امام ابو حنیفہ نے حماد کی ماں کے علاوہ ایک اور عورت سے نکاح کر لیا جب حماد کی ماں کو معلوم ہوا تو انہوں نے اصرار کیا کہ دوسری بیوی کو طلاق دے دو اور خود امام صاحب سے الگ ہو گئی امام صاحب نے اسی تدبیر کی کہ حماد کی ماں کو یقین ہو گیا کہ نئی بیوی کو تین طلاق پڑ گئی ہے اور ان کے قلب کو سکون ہو گیا
ہوا یہ کہ امام صاحب نے دوسری بیوی سے کہا کہ ام حماد کے پاس انا میں وہاں ہوں گا اور ا کر یہ مسئلہ پوچھنا کہ جب کسی نے کسی دوسری عورت سے نکاح کر لیا تو کیا پہلی عورت کے لیے جائز ہے کہ اپنے شوہر کو چھوڑ دے امام صاحب کی تعلیم کے مطابق وہ آئی اور یہی سوال کیا امام صاحب نے جواب دیا کہ اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے شوہر کو چھوڑ دے حماد کی ماں سن رہی تھی کہنے لگی جب تک نئی بیوی کو طلاق نہیں دو گے میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی اس پر امام صاحب نے فرمایا میری ہر عورت جو اس گھر کے باہر ہے اس کو تین کو طلاق بس کیا تھا ام حماد خوش ہو گئیں اور معافی مانگی جبکہ امام صاحب نے نںٔی بیوی کو طلاق بھی نہیں دی
تذکرۃالنعمان صفحہ ٢٥١