سنو سنو!!
چہرے کے پیچھے چھپا چہرہ
(ناصرالدین مظاہری)
کتنے ہی ایسے ظالم اور بدخواہ لوگ ہیں جنہیں تم اپنا دوست اور محبوب سمجھ کر اپنے ساتھ رکھتے ہو، تم ان کے لیے بھلائی چاہتے ہیں،تم ان کے لئے نیک دعائیں نیک تمنائیں رکھتے ہوکیونکہ تمہارا دل شیشے کے مانند صاف ستھرا ہے مگر وہ تمارے لیے تباہی اور بربادی کے تانے بانے بنتا ہے، تمہارا بدخواہ اور طوطا چشم ہے، اس کے پاس اتنے رنگ ہیں کہ گرگٹ اس کی شاگردی اختیار کرتا ہے، تم ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ لینے کا گناہ کرتے ہو ، سادگی یقینا اچھی چیز ہے مگر اتنی بھی نہیں کہ مندر کے گھنٹے کی طرح ہر کوئی بجا جائے ، ہرکوئی دھوکہ دے جائے، ہرکوئی ڈس لے۔مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا۔" تم مؤمن تب ہو جب نہ دھوکہ دو نہ دھوکہ کھاؤ۔تم جس کے اپنی جان اور اپنا مال نثار اور نچھاور کرتے ہو وہی تمہارا دشمن جان ہے ۔
جب وہ تمارے گھر آتا ہے تو اس کے چہرے پر مصنوعی خوشی اور مسکراہٹ ہوتی ہے، لیکن جب تم سے دور ہوتا ہے تو تمارے ہی خلاف سازشوں کی تلوار میان سے نکال لیتا ہے۔تمہارے پیچھے اپنے دانتوں کو تیز کرتا ہے تاکہ تمہارے نرخرے پر اپنے دانتوں کو جماسکے، وہ وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو ۔ وہ وہ ہے جو تم نہیں سمجھتے ہو۔
عَدُوٌّ رَاحَ فِي ثَوْبِ الصَّدِيقِ
شَرِيكٌ فِي الصَّبُوحِ وَفِي الْغَبُوقِ
لَهُ وَجْهَانِ ظَاهِرُهُ ابْنُ عَمٍّ
وَبَاطِنُهُ ابْنُ زَانِيَةٍ عَتِيقِ
يُسِرُّكَ مُعْلِنًا وَيَسُوءُ سِرًّا
كَذَاكَ يَكُونُ أَبْنَاءُ الطَّرِيقِ
دشمن دوست کا لباس پہن کر آ گیا ہے؛ ظاہر میں قرابت دار، مگر باطن میں کچھ اور؛ سامنے خوش کرتا ہے اور پیٹھ پیچھے نقصان پہنچاتا ہے۔
کاش انسان اپنے دشمن کو سونگھ کر پہچان سکتا، تاکہ اسے معلوم ہوپاتا کہ کون اس کا خیرخواہ ہے اور کون اسے ہلاکت کے راستے پر ڈالنے والا ہے۔کون اس سے محبت کرتا ہے اور کون اس سے حسد اور جلن کی تپش میں مرغ بسمل ہے، کون اپنی مسکان و مسکراہٹ کے پیچھے زہریلے سانپ کا زہر رکھتا ہے۔ یاد رکھیں اکثر زہریلی چیز کا ظاہر بڑا دلکش ہوتا ہے مگر اس باطن ایسا ہوتا کہ اس کا ڈسا ہوا پانی نہیں مانگ پاتا ہے۔
دوست با من دشمن و با دشمن من گشته دوست
هر که با من دوست باشد دشمن جان من اوست
تم جسے اپنا دوست سمجھتے ہو وہی تمہارا دشمنِ جان ہے"
آپ کو قدرت نے انسان بنایا ہے، مگر اگر آپ چاہیں تو کوے جیسی ذہانت، لومڑی جیسی چالاکی، چمگادڑ جیسی سماعت، عقاب جیسی بصیرت، کتے جیسی قوتِ شامہ، بلی جیسی قوتِ لامسہ، شیر جیسی جرأت، اونٹ جیسی برداشت، ہاتھی جیسی یادداشت، چیونٹی جیسی محنت و نظم، شہد کی مکھی جیسا تعاون اور ڈولفن جیسی معاملہ فہمی بھی اپنے اندر پیدا کرسکتے ہیں۔
قدرت نے جانوروں کو الگ الگ کمالات دیے ہیں، مگر انسان کو سیکھنے، سمجھنے، اختیار کرنے اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت دے کر سب سے ممتاز بنایا ہے۔
ہر ستارے کے آگے ایک ستارہ ہے،
ہر آسمان کے آگے ایک آسمان ہے،
ہر زمین کے نیچے ایک زمین ہے۔
بالکل اسی طرح اکثر چہروں کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی چہرہ چھپا ہوا ہے۔ جو چہرہ تمہیں دکھائی دیتا ہے، ضروری نہیں کہ وہی اس کی اصل پہچان ہو۔ بعض چہرے مسکراہٹ اوڑھے ہوتے ہیں، بعض محبت کا لباس پہنے ہوتے ہیں، بعض خیرخواہی کے الفاظ بولتے ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک ایسا چہرہ چھپا ہوتا ہے جسے پہچاننے میں وقت لگتا ہے۔
منافقت اور منافق ایسی چیزیں ہیں کہ جلدی سمجھ میں نہیں آتیں، اور جب سمجھ میں آتی ہیں تو اکثر سمجھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
پتھر تو ہزاروں نے مارے تھے مجھے لیکن
جو دل پہ لگا آ کر اک دوست نے مارا
(تین ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)