*سہارنپور کی مسجد کے ملبے میں صرف دیواریں نہیں قانون بھی دفن ہوا ہے*

تاریخ کے سینے پر صدیوں سے قائم سہارنپور کی وہ تاریخی مسجد محض چونے، اینٹ اور گار کا ڈھانچہ نہیں تھی وہ اس خطے کی تہذیبی شناخت، مذہبی روایت اور تاریخی تسلسل کی ایک زندہ علامت تھی، اس کی ہر اینٹ اپنے وجود کی گواہی دے رہی تھی اور اس کی دیواریں گزرے ہوئے زمانوں کی خاموش تاریخ بیان کر رہی تھیں، مگر افسوس! جس ریاست میں قانون کی حکمرانی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہیں طاقت کے ایوانوں سے اگر کسی تاریخی عبادت گاہ کو قانونی تقاضوں اور عدالتی اصولوں کو نظرانداز کرکے مٹا دیا جائے تو سوال صرف ایک مسجد کا نہیں رہتا، سوال پورے Rule of Law کا بن جاتا ہے۔
جمہوری ریاست میں حکومت قانون سے بالاتر نہیں ہوتی بلکہ حکومت کا سب سے پہلا فرض ہی یہ ہے کہ وہ قانون کی پابندی کرے، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے اور کسی بھی اقدام سے پہلے قانونی اختیار، مقررہ طریقۂ کار، سماعت کے حق اور عدالتی نگرانی جیسے بنیادی اصولوں کو ملحوظ رکھے، کسی عمارت کو تاریخی یا مذہبی حیثیت حاصل ہو تو معاملہ مزید حساس ہو جاتا ہے، ایسی صورت میں انتظامی طاقت کا استعمال محض ایک دفتری حکم نہیں رہتا، بلکہ یہ آئینی اقدار، مذہبی آزادی، اقلیتی حقوق اور شہریوں کے قانون پر اعتماد کا امتحان بن جاتا ہے، اگر قانون موجود ہو مگر طاقتور اسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے، تو پھر کتابوں میں لکھا ہوا انصاف زندہ معاشرے میں محض ایک عبارت بن کر رہ جاتا ہے۔
اور اگر واقعی کسی عمارت کے بارے میں قانونی اعتراض موجود تھا تو راستہ قانون کی عدالت تھا، بلڈوزر کا راستہ نہیں، اختلاف کا فیصلہ ثبوت، سماعت اور عدالتی عمل سے ہونا چاہیے، طاقت کے زور پر نہیں، حکومت اگر اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین اور آئینی اصولوں کی پاسداری نہ کرے تو عام شہری سے قانون کی پابندی کا مطالبہ کس اخلاقی بنیاد پر کرے گی؟ ریاست کی طاقت اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ کمزور کی آواز دبا دے ریاست کی طاقت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ طاقتور اور کمزور دونوں کو ایک ہی قانون کے سامنے کھڑا کرے۔
تاریخ گواہ ہے کہ عمارتیں گرانا آسان ہے، مگر تاریخ کو نہیں گرایا جا سکتا، اینٹیں ملبے میں تبدیل کی جا سکتی ہیں، مگر صدیوں کی یادداشت کو بلڈوزر نہیں مٹا سکتا، اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار انہیں قانون، تاریخ اور جواب دہی سے بالاتر کر دیتا ہے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ حکومتیں عارضی ہوتی ہیں، مگر قانون اور تاریخ کی عدالت دیرپا ہوتی ہے۔
یہ کسی حکومت سے دشمنی کی بات نہیں؛ یہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کے بنیادی اصولوں کی بات ہے،اگر اقدام درست تھا تو اسے قانون کے کٹہرے میں ثابت کیا جائے، اور اگر قانون پامال ہوا ہے تو جواب دہی بھی ہونی چاہیے،کیونکہ جمہوریت میں حکومت عوام پر حکمرانی نہیں کرتی، آئین اور قانون کے تحت حکومت کرتی ہے۔
آج ملبے کا یہ منظر اقتدار کے ایوانوں سے صرف ایک سوال پوچھ رہا ہے،اگر قانون سب کے لیے ہے تو حکومت کے لیے کیوں نہیں؟اور یہی سوال وقت کے دامن میں محفوظ رہے گا، کیونکہ طاقت کے بل پر خاموش کرائی جانے والی آوازیں ختم نہیں ہوتیں وہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو جاتی ہیں ظلم کی رات کتنی ہی طویل ہو، قانون اور انصاف کی صبح کو ہمیشہ کے لیے قید نہیں کیا جا سکتا،مسجد کا ملبہ شاید خاموش ہے، مگر قانون کا سوال کل ابھی زندہ ہے۔

                 *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*