اس جہاں کو چھوڑ کر سلمان رخصت ہو گئے

ماسٹر اَصْحَاب کے ارمان رخصت ہو گئے

باپ ماں بھائی بہن اور سب کو نالاں چھوڑ کر

زندگی اور علم و فن کے سارے میداں چھوڑ کر

آہْ پیارے حافظِ قرآن رخصت ہو گئے

بستی کٹہل باری میں ہر کوئی ہے ماتم کناں

مدرسہ دھنسونا پھلواری میں ہے آہ و فغاں

کتنے پیارے با ادب انسان رخصت ہو گئے

اہلِ خانہ میں ہے غم کا اک سمندر آج کل

آنکھیں ڈھونڈیں گی انہیں، گھر کا ہے منظر آج کل

گھر سے پیارے ایسے اک ذیشان رخصت ہو گئے

ہم دعا گو ہیں، خدا جنت میں دے اعلیٰ مقام

ان کے سینے میں تیرا محفوظ ہے نورِ کلام

کہہ رہا ہے ہر کوئی سلطان رخصت ہو گئے

اے منور! صبر کر لے ، ہے یہ رب کا فیصلہ

جس کو چاہے وہ بلالے، ہے یہ اس کا سلسلہ

محفلِ سلماں سے اک مہمان رخصت ہو گئے