مہکتی کتابیں:
کتاب کا نام: الجامع الصغير في أحاديث البشير النذير
مصنف کا نام : امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی الشافعی رحمہ اللہ (849ھ – 911ھ)
ترتیب: باعتبار حروفِ تہجی
ناشر: دار الكتب العلمية، بیروت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجامع الصغير في أحاديث البشير النذير امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی نہایت مشہور، مقبول اور مفید حدیثی تصنیف ہے۔ امام سیوطیؒ نے اپنی وسیع حدیثی کتاب جمع الجوامع سے احادیثِ قولیہ کا ایک منتخب مجموعہ تیار کیا اور اسے اختصار و سہولت کے ساتھ الجامع الصغير کے نام سے مرتب کیا۔ اسی لیے یہ کتاب اپنے نام کی طرح حجم میں چھوٹی، مگر علمی مواد میں نہایت بڑی ہے۔
اس کتاب کی سب سے نمایاں خوبی اس کی الف بائی ترتیب ہے۔ امام سیوطیؒ نے احادیث کو ان کے ابتدائی الفاظ کے اعتبار سے حروفِ تہجی پر مرتب کیا، جس کی وجہ سے کسی حدیث کو تلاش کرنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔ ہر حدیث کے آخر میں امام سیوطیؒ نے اس کے مخرج کے لیے مخصوص رموز بھی استعمال کیے ہیں، جن کی تفصیل کتاب کے آغاز میں دی گئی ہے۔
کتاب میں عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات، آداب، فضائل، ترغیب و ترہیب اور زندگی کے بے شمار پہلوؤں سے متعلق احادیث جمع کردی گئی ہیں۔ یہی جامعیت اسے طلبہ، علماء، خطباء، واعظین اور حدیث سے شغف رکھنے والے عام قارئین کے لیے نہایت کارآمد بناتی ہے۔
اس کتاب کا ایک بڑا امتیاز یہ بھی ہے کہ امام سیوطیؒ نے احادیث کے مصادر کی طرف مختصر رموز کے ذریعے رہنمائی فرمائی ہے؛ مثلاً "خ" سے بخاری، "م" سے مسلم وغیرہ۔ اس اختصار نے کتاب کو ایک ایسا حدیثی ذخیرہ بنا دیا ہے جس میں کم سے کم جگہ میں زیادہ سے زیادہ مواد جمع ہوگیا ہے۔
البتہ الجامع الصغير میں احادیث کے درجات یکساں نہیں؛ اس لیے کسی حدیث کو صرف اس کتاب میں موجود ہونے کی بنا پر صحیح سمجھ لینا درست نہیں۔ تحقیقِ حدیث کے وقت اس کے مخرج اور حکمِ حدیث کی طرف رجوع ضروری ہے۔
میرے نزدیک اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ حدیث کی بڑی بڑی کتابوں تک پہنچنے کا ایک خوب صورت دروازہ ہے۔ چند صفحات کھولیے، کوئی ایک حدیث سامنے آتی ہے، پھر اس کے مخرج کی طرف نگاہ جاتی ہے، وہاں سے اصل کتاب تک رسائی ہوتی ہے، اور یوں ایک مختصر کتاب قاری کو حدیث کے ایک وسیع عالم سے جوڑ دیتی ہے۔
واقعی یہ ایسی کتاب ہے جسے صرف پڑھا نہیں جاتا، بار بار کھولا جاتا ہے؛ کبھی کسی حدیث کی تلاش میں، کبھی کسی موضوع کی ضرورت کے لیے اور کبھی محض اس لیے کہ نبوی کلمات کی خوشبو سے دل و دماغ کو تازگی مل جائے۔
اسی جامعیت، اختصار، ترتیب اور افادیت کی وجہ سے الجامع الصغير اہل علم کی محبوب کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔
الجامع الصغير مطالعۂ حدیث کے لیے نہایت عمدہ ہے، مگر موضوعاتی تحقیق کے لیے قدرے مشکل کتاب ہے۔
اہل علم، صاحبان قلم اور مسند تدریس پر فائز اساتذہ کے لئے یہ کتاب بہت ہی لاجواب ہے۔
(دو ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)