*اب ہم کسی کا ماں کو ایسا نہیں چھوڑیں گے جو سلطان صلاح الدین پیدا کر سکے۔*

تاریخ کے اوراق شاہد کہ جب ایک یہودی جنرل نے سلطان صلاح الدین ایوبی کی قوت اور مسلمانوں میں ان کی مقبولیت کو دیکھا تو اس نے یہ جملہ کہا تھا کہ اب ہم امت مسلمہ کی کسی ماں کو اس قابل نہیں چھوڑیں گے کہ وہ دوسرا صلاح الدین ایوبی پیدا کر سکے۔ آج یہ جملہ تاریخی طور پر ثابت نظر آ رہا ہے اور اس کی حقیقت ہمیں اپنے اردگرد صاف نظر آ رہی ہے۔ دشمن سمجھ چکا تھا کہ مسلمانوں کو اگر ہمیشہ کے لیے کمزور کرنا ہے تو ان کے سپاہیوں کو مارنے سے زیادہ ضروری ان ماؤں کو کمزور کرنا ہے جو صلاح الدین پیدا کرتی ہیں۔ کیونکہ صلاح الدین صرف ایک ماں کے بیٹے نہیں تھے بلکہ ایک ایسی تربیت کا نتیجہ تھے جس میں ایمان تھا علم تھا غیرت تھی امت کا درد تھا اور اللہ کی رضا کو زندگی کا مقصد سمجھنے کا جذبہ تھا۔
ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ہماری نسلوں کو آہستہ آہستہ ان کے اصل مقصد سے دور کیا جا رہا ہے۔ ہمارے بچوں کو ہر چیز سکھائی جا رہی ہے مگر دین کی غیرت نہیں سکھائی جا رہی۔ انہیں دنیا کے کامیاب لوگوں کے نام یاد ہیں مگر اپنے اسلاف کا علم نہیں۔ انہیں موبائل چلانا آتا ہے مگر قرآن سے تعلق کمزور ہے۔ انہیں فیشن کا علم ہے مگر حیا کا مطلب نہیں معلوم۔ انہیں دنیا میں آگے بڑھنے کی فکر ہے مگر آخرت میں کامیاب ہونے کی فکر نہیں ہے۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم خود بھی اپنے بچوں کو وہ ماحول نہیں دے رہے جس میں صلاح الدین جیسے کردار پیدا ہوتے ہیں۔ جس گھر میں ماں خود تربیت سے غافل ہو جائے وہاں نسلوں سے کردار کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔جس گھر میں ماں کھانا بناتے ہوئے بھی فیلم دیکھتی ہوں،ڈراماز دیکھتی ہوں،گانے سنتی ہوں،جو اپنے بچے کو دودھ پلاتے ہوئے،کانوں میں ایئر فون لگا کر پتہ نہیں کیا کیا سنتی ہو تو اس کا بچہ ایک ایکٹر تو ہو سکتا ہے لیکن صلاح الدین نہیں،یہی مقصد تھا اس یہودی جنرل کا جو ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں۔اللہ ہماری ماؤں کو توفیق عطا فرمائے آمین۔
کسی معمولی شخصیت کا نام سلطان صلاح الدین ایوبی نہیں اس غیرت مند مسلمان کا نام ہے جس کے پاس آ کر ایک یہودی لڑکی نے شکایت کی تھی صلاح الدین میں نے سنا ہے محمد ﷺ کا پیغام یہ ہے کہ کسی پر بھی ظلم اسلام کے چاہنے والے برداشت نہیں کرتے۔ایک یہودی نے میری عزت لوٹ لی اور تم اپنے گھر میں بیٹھے ہو،کیا تم وہ مسلمان نہیں جو عمر رضی اللہ عنہ تھے، کیا تم وہ عدل پسند انسان نہیں جس کا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام دیا ہے، یہودی لڑکی نے کہا صلاح الدین مجھے انصاف چاہیے،پھر تاریخ نے دیکھا کہ یہودی کو اس کے گھر سے نکال کر بیچ سڑک پر اس لڑکی کے سامنے گردن اڑا دی تھی،اور ایک تاریخی جملہ کہا تھا آج کے بعد کسی نے صنف نازک کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی دیکھا تو پورے یروشلم کو آگ لگا دوں گا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ ان کے پیچھے ایک ماں کی دعا تھی ایک گھر کی تربیت تھی علماء کی صحبت تھی دین کا شعور تھا اور امت کا درد تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ 1187ء میں حطین کے میدان میں صلیبی طاقت کو شکست ہوئی اور بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھ واپس آیا۔ ہمیں جہاں صلاح الدین کی تلوار کو یاد رکھنا چاہیے،وہیں صلاح الدین کو صلاح الدین بنانے والی ماں کو بھی یاد رکھنا چاہیے بلکہ اس تربیت کو تلاش کرنا چاہیے جس نے صلاح الدین پیدا کیا تھا۔ آج اگر ہماری مائیں اپنے بچوں کو صرف اچھا روزگار اور بڑا عہدہ حاصل کرنے کی تربیت دیں گی تو ہمیں صرف ملازم اور افسر ملیں گے لیکن اگر وہ ایمان علم کردار غیرت اور مقصد کے ساتھ تربیت کریں گی تو شاید ہماری نسل میں پھر کوئی صلاح الدین پیدا ہو جائے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری مائیں دوبارہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اپنے بچوں کو صرف یہ نہ کہیں کہ بیٹا بڑا ہو کر بہت پیسہ کمانا بلکہ یہ کہیں کہ بیٹا ایسا انسان بننا کہ اللہ تم سے راضی ہو جائے۔ انہیں صرف دنیا کی کامیاب شخصیات کی کہانیاں نہ سنائیں بلکہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اپنے عظیم اسلاف کی زندگیاں سنائیں۔ انہیں بتائیں کہ مسلمان کی پہچان صرف اس کی دولت نہیں بلکہ اس کا کردار ہے۔ صرف اس کی طاقت نہیں بلکہ اس کا ایمان ہے۔ صرف اس کی کامیابی نہیں بلکہ اس کا مقصد ہے۔ کیونکہ اگر ایک ماں نے اپنے بچے کے دل میں اللہ کا خوف اور دین کی محبت پیدا کردی تو وہ بچہ بڑا ہو کر صرف اپنے خاندان کا نہیں بلکہ پوری امت کا سرمایہ بن سکتا ہے۔
اس لیے آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم دوسرا صلاح الدین کہاں سے لائیں گے۔ جواب بہت واضح ہے کہ صلاح الدین کسی بازار سے نہیں ملے گا اور نہ کسی فیکٹری میں تیار ہوگا۔ صلاح الدین ایک ماں کی گود سے نکلے گا۔ ایک ایسے گھر سے نکلے گا جہاں قرآن کی تلاوت ہوگی جہاں نماز کی پابندی ہوگی جہاں حلال و حرام کا فرق بتایا جائے گا جہاں بچوں کو مقصد دیا جائے گا اور جہاں انہیں یہ بتایا جائے گا کہ تم صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری کے ساتھ دنیا میں آئے ہو۔ اگر ہم نے اپنی ماؤں کی گود کو دوبارہ تربیت گاہ بنا دیا تو تاریخ دوبارہ ایسے کردار پیدا ہوتے دیکھ سکتی ہے اور اگر ہم نے اپنی نسلوں کی تربیت دوسروں کے ہاتھ میں چھوڑ دی تو پھر ہم صلاح الدین ایوبی کے قصے تو پڑھتے رہیں گے لیکن دوسرا صلاح الدین کبھی پیدا نہیں ہوگا۔

                  *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفی✍️*
https://whatsapp.com/channel/0029VbDXe5y1dAw0srKp8e0j