مناقب زر نجری میں ہے کہ ایک شخص نے قسم کھائی اگر میں انڈا کھاؤں تو میری بیوی کو طلاق اتفاق سے اس کی بیوی آستین میں رکھ کر انڈا لائی اس نے کہا جو کچھ تیری آستین میں ہے اسے اگر نہ کھاؤں تو تمہیں طلاق اس کو معلوم نہیں تھا کہ آستین میں انڈا ہی ہے
امام صاحب سے مسئلہ پوچھا گیا کہ کس طرح یہ آدمی اپنی قسم سے بری ہو سکتا ہے امام صاحب نے فرمایا انڈے مرغی کے نیچے رکھے جائیں جب بچے نکل آئیں تو ذبح کر کے بھون کر کھائے یا پکا کر شوربہ پی لے تو حانث نہ ہوگا اس طرح جو کچھ آستین میں تھا اسے کھا لیا
کھول اور چھلکے کا اعتبار نہیں اس لیے کہ یہ کھائے نہیں جاتے ہیں
( تذکرۃالنعمان صفحہ ٢٥٣)