اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں، مگر ان میں ایک عظیم نعمت سلامتِ قلب و صدر ہے، کیونکہ حقیقی کامیابی ظاہری مال و منصب میں نہیں بلکہ پاکیزہ دل میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ۝ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ جس دن نہ مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے، مگر وہ شخص فائدہ پائے گا جو اللہ کے پاس سلامت دل لے کر آئے گا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہوجائے تو پورا جسم درست ہوجاتا ہے، اور جب وہ خراب ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے، خبردار! وہ دل ہے۔‘‘ لہٰذا دل کی اصلاح ہی انسان کی حقیقی اصلاح ہے۔ اہلِ ایمان کے لیے قرآن کی دعا ہے وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بے شک تو نہایت شفیق، بہت رحم فرمانے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تم کامل ایمان والے نہیں بنو گے جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرو؛ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے اختیار کرو تو تمہارے درمیان محبت پیدا ہوجائے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔ اسلام دلوں میں محبت، خیرخواہی اور الفت پیدا کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور رنجش، بغض اور انتقام سے بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ اسی طرح فرمایا الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ۔ جو خوش حالی اور تنگ دستی دونوں حالتوں میں خرچ کرتے ہیں، غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ طاقتور وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے، بلکہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ سلامتِ صدر کے بڑے دشمن حسد، بدگمانی اور غیبت ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس کے ذریعے اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے... اور اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو، بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ اور فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے... اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ زبان کی حفاظت بھی سلامتِ صدر کا اہم ذریعہ ہے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور قرآنِ کریم کا عظیم اصول ہے وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ۝٣٤ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ۝٣٥ اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوسکتی، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو سب سے بہتر ہو، پھر اچانک وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، ایسا ہوجائے گا جیسے گہرا دوست ہو؛ اور یہ صفت انہی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں۔ سلامتِ صدر کے لیے چند عملی اصلاحی نکات یہ ہیں روزانہ اپنے دل کا محاسبہ کریں کہ آج کسی کے لیے حسد، بغض، کینہ یا بدگمانی تو پیدا نہیں ہوئی؛ جس شخص سے ناراضی ہو اس کے لیے کم از کم ایک مرتبہ دل سے دعا کریں؛ کسی کی نعمت یا کامیابی دیکھ کر ما شاء اللہ، اللہ اسے مزید عطا فرمائے کہنے کی عادت بنائیں؛ کسی کے بارے میں منفی بات سنیں تو فوراً یقین نہ کریں بلکہ حسنِ ظن اختیار کریں اور تحقیق کے بغیر فیصلہ نہ کریں؛ غصے کی حالت میں فوری جواب دینے، پیغام بھیجنے یا فیصلہ کرنے سے رک جائیں اور سکون کے بعد گفتگو کریں؛ غیبت کی مجلس میں خاموش رہیں، موضوع بدل دیں یا ممکن ہو تو مجلس چھوڑ دیں؛ کسی کی لغزش کو بار بار یاد کرنے کے بجائے معافی اور اصلاح کا راستہ اختیار کریں؛ اگر کسی سے دل آزاری ہوئی ہو تو پہل کرتے ہوئے معذرت اور صلح میں پہل کریں؛ دوسروں کی عزت، کامیابی اور صلاحیت کو اپنے مقام کے لیے خطرہ نہ سمجھیں؛ اختلاف کو شخصی دشمنی نہ بنائیں، بلکہ مسئلے کو شخص سے الگ رکھ کر انصاف کے ساتھ گفتگو کریں؛ کسی کی اصلاح کرنی ہو تو تنہائی میں خیرخواہی سے کریں، سب کے سامنے رسوا نہ کریں؛ سوشل میڈیا پر کسی خبر، الزام یا تبصرے کو تحقیق کے بغیر آگے نہ بڑھائیں، کیونکہ بدگمانی اور غیبت آج صرف مجلسوں تک محدود نہیں بلکہ پیغامات اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی پھیلتی ہے؛ اور ہر رات سونے سے پہلے دل کو صاف کرکے یہ عہد کریں کہ کسی مسلمان کے لیے دل میں مستقل کینہ نہیں رکھنا۔ اگر دل میں رنجش باقی ہو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ الْغِلِّ وَالْحَسَدِ وَالْبَغْضَاءِ، اے اللہ! میرے دل کو کینہ، حسد اور بغض سے پاک فرما۔ پس سلامتِ صدر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ظلم اور باطل کے سامنے خاموش ہوجائے، بلکہ یہ ہے کہ حق کے لیے مضبوط رہتے ہوئے دل کو انتقام، حسد اور کینہ کا غلام نہ بننے دے، حق میں مضبوط، اخلاق میں نرم، اصول میں ثابت قدم اور دل میں پاکیزہ رہنا ہی اسلامی کردار کی خوب صورتی ہے۔ ایک پاکیزہ دل پاکیزہ خاندان، صالح نسل اور پُرامن معاشرے کی بنیاد بنتا ہے، جبکہ کینہ اور حسد گھر، خاندان اور معاشرے میں انتشار پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنے دلوں کا محاسبہ کرتے ہوئے ناراضیوں کو ختم، رشتوں کو جوڑ، دوسروں کی کامیابی پر خوش اور برائی کا جواب بھلائی سے دینا چاہیے؛ کیونکہ سلامتِ صدر انسان کو خود بھی سکون دیتی ہے اور دوسروں کے لیے بھی محبت، خیر اور امن کا ذریعہ بناتی ہے۔
مولانا پرویز رسول اشاعتی کشمیری