*بچے کے جواب میں ماں کی تربیت۔*

آج ایک ننھے سے بچے سے ملاقات ہوئی جو رشتے میں میرا بھانجا لگتا ہے، عمر بہت کم تھی مگر اس کی گفتگو نے مجھے ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کر دیا، اس کے الفاظ میں ادب تھا، لہجے میں شائستگی تھی، بات سمجھنے کا سلیقہ تھا اور دینی شعور اس کی عمر سے کہیں بڑا محسوس ہوتا تھا۔
*میں نے محبت سے اس سے چند دینی سوالات کیے،میں نے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیوں پیدا کیا ہے،اس نے فوراً جواب دیا اللہ کی عبادت کے لیے،اس ایک جواب میں مجھے اس کی ماں کی تربیت نظر آئی، ماں نے اسے صرف ایک جواب یاد نہیں کروایا ہوگا بلکہ اس کے دل میں یہ بات بٹھائی ہوگی کہ زندگی کا اصل مقصد اللہ کو راضی کرنا ہے،میں نے پوچھا ہمارے نبی کون ہیں،اس نے کہا حضرت محمد ﷺ،یہ صرف ایک دینی معلومات کا جواب نہیں تھا، یہ اس ماں کی محنت کا ثبوت تھا جس نے اپنے بچے کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی پہچان اور محبت کی بنیاد رکھی،پھر میں نے پوچھا امی ابو سے کیسے بات کرنی چاہیے،بچے نے بڑی سادگی سے کہا ادب سے اونچی آواز میں نہیں، یہ جواب سنتے ہی محسوس ہوا کہ بچے کو ادب صرف بتایا نہیں گیا بلکہ گھر میں عمل کرکے دکھایا گیا ہے، کیونکہ بچہ سب سے پہلے ماں کے لہجے سے سیکھتا ہے کہ بڑوں سے کیسے بات کی جاتی ہے،میں نے پوچھا اگر کوئی تمہارے ساتھ برا کرے تو کیا کرو گے،کہنے لگا معاف کریں گے،یہ جواب بھی کسی کتاب کا جملہ محسوس نہیں ہوا یہ اس گھر کے ماحول کی جھلک تھی جہاں بچے کو بدلہ لینے سے پہلے معاف کرنا سکھایا جاتا ہے۔*
*لیکن مجھے مزید حیرت اس وقت ہوئی جب اچانک میرے فون سے اذان کی آواز آنے لگی، میں ابھی کچھ سمجھ پاتا کہ اس ننھے سے بچے نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ماما خاموش اذان ہو رہی ہے،میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہوگیا،اس کے اس چھوٹے سے جملے نے مجھے میرے اپنے ماضی کے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا، مجھے محسوس ہوا کہ میری اور اس بچے کی تربیت میں کتنا فرق ہے،آذان تو میں نے بھی سنی تھی، شاید اس نے بھی بہت مرتبہ سنی ہوگی، مگر اذان کے احترام کا یہ احساس اس کے اندر جس عمر میں پیدا ہو گیا تھا وہاں مجھے اپنی کمی محسوس ہوئی۔*
تب سمجھ آیا کہ تربیت صرف کتابیں پڑھا دینے کا نام نہیں ہے تربیت یہ ہے کہ بچے کو اذان سن کر خاموش ہونا بھی آتا ہو نماز کا وقت پہچاننا بھی آتا ہو بڑوں کا ادب کرنا بھی آتا ہو اور اللہ کے شعائر کا احترام بھی،اور یہاں پھر ایک ماں سامنے آتی ہے،وہ ماں جو شاید گھر کے معمولات میں اپنے بچے کو بار بار چھوٹی چھوٹی باتیں سکھاتی رہی ہوگی، اذان ہو تو خاموش رہنا ہے، نماز کا وقت ہو تو کھیل چھوڑ دینا ہے قرآن ہو تو ادب سے بیٹھنا ہے بڑوں کے سامنے آواز پست رکھنی ہے۔
بچے نے جو کچھ کہا وہ صرف اس کا علم نہیں تھا وہ اس کی ماں کے عمل کی جھلک تھی،ماں خود اذان کا احترام کرے گی تو بچہ سیکھے گا، ماں نماز کے وقت اپنے کام روک دے گی تو بچہ سمجھ جائے گا کہ نماز اہم ہے، ماں قرآن کو عزت دے گی تو بچے کے دل میں بھی قرآن کی عظمت پیدا ہوگی، ماں اپنے لہجے کو نرم رکھے گی تو بچے کی زبان میں بھی نرمی آئے گی،بچے کو تربیت دینے کا سب سے مؤثر طریقہ اسے بتانا نہیں بلکہ خود کرکے دکھانا ہے،اس لیے ماؤں سے ایک گزارش ہے اپنے بچوں کو صرف دینی باتیں یاد نہ کروائیں، ان باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ بچہ آپ کی بات بعد میں سنتا ہے آپ کا عمل پہلے دیکھتا ہے۔
آج اس ننھے سے بچے کے چند مختصر جواب اور اذان کے وقت اس کا وہ جملہ میرے لیے ایک سبق بن گیا،بچے کی زبان بول رہی تھی، مگر اس کے پیچھے ایک ماں کا کردار بول رہا تھا،واقعی ماں کے ہاتھ میں صرف ایک بچہ نہیں ہوتا ایک پوری نسل کی بنیاد ہوتی ہے،اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو ایسی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ ان کے بچے جہاں جائیں وہاں ان کی زبان سے ادب، ان کے کردار سے دین اور ان کے عمل سے اپنی ماں کی تربیت نظر آئے۔آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔

                 *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*