ہے،ورنہ ممکن ہے ہم اپنی اولاد کو دنیا کی ہر آسائش دینے کی کوشش میں انہیں وہ سب کچھ دے بیٹھیں جو انہیں خوش نہیں کر سکتا، اور وہ چیز چھین لیں جس کے بغیر کوئی گھر گھر نہیں رہتا۔*
اللہ تعالیٰ ہر گھر کو محبت، قناعت، باہمی احترام اور سمجھ بوجھ عطا فرمائے، میاں بیوی کے درمیان الفت قائم رکھے، اولاد کو والدین کا سایہ نصیب فرمائے، اور ہر اس گھر کو ٹوٹنے سے بچائے جسے صرف تھوڑی سی سمجھ داری، صبر اور قربانی سے بچایا جا سکتا ہے،آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم 🤲🏻
*پنے گھر کو جنت بنائیے، مقابلے کا میدان نہیں۔*
*✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️*