ابو ولید طیالیسی سے روایت ہے کہ ضحاک شاری کوفہ آیا اور امام صاحب سے کہا توبہ کرو امام صاحب نے فرمایا کس چیز سے اس نے کہا حکم کو جائز قرار دینے سے امام صاحب نے اس سے فرمایا تو مجھے قتل کرے گا یا مناظرہ اس نے کہا مناظرہ تو امام صاحب نے فرمایا اگر کسی چیز میں ہمارا تمہارا اختلاف ہو تو فیصلہ کون کرے گا اس پر ضحاک نے کہا تم جس کو چاہو فیصل بنا لو امام صاحب نے اس کے ساتھیوں میں سے ایک شخص سے کہا بیٹھ جاؤ جس چیز میں ہمارا اختلاف ہو تم فیصلہ کرنا پھر ضحاک شاری سے فرمایا میرے اور اپنے درمیان اس کے حکم ہونے پر راضی ہو اس نے کہا تو امام صاحب نے فرمایا پھر تو تم نے خود ہی تحکیم کو جائز قرار دے دیا اس پر ضحاک ہکا بکا رہ گیا_ 
(تذکرۃالنعمان صفحہ٢٣٦)