سنو! سنو!!
جھکنا ہے تو اللہ کے سامنے جھکو
(ناصرالدین مظاہری)
میں نے قدیم ترین مزارات، اجمیر، کلیر ، بہرائچ وغیرہ، جہاں جہاں دیکھےسنو! سنو!!
درختوں سے ٹریفک کا سبق
(ناصرالدین مظاہری)
ایک دن تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔ درختوں کی حالت دیدنی تھی۔ ہوا کا جو جھکڑ آتا تو درخت دائیں بائیں جھک جاتے، شاخیں لہراتیں اور ہوا کو گزرنے کا راستہ دے دیتیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے درخت ہوا سے لڑنے کے بجائے اس کے ساتھ مفاہمت اور چلنے کا ہنر جانتے ہوں۔
درختوں کو معلوم ہے کہ ہوا کی طاقت ان سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے ہوا کے سامنے اکڑ کر کھڑے رہنا اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ جو درخت ہوا کے زور کو سمجھتے ہیں، وہ جھک جاتے ہیں؛ ہوا گزر جاتی ہے اور وہ پھر سیدھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جو درخت اپنی سختی اور اکڑ کے باعث جھکنے کو تیار نہیں ہوتے، وہی تیز آندھی میں گرنے یا جڑ سے اکھڑنے کا زیادہ خطرہ مول لیتے ہیں۔
قدرت کا یہ منظر دیکھ کر خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے درختوں میں لچک صرف خوب صورتی کے لیے نہیں رکھی، اس میں بقا کا ایک راز بھی رکھا ہے۔ ہوا کو راستہ دینا درخت کی کمزوری نہیں، اس کی حکمت و مصلحت ہے۔
پھر خیال آیا کہ شاید انسانوں کو بھی اسی حکمت کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان انسانوں کو جو سڑک پر گاڑی لے کر نکلتے ہیں!
ٹریفک بھی ایک طرح کی ہوا ہے۔
یہاں چھوٹی اور بڑی، ہر سائز کی گاڑیاں ہیں، طاقت ور اور کمزور بھی ہیں، سڑک پر چلنے والے ہر شخص کو اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہے؛ لیکن اگر سب اپنی رفتار، اپنی سمت اور اپنے حق پر اس طرح اکڑ جائیں کہ کسی دوسرے کے لیے ایک انچ جگہ نہ چھوڑیں تو راستہ، راستہ نہیں رہتا، میدانِ جنگ بن جائے گا۔
حکومتیں اسی لیے ٹریفک نظام کے اصول بناتی ہیں تاکہ سب سہولت کے ساتھ گزر جائیں۔ آنے جانے کے راستے جدا ہوتے ہیں، سمت متعین ہوتی ہے، حتیٰ کہ ہر گاڑی کی رفتار بھی طے ہے۔ اب بھی اگر کوئی ضابطہ شکنی کرے تو جرمانہ بھرے، ورنہ خطرہ اٹھائے۔
بڑے روڈ پر گاڑیوں کے لحاظ سے لائنیں بھی متعین ہوتی ہیں تاکہ سب کو اپنی اوقات کا پتا رہے۔ گھوڑے گدھے یقیناً برابر نہیں ہوسکتے، سب کی قوت اور رفتار جداگانہ ہے، اور جب تک ہم اپنی گاڑی کو اس کی حدود میں رکھیں گے، محفوظ رہیں گے؛ جس وقت بے اصولی کریں گے، اخبار میں چھپیں گے۔
ہم جب تک گھر میں ہیں، کوئی جلدی نہیں ہوتی؛ جیسے ہی گاڑی سڑک پر اتارتے ہیں، جلدباز ہوجاتے ہیں۔ ہم ہمیشہ دوسروں کو قصوروار سمجھتے ہیں، یہی ہماری غلطی ہے۔
جان آپ کی ہے، گاڑی آپ کی ہے، آپ ہی کو اپنا خیال رکھنا ہے، دوسرا نہیں رکھے گا۔ آپ بڑی گاڑیوں سے مقابلہ اور مسابقہ کی جرأت نہ کریں۔
یہاں مجھے شیخ سعدی شیرازی یاد آگئے۔ فرماتے ہیں:
جنگ و زورآوری مکن با مست
پیشِ سرپنجه در بغل نه دست
مست طاقت ور شخص سے جنگ و زورآزمائی نہ کرو؛ ایسے شخص کے مقابلے کے وقت اپنے ہاتھوں کو اپنی بغل میں دبا لینا ہی دانش مندی اور قرینِ مصلحت ہے؛ کیونکہ:
چون نداری ناخنِ درنده تیز
با ددان آن بِه که کم گیری ستیز
جب تمہارے پاس مقابلے کی طاقت نہیں تو طاقت ور سے الجھنے کے بجائے کنارہ کشی بہتر ہے؛
ہر کہ با فولادبازو پنجه کرد
ساعدِ سیمینِ خود را رنجه کرد
جو فولاد جیسے بازو والے سے پنجہ آزمائی کرے گا، اپنے ہی ہاتھ کو زخمی کرے گا۔
اسلام نے راستے کے آداب ہمیں اسی لیے سکھائے ہیں کہ راستہ صرف چلنے کی جگہ نہیں، دوسروں کے حقوق کا امتحان بھی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرے، چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے۔
اسلام نے سلام جیسے خوب صورت عمل کو بھی راستے کی ترتیب سے جوڑ دیا ہے۔ گویا جو شخص حرکت میں ہے اسے بھی دوسروں کا لحاظ کرنا ہے، اور جو پہلے سے موجود ہے اسے بھی دوسرے کے حق کا خیال رکھنا ہے۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے کے حقوق بیان فرماتے ہوئے نگاہیں نیچی رکھنے، تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانے، سلام کا جواب دینے اور نیکی کی طرف رہنمائی کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔
آج کے زمانے میں اگر ہم ان تعلیمات کو اپنی سڑکوں پر اتاریں تو ان کا دائرہ بہت وسیع ہوجاتا ہے۔
سوار کو پیدل چلنے والے کا خیال رکھنا چاہیے۔ گاڑی موڑتے وقت دائیں بائیں دیکھنا چاہیے۔ اپنی لائن بدلتے ہوئے دوسرے کی رفتار اور جگہ کا لحاظ ہونا چاہیے۔ جہاں کسی کو گزرنے کا حق ہو، وہاں اسے گزرنے دینا چاہیے۔ بے ضرورت ہارن بجا کر دوسروں کو اذیت نہیں دینی چاہیے۔ راستہ روک کر کھڑے ہوجانا، دوسروں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنا اور اپنی سہولت کے لیے پوری سڑک کو اپنی ملکیت سمجھ لینا، یہ سب اسی راستے کے حق کے خلاف رویے ہیں جسے اسلام نے صدیوں پہلے واضح کردیا تھا۔
آپ درخت سے سیکھئے۔ وہ بے شک ہوا کو گزرنے کے لیے راستہ تو دے دیتا ہے، مگر خود اپنی جگہ نہیں چھوڑتا۔ آپ بھی راستہ دیجیے، مگر سڑک سے مت اترئیے، منزل مت چھوڑیے، غصے کا اظہار مت کیجیے، تیز رفتار گاڑی والے کو گالیاں مت دیجیے؛ کیونکہ آپ خود گاڑی میں ہیں، وہ بھی گاڑی میں ہے۔ وہ تیز رفتار ہے، آپ سست رفتار ہیں۔ آپ چاہ کر بھی اپنی آواز اس تک نہیں پہنچا سکتے تو پھر غصے، ناراضی اور گالی کا فائدہ کیا ہے؟
اگر آپ گاڑی میں ہیں اور راستے میں کیچڑ یا پانی ہے، وہاں سے کوئی پیدل یا سائیکل سوار گزر رہا ہے تو آپ کا فرض ہے کہ آپ گاڑی کی رفتار اتنی کم کرلیں کہ کیچڑ یا پانی اچھل کر اس راہ گیر کے کپڑے خراب نہ کردے۔
اگر آپ نے کسی پیدل شخص کو پہلے گزرنے دیا تو ہماری عزت کم نہیں ہوگئی۔ کسی موڑ پر رفتار کم کردی تو ہماری شان گھٹ نہیں گئی۔
بلکہ شاید ہم نے اسی لمحے اپنے اندر کی ایک بڑی کمزوری پر قابو پالیا۔ راستہ دینا کمزوری نہیں، تہذیب ہے، اور یہ تہذیب صرف سڑک تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ گھر میں بھی کبھی کسی کو راستہ دینا پڑتا ہے، رشتوں میں بھی، گفتگو میں بھی، اختلاف میں بھی۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر بحث جیتنا ضروری نہیں، ہر غلطی پکڑنا ضروری نہیں۔ کبھی سامنے والے کی بات سن لینا، کبھی چند لمحے خاموش ہوجانا، کبھی اپنی رفتار کم کرلینا اور کبھی دوسرے کو آگے بڑھنے دینا بھی زندگی کی بڑی سمجھ داری ہے۔
اصل مسئلہ اکڑنے یا جھکنے کا نہیں، موقع محل کو پہچاننے کا ہے۔
جہاں اصول کا سوال ہو وہاں مضبوط رہیے، جہاں محض انا کا مسئلہ ہو وہاں ذرا سا جھک جائیے۔
کیونکہ آندھی سے ٹکرانے والا ہر درخت مضبوط نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ صرف بے لچک ہوتا ہے۔
اور سڑک پر راستہ نہ دینے والا ہر ڈرائیور بااصول نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ صرف اپنی انا کا اسیر ہوتا ہے۔
(چار ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری) ہیں، ایک بات تقریباً مشترک دیکھی ہے: داخلی گیٹ کی محراب اتنی نیچی کہ آدمی داخل ہوتے وقت خود بخود اس طرح جھک جائے کہ رکوع کے قریب پہنچ جائے۔ سیدھا سر اٹھاکر اندر داخل ہونے کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔
یہ محض دروازہ نہیں، ایک خاص طرزِ تعمیر ہے؛ ایسا طرزِ تعمیر جس میں آنے والے کو بہرحال جھکنا پڑتا ہے۔ انسان اندر داخل ہو تو جسم جھکتا ہے، سر جھکتا ہے اور دیکھنے والے کے ذہن میں تعظیم کا ایک خاص ماحول پیدا ہوتا ہے۔
آپ مانیں یا نہ مانیں، شرک ہمیشہ دروازہ توڑ کر نہیں آتا؛ کبھی تعظیم کے راستے سے آتا ہے، کبھی عقیدت کے پردے میں، کبھی رسم و رواج کا لباس پہن کر اور کبھی محبت کے نام پر دل و دماغ میں جگہ بنا لیتا ہے۔ ابتدا ایک معمولی سی حرکت سے ہوتی ہے، پھر وہی حرکت عقیدت بنتی ہے، عقیدت غلو کا روپ دھارلیتی ہے اور غلو رفتہ رفتہ عقیدے کی سرحدوں کو چھونے لگتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کے معاملے میں ابتدا ہی سے احتیاط کی تعلیم دی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو پختہ کرنے، اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا۔
(صحیح مسلم، 970)
اور حضرت ابو الہیاج اسدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ کسی بلند قبر کو باقی نہ چھوڑیں مگر اسے برابر کردیں:
وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ
(صحیح مسلم، 969)
لیکن وقت گزرتا گیا، سادہ قبریں مقبروں میں بدلیں، مقبرے گنبدوں میں، گنبد قبوں میں اور قبے عقیدت کے مراکز میں تبدیل ہوتے گئے۔ قبر کے گرد تعمیر، قبر پر گنبد، قبر کے سامنے جھکنے کا ماحول اور قبر کی طرف پشت کرنے تک سے گریز یہ سب چیزیں مل کر ایک ایسی فضا بناتی ہیں جس میں قبر کی تعظیم آہستہ آہستہ غیر معمولی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
جہاں کہیں قدیم مزارات ہیں وہاں عرس کے نام پر میلے ہیں ، ٹھیلے ہیں، شراب و شباب کے ٹھیکے ہیں، رنگ رلیاں ہیں ، عیاشیاں ہیں، حرام کاریاں اور زناکاریاں ہیں، اوباشوں ، بدمعاشوں اور شرافت کا لبادہ اوڑھے شیطانوں کے وارے نیارے ہیں۔
عقیدت کے پردے سے شروع ہونے والا یہ کھیل عقیدہ پر کاری ضرب لگا چکا ہے۔ ان مزارات کے پجاریوں کو نہ کلمہ یاد ہے ، نہ حدیث و دعائیں یاد ہیں ، نہ نماز روزے کا فکر بلکہ انھیں نماز ہی یاد نہیں ہے۔ ان نالائقوں کو یہ تک نہیں یاد ہے کہ وہ کس کی امت میں ہیں۔
ان مزارات کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ داخل ہونے کا دروازہ الگ اور نکلنے کا دروازہ الگ ہوتا ہے، دونوں راستوں کی ترتیب ایسی کہ زائر کو خواہ مخواہ قبر کے گرد تقریباً ایک چکر لگانا پڑے۔ مجاورین بھی تاک میں رہتے ہیں کہ کوئی صاحب اسی راستے سے واپس نہ نکل جائیں جس راستے سے داخل ہوئے تھے۔ آخر قبر شریف کی طرف پشت و تشریف کیسے ہوسکتی ہے!
یہاں سوال یہ ہے کہ کعبہ کی طرف پشت کرنا عبادت کے آداب میں ممنوع نہیں، مگر قبر کی طرف پشت کرنے سے اتنا گریز کیوں؟
مسلمان کا قبلہ کعبۃ اللہ ہے، قبر نہیں۔ مسلمان سجدہ اللہ کو کرتا ہے، قبر کو نہیں۔ مسلمان طواف کعبۃ اللہ کا کرتا ہے، قبر کا نہیں۔ مسلمان اپنی جبین اللہ کے سامنے رکھتا ہے، کسی بزرگ کی قبر کے سامنے نہیں۔
اور یہی توحید کی اصل روح ہے۔
ہم اہل توحید ہیں۔ ہمارے نزدیک بزرگ قابل احترام ہیں، صالحین قابل محبت ہیں، اولیاء قابل عقیدت ہیں، مگر عبادت صرف اللہ کی ہے۔
اسی لیے ہمارے اکابر کی قبریں دیکھ لیجیے۔ کتنی سادگی! نہ گنبد، نہ قبہ، نہ شاہانہ مقبرہ، نہ ایسی تعمیر کہ قبر کے گرد عقیدت کا ایک مستقل حصار قائم ہوجائے ۔
بزرگوں سے محبت کیجیے، ان کی سیرت پڑھیے، ان کی دعاؤں اور نصیحتوں کو یاد کیجیے، ان کے علم و تقویٰ سے فیض حاصل کیجیے؛ لیکن قبر کو وہ مقام نہ دیجیے جو اللہ نے کعبہ کو دیا ہے۔
کیونکہ شرک یکایک نہیں آتا۔
وہ پہلے تعظیم بن کر آتا ہے، پھر عقیدت بنتا ہے، پھر غلو بنتا ہے، پھر رسم بنتا ہے اور آخرکار انسان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ جس چیز کو صرف ’’ادب‘‘ سمجھ کر شروع کیا تھا، وہ اس کے دل و دماغ میں عقیدے کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
اس لیے جھکنا ہو تو اللہ کے سامنے جھکیے۔ سجدہ کرنا ہو تو اللہ کے لیے کیجیے۔ طواف کرنا ہو تو اللہ کے گھر کا کیجیے۔ اور قبر پر جائیں تو عبرت، دعا اور آخرت کی یاد لے کر جائیں، قبر کو عبادت، غلو اور عقیدے کا مرکز بنا کر نہ جائیں۔