"غیر محرم ہٹ جائیں...! غیر محرم ہٹ جائیں...! غیر محرم ہٹ جائیں...!"
یکایک کانوں میں پڑنے والی اس غیر مانوس آواز نے میرا سارا دھیان اپنی طرف کھینچ لیا۔
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو منظر کچھ عجیب سا تھا۔ منادی کرنے والا اتنی بلند آواز سے یہ صدا لگا رہا تھا کہ اسے سنتے ہی مردوں کا ایک بڑا ہجوم ایک طرف ہٹ گیا۔ پھر چار سے چھ افراد نے ایک بڑی چادر کا ہر کونا تھام لیا، تاکہ قبر کو مکمل طور پر ڈھانپ دیا جائے۔
چونکہ میرا گھر قبرستان سے متصل تھا اور چوتھی منزل پر ہونے کی وجہ سے سارا منظر آسانی سے نظر آ رہا تھا، اگرچہ ایک عورت ہونے کے ناتے قبرستان کے مناظر کو اس طرح دیکھتے رہنا مناسب نہ تھا، لیکن اس اجنبیت اور تجسس نے مجھے یہ منظر دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔
حیرت تو مجھے تب ہوئی جب مکمل طور پر بند اور چادر سے ڈھکے ہوئے تابوت کو اس بڑی چادر کے سائے میں نہایت احترام کے ساتھ لایا گیا۔
احتیاط کا عالم یہ تھا کہ کفن میں لپٹی ہوئی میت کو بھی لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رکھتے ہوئے، اسی چادر کے احاطے میں، محرم مردوں نے کامل پردے اور احترام کے ساتھ قبر میں اتارا۔
اس قدر پردہ نشینی...!
 آخر یہ میت کس کی تھی...؟
اتنا احترام...؟ اس قدر تحفظ...؟
جی ہاں...!
یہ بنتِ حوا تھی...
ایک مسلم خاتون
!
جس کی روح بھی پرواز کر جائے، تب بھی اس کے رب نے اس کے لیے ایسا ستر اور احترام مقرر فرمایا ہے جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔
لیکن افسوس اور لمحۂ فکریہ تو تب مقامِ عبرت بنتا ہے، جب بعض مسلمان خواتین حالتِ زندگی میں اپنے حواس اور اختیار کے باوجود پردے کو بوجھ یا رکاوٹ سمجھنے لگتی ہیں، اور نامحرموں کے سامنے اپنی زینت کی نمائش کرتی نظر آتی ہیں۔
جس عورت کی میت تک کو نامحرموں کی نگاہوں سے بچانے کا اتنا اہتمام کیا جاتا ہے، کیا وہی عورت زندگی میں اپنی عزت، ستر اور حیا کی حفاظت کی زیادہ محتاج نہیں؟
کاش! ہم زندہ رہتے ہوئے بھی اس پردے اور حیا کی قدر سمجھ سکیں، جس کی حفاظت کا حکم اسلام نے ہمیں زندگی میں بھی دیا ہے اور موت کے بعد بھی۔
کاش ہم سمجھ سکیں کہ پردہ پابندی نہیں، عزت ہے؛ حیا کمزوری نہیں، حفاظت ہے؛ اور عورت کی حرمت
زندگی اور موت، دونوں حالتوں میں قابلِ احترام ہے۔

ازقلم: زا-شیخ