*کچھ منظر آنکھوں سے نہیں دل سے دیکھے جاتے ہیں۔*

کافی عرصہ گزر جانے کے بعد میرا ایک ایسے علاقے میں جانا ہوا جہاں زندگی کا ایک خوبصورت حصہ کبھی رمضان المبارک میں گزرا تھا وہی گلیاں، وہی راستے، وہی چہرے اور وہاں کے لوگوں کی وہ بے لوث محبت آج بھی میرے حافظے میں محفوظ تھی۔ اسی دوران ایک گھر میں ایک بوڑھی ماں سے ملاقات ہوئی۔ انہیں دیکھا تو چند لمحوں کے لیے جیسے وقت ٹھہر گیا۔ کبھی ان کا یہ عالم تھا کہ مکھی بھی ان کے کپڑوں پر نہیں بیٹھتی تھی، لباس کی صفائی، چہرے کی شگفتگی اور زندگی کی رونق ان کے وجود سے جھلکتی تھی، مگر آج وہی وجود وقت کی بے رحمی کا شکار تھا؛ جھکی ہوئی کمر، کانپتے ہوئے ہاتھ، لرزتی ہوئی زبان، چہرے پر عمر کی بے شمار شکنیں اور آنکھوں میں ایک ایسی خاموشی جس میں جانے کتنے برسوں کا درد دفن تھا انہیں دیکھ کر بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور دل نے سوال کیا کہ آخر ان کی اولاد کیسی ہے؟ ایسے لوگ جن کے پاس مال و دولت کی کوئی کمی نہیں، جن کے خزانوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں، جن کے گھروں میں آسائشوں کی کوئی حد نہیں، مگر ان کی اپنی ماں اس حال میں ہے کہ دیکھنے والا اپنے آنسو نہ روک سکے۔ پھر میں ان کے پاس بیٹھا تو انہوں نے اپنی کانپتی ہوئی زبان سے اپنے بیٹوں، بہوؤں، پوتوں اور پوتیوں کے حالات بیان کرنا شروع کیے۔ وہ بولتی رہیں اور میں سنتا رہا؛ کبھی کسی بیٹے کا شکوہ، کبھی بہو کی بے اعتنائی، کبھی پوتے پوتیوں کی بے رخی… ان کی آواز میں غصہ کم اور درد زیادہ تھا، شکایت کم اور تنہائی زیادہ تھی۔ ایک لمحے کے لیے دل نے کہا بددعا دے دوں مگر زبان خاموش رہی؛ دل دہلتا رہا اور پھر خود ہی پُرسکون ہوگیا، کیونکہ ماں کا دل عجیب ہوتا ہے، اسے توڑنے والے بھی اس کی اولاد ہوتی ہے اور پھر بھی وہ ان کے لیے بددعا کرتے ہوئے کانپتی ہے۔
میں ان کے سامنے بیٹھا سنتا رہا اور آنسو بے اختیار ان کے چکناچور وجود پر، ان کے کبھی خوبصورت رہے چہرے کے رخساروں سے گزرتے ہوئے، ان کے دامن میں گرتے رہے۔ شاید انہیں محسوس ہوگیا تھا کہ ان کا درد کسی نے صرف سنا نہیں بلکہ محسوس بھی کیا ہے۔ آخر میں انہوں نے اپنی کانپتی ہوئی آواز میں مجھ سے کہا مولانا میرے بیٹوں کو ماں کا مرتبہ بھی بتا دینا ان کے یہ الفاظ میرے دل میں اتر گئے وہ اپنے بیٹوں سے دولت نہیں مانگ رہی تھیں، جائیداد نہیں مانگ رہی تھیں، زیور نہیں مانگ رہی تھیں وہ صرف یہ چاہتی تھیں کہ ان کے بیٹے ماں کا مرتبہ سمجھ لیں۔ میں سوچتا رہا کہ شاید اس ماں کی سب سے بڑی محرومی غربت نہیں تھی، بلکہ یہ تھی کہ جنہیں اس نے زندگی بھر اپنا سمجھا، انہوں نے اسے اپنی زندگی میں غیر ضروری سمجھ لیا اے بیٹو اپنی ماؤں کو صرف اس وقت یاد نہ کرو جب ان کے جنازے کو کندھا دینا ہو، ان کے جیتے جی ان کا مقام پہچانو قرآن کہتا ہے: وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا۔ ماں وہ ہستی ہے جس نے تمہاری خاطر اپنی نیندیں قربان کیں، اپنی خواہشیں دفن کیں، تمہاری ہر تکلیف اپنے دل پر لی اور تمہیں زندگی کی پہلی خوشی سے لے کر آج تک دعاؤں میں رکھا جس ماں نے تمہیں چلنا سکھایا، اس کے بڑھاپے میں اس کا ہاتھ تھام لینا احسان نہیں، تمہاری ذمہ داری ہے جس نے تمہاری ضدیں برداشت کیں، اس کی کمزوریاں برداشت کرلو؛ جس نے تمہارے لیے راتوں کو جاگ کر دعائیں کیں، اس کے لیے دن میں چند لمحے نکال لینا اپنی خوش نصیبی سمجھو۔
اور یاد رکھو! ماں کے سر پر ہاتھ رکھنے کا وقت گزر جائے تو پھر ہاتھ صرف قبر کی مٹی پر رہ جاتا ہے آج اگر تمہاری ماں زندہ ہے تو اس کے پاس بیٹھ جاؤ، اس کی بات سنو، اس کے کانپتے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لو، اس کے چہرے پر مسکراہٹ لاؤ اور اسے یہ احساس دو کہ وہ تمہارے لیے بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے دنیا کی دولت، جائیداد، کاروبار اور آسائشیں سب ایک طرف، اور ماں کی دعا ایک طرف؛ نہ جانے کتنے لوگ خزانے رکھتے ہوئے بھی اس نعمت سے محروم ہیں اس بوڑھی ماں کے آخری الفاظ شاید صرف اس کے بیٹوں کے لیے نہیں تھے، وہ ہم سب کے لیے ایک سوال تھے مولانا میرے بیٹوں کو ماں کا مرتبہ بھی بتا دینا کاش اس سوال کا جواب اس کے بیٹے اپنی ماں کے جیتے جی سمجھ لیں اللہ تعالیٰ ہر ماں کے مقدر میں عزت، محبت، سکون اور خدمت گزار اولاد لکھ دے، اور ہمیں اپنی ماؤں کی قدر ان کے جانے سے پہلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

              *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*