حسن بن زیاد لؤلؤی کہتے ہیں کہ میرے گھر کے قریب ایک پاگل عورت رہتی تھی، جس کا نام امّ عمران تھا، ایک آدمی اس کے قریب سے گزرا اور اس سے کچھ کہا، پاگل عورت نے کہا: يا ابن الزَّانِيَيْنِ (اے دو زنا کرنے والوں کے بیٹے) اتفاق سے قاضی ابن ابی لیلٰی نے سن لیا۔ انھوں نے حکم دیا کہ اس کو پکڑ لاؤ۔ ابن ابی لیلٰی نے اس کو مسجد میں داخل کراکر دو حدیں لگوائیں، ایک ماں پر تہمت لگانے کی، دوسرے باپ پر تہمت لگانے کی، امام صاحب کو معلوم ہوا تو فرمایا: ابن ابی لیلٰی نے اس فیصلے میں چھ غلطیاں کی ہیں:
 * اول: یہ کہ وہ مجنونہ تھی اور مجنونہ پر حد نہیں ہے۔
 * دوسری: مسجد میں حد لگوائی اور حد مسجد میں نہیں لگائی جاتی۔
 * تیسری غلطی: یہ کی کہ اسے کھڑی کر کے حد لگوائی جب عورتوں پر حد بیٹھ کر لگائی جاتی ہے۔
 * چوتھی: یہ کہ اس پر دو حدیں لگوائیں؛ جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی پوری قوم پر تہمت لگائے تو اس پر ایک حد لگائی جاتی ہے۔
 * پانچویں غلطی: یہ کی کہ حد لگانے کے وقت اس عورت کے ماں اور باپ موجود نہیں تھے؛ حالانکہ ان کا حاضر ہونا ضروری تھا۔
 * چھٹی غلطی: یہ کی کہ دونوں حدوں کو جمع کر دیا؛ حالانکہ جس پر دو حد واجب ہوں جب تک پہلی خشک نہ ہو جائے دوسری نہیں لگا سکتے۔
یہ فتویٰ ابن ابی لیلٰی تک پہنچ گیا، انھوں نے امیر سے شکایت کر دی۔ امیر نے امام صاحب کو فتویٰ دینے سے روک دیا۔ اس کے کچھ دنوں کے بعد امیرِ کوفہ عیسیٰ بن موسیٰ کو کچھ مسائل پیش آئے— امام صاحب سے وہ مسائل پوچھے گئے۔ آپ نے جواب دیا— جواب امیر کو پسند آیا۔ اس کے بعد اس نے امام صاحب کواجازت دیدی اور امام صاحب اپنی مسند درس پر رونق افروز ہوۓ 
تذکرۃ النعمان صفحہ (٢٣٤)