سنو! سنو!!
اپنے علم سے فائدہ اٹھائیے!
(ناصرالدین مظاہری)
حضرت فضیل بن عیاضؒ طریقت کے پیشوا ہیں، ان کی زندگی کا وہ حصہ جو راہِ خدا میں بسر ہوا، وہ قیامت تک کے لوگوں کے لیے راہنما اور راہبر کی حیثیت رکھتا ہے۔
حضرت فضیل بن عیاضؒ کی زندگی سیرتِ رسول اور اقوالِ رسول سے عبارت ہے۔ ان کی باتیں ہیرے اور جواہرات کے مانند نہایت قیمتی ہوتی ہیں، اسی لیے بہت سے صالحین نے ان کے اقوال کو جمع کرکے بعد والوں کے لیے محفوظ کردیا ہے۔ انہی کا ایک مقولہ ہے کہ:
’’جس کی عقل بڑھادی جاتی ہے، اس کا رزق کم کردیا جاتا ہے۔‘‘
یہ حقیقت ہے، دولت کا تعلق عقل سے نہیں، قسمت سے ہے۔ روزی دینے والی ذات بے شک اللہ تعالیٰ کی ہے۔
کس کو کتنا رزق دینا ہے، یہ الٰہی فیصلوں پر منحصر ہے۔ ہم دن رات ایک کردیں، لیکن ملنا اتنا ہی ہے جتنا تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے۔
اپنے گردوپیش میں نظر ڈالئے تو آپ کو دو قسم کے لوگ دکھائی دیں گے۔ ایک قسم وہ ہوگی جو ہاتھ پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے، لیکن قسمت اور نصیبہ کی بات ہے کہ ان کے گھر میں دولت کی ریل پیل ہے، وہ سورہے ہوتے ہیں اور مالداری کا تناسب بڑھتا رہتا ہے۔ ایک وہ طبقہ ہے جو خون پسینہ ایک کردیتا ہے، دن رات محنت اور مشقت کرتا ہے، ریلوے اسٹیشنوں پر قلی بنا ہوا ہے، بس اڈوں پر حمالی کررہا ہوتا ہے، سڑکوں پر رکشہ کھینچ رہا ہوتا ہے، ملاحی اور فلاحی کررہا ہوتا ہے، نجاری اور صناعی میں مصروفِ عمل ہے، خیاطی اور خبازی نے اس کی کمر میں درد پیدا کردیا ہے، اس کے چہرے پر قبل از وقت جھریاں پڑچکی ہیں، اس کی پیشانی پر لکیریں نمودار ہوکر اس کے بڑھاپے کی پیشین گوئی کررہی ہیں، لیکن اسے ملتا کیا ہے؟
جی ہاں! رات بھر جاگنے، پندرہ پندرہ گھنٹے کی سخت اور کڑی محنت کے بعد اتنے روپے بھی نہیں ملتے کہ اس کے گھر میں چند یوم کا سکون میسر ہوجائے، اس کے اہلِ خانہ کو اچھی غذا اور اچھا علاج میسر ہوجائے۔
ریڑھ ایک عضو ہے، یہ عضو ہر جاندار اور غیر جاندار کے لیے نہایت اہم ہے۔ جو جسم اس عضو سے محروم ہوا، وہ اپاہج ہوگیا۔ تعلیم بھی ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے، یہ دولت جس معاشرہ کو حاصل ہوگئی، وہ معاشرہ ترقی کرگیا۔ یہاں میں تعلیمِ دینی یا تعلیمِ عصری کی بات نہیں کررہا ہوں، تعلیم اپنے آپ میں ایک شرف اور بزرگی رکھتی ہے۔ کوئی بھی تعلیم ہو، جہالت سے بہتر ہے۔ کوئی افسر بغیر اعلیٰ تعلیم کے افسر نہیں بنتا، جس کی تعلیم جتنی زیادہ ہوتی ہے، وہ اتنے ہی بلند مقام پر فائز ہوتا ہے۔
جہالت تو صرف سیاست تک محدود ہے، سیاست میں تعلیم کی کوئی قید اسی لیے نہیں رکھی گئی، کیونکہ سیاست تو برسات کے مینڈکوں کی طرح ہوتی ہے، جو وقت وقت پر اپنے جوہڑوں، تالابوں اور نالوں سے نکلتے ہیں، کچھ دیر ٹرٹر کرتے ہیں اور واپس اپنے نالوں اور پرنالوں میں گم ہوجاتے ہیں۔
جی ہاں سیاست کو آج کاروبار بنالیا گیا ہے، جو جتنا جھوٹ بول سکے، جتنا لڑا سکے، جتنے زہریلے بیان دے سکے، جس کے بیانوں سے آگ لگ جائے، ماحول بدل جائے، حالات خراب ہوجائیں، وہ سب سے کامیاب سیاست دان تصور کیا جاتا ہے۔ پہلے زمانے میں سیاست دان ایماندار ہوا کرتے تھے، امانت دار ہوا کرتے تھے، خوددار ہوا کرتے تھے، ہمدرد اور غیور ہوا کرتے تھے، ملت اور ملک کا کام کرنے کے لیے وہ اپنے مال اور دولت کو قربان کردیا کرتے تھے۔ اب مال پانے اور دولت کمانے کے لیے سیاست میں کودا جاتا ہے، جو ملک کو جس قدر لوٹ سکے، کھسوٹ سکے، اپنے مالیاتی نظام میں بڑھوتری کرسکے، وہی سب سے کامیاب نیتا مانا جاتا ہے۔
نیتا کی نیت بدل گئی ہے، نیتا کا نام بدنام ہورہا ہے، نہ نیت اچھی، نہ نیتی اچھی، نہ نیتا اچھا۔ ایک دو نہیں، سیکڑوں کیس، جرائم اور کرائم کے باوجود نیتا کی صحت پر کوئی فرق اور اثر نہیں پڑتا، جب کہ افسران کو دیکھئے، اگر کسی غلط کام میں ملوث پایا گیا تو اس کی پوری ساکھ، اس کی پوری خدمات، اس کا پورا بیچ اور اس کا پورا نظام متاثر ہوکر رہ جاتا ہے۔
جی ہاں! آپ روز ہی دیکھتے ہیں، گندی دیوار پر گندگی لگی ہو تو اس پر کوئی دھیان نہیں دیتا، لیکن خوبصورت اور صاف شفاف شیشے پر ایک نقطہ بھی نظر آتا ہے۔
نیک اور دیانت دار افسران تاحیات ملک کے وفادار ہوتے ہیں، وہ ملک کے لیے صبح کرتے ہیں، ملک کے لیے شام کرتے ہیں، ان کا جینا اور مرنا ملک کے لیے ہوتا ہے، ان کا چین اور ان کا سکون ملک کے لیے ہوتا ہے اور جب تک قویٰ کارآمد ہوتے ہیں، وہ ملک کی خدمات پوری دلچسپی کے ساتھ کرتے ہیں، جب کہ نیتا برسات کے بادلوں کی طرح ہوتے ہیں، جو گرجتے کہیں ہیں، برستے کہیں اور ہیں، جو کہتے کچھ ہیں، کرتے کچھ اور ہیں، جو دیکھتے کہیں ہیں، سنتے کسی اور کی ہیں، جن کی نیت سے نیتی تک سب کچھ عوام کی نظروں میں مخدوش ہوچکا ہے۔ اس لیے آج خوددار اور غیور انسان نیتا نہیں بننا چاہتے، کیونکہ ایماندار اور امانت دار نیتا زندگی کی مین اسٹریم میں دو دن بھی نہیں گزار سکتا۔
جو لوگ اپنی عقل کا استعمال کرتے ہیں، وہ دنیا میں خوشبو کی طرح چمکتے ہیں، ان کے جسم محفوظ اور ان کی خوبصورتی گزرتے وقت کے باوجود بڑھتی محسوس ہوتی ہے، جب کہ جو لوگ جسمانی محنت کرتے ہیں، ان کے قویٰ اگرچہ مضبوط ہوتے ہیں، لیکن بہت مشکل سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ جو لوگ جسم کا استعمال کم اور دماغ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں، اُن دونوں سے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جسم دیا ہے، دماغ دیا ہے، عقل اور فہم دیا ہے۔ ہم اپنے جسم کا استعمال کریں اور دماغ کا استعمال نہ کریں تو رسوائی ہوگی، مقصد میں ناکامی ہوگی۔ اس لیے ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک ایک نعمت کی قدر کریں، ساتھ ہی اس کا بہترین استعمال بھی کریں۔
آنکھیں ایک نعمت ہیں، جن سے ہر چیز دیکھی جاسکتی ہے، دماغ ایک نعمت ہے، جس سے ہر چیز سوچی جاسکتی ہے، جسم ایک نعمت ہے، جس کو کسی بھی کام میں لگایا جاسکتا ہے، لیکن اگر آنکھوں سے غلط دیکھا جائے، کانوں سے غلط سنا جائے، زبان سے غلط بولا جائے، دماغ سے غلط سوچا جائے، پیروں سے غلط چلا جائے، ہاتھوں سے غلط کیا جائے تو آپ یقین کیجیے، یہ سبھی چیزیں بہت جلد مضمحل، کمزور اور ناکارہ ہوجائیں گی۔
جس طرح ویران عمارتیں جلدی گر جایا کرتی ہیں، ویران قلوب جلدی مر جایا کرتے ہیں، دماغ بغیر استعمال کے بے کار ہوجاتا ہے، جسم بغیر حرکت و عمل کے بیمار ہوجاتا ہے۔ ہمارا علم بھی ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اس کا بہترین استعمال کیا جائے، جو نور آپ نے حاصل کیا ہے، اس سے تاریک گوشوں میں روشنی کی جائے، جہالت کا خاتمہ کیا جائے، چراغوں سے چراغ جلائے جائیں۔
اگر اس علم سے نہ خود فائدہ اٹھایا گیا اور نہ دوسروں کو فائدہ پہنچایا گیا تو پھر حضرت فضیل بن عیاضؒ ہی کا قول ہے: ’’اگر تمہارا علم تمہیں نفع نہ پہنچائے تو وہ تمہیں ضرر اور نقصان پہنچائے گا۔‘‘