سنو! سنو!!

مظاہرعلوم کا مطبخ اور طلبہ کا کھانا

(ناصرالدین مظاہری)

مدرسے کے طلبہ کے لیے کھانا صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ان کی صحت، توانائی اور تعلیمی یکسوئی کا بھی اہم وسیلہ ہے۔ اسی لیے بڑے مدارس میں مطبخ کی نگرانی اور کھانے کے معیار پر خصوصی توجہ ضروری ہے۔

مظاہرعلوم وقف سہارنپور میں الحمدللہ کھانے کا معیار ہمیشہ قابل اطمینان رہا ہے۔ ہر دور میں ناظم مدرسہ اچانک مطبخ پہنچ کر کھانا خرید کر چکھتے رہے ہیں۔ حضرت مولانا عبد اللطیف پورقاضوی، حضرت مولانا محمد اسعداللہ رام پوری، حضرت مولانا مفتی مظفرحسین اجراڑوی اور حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہم اللہ، سب اس معمول پر عمل پیرا رہے ہیں۔

دس پندرہ سال پہلے گوشت کے خراب ہونے کی شکایت ملی۔ ناظم صاحب نے اس معاملے کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا، بلکہ ناظم مطبخ کی تنخواہ سے پورے گوشت کی قیمت وضع کرا دی۔ بڑے مدارس میں گوشت کی مقدار اور اس کی قیمت کا اندازہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔ اس طرح کی نگرانی سے عملے کو بھی احساس رہتا ہے کہ طلبہ کے کھانے میں کسی قسم کی کوتاہی قابل برداشت نہیں۔

ایک مرتبہ کہیں سے گیہوں ایسے آگئے جن میں گھن بہت تھے۔

حضرت مولانا محمد سعیدی صاحب رحمہ اللہ نے تمام گیہوں بازار میں فروخت کرادیا اور اس کے بدلے معیاری گندم خریدی گئی۔ مقصد یہ نہیں تھا کہ جو چیز آگئی ہے اسے کسی طرح استعمال کرلیا جائے، بلکہ مقصد یہ تھا کہ طلبہ کو معیاری غذا ملنی چاہیے۔

مظاہرعلوم میں پہلے ہر ماہ مرغ و نان اور زردہ بریانی کا نظام تھا۔ بعد میں حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ نے اس نظام میں تبدیلی کرکے ہر جمعرات کو بہترین اور معیاری بریانی کا نظام قائم فرمایا۔
اب جب حضرت مفتی محمد بدران سعیدی صاحب ناظم بنے ہیں تو انہوں نے اس میں مزید سہولت پیدا کردی ہے۔ طلبہ کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ جسے چاول لینا ہو وہ چاول لے اور جو روٹی کا خواہش مند ہو وہ روٹی لیتا رہے؛ بس دفتر کو تحریری اطلاع دے دی جائے تاکہ اسی مناسبت سے انتظام کیا جاسکے۔ یہ حقیقت بھی لکھنا ضروری ہے کہ اب تمام طلبہ کا داخلہ امدادی ہوتا ہے غیر امدادی داخلہ ہی نہیں لیا جاتا تاکہ طلبہ کھانے پکانے کی پریشانی سے بچ سکیں۔

حضرت مولانا مفتی مظفرحسین صاحب سے لے کر اب تک میں نے ان تینوں نظاموں میں یہی دیکھا ہے کہ کھانے کے معیار میں اضافہ ہمیشہ پیش نظر رہا، کفایت ہرگز مقصود نہیں رہی۔

آج بھی مدرسے کی روٹیاں، دال، گوشت اور بریانی ایسی معیاری ہوتی ہے کہ آدمی بغیر کھائے اس کا یقین نہیں کرسکتا۔

ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد سعیدی صاحب رحمہ اللہ نے مجھے درسگاہ سے بلایا۔ میں پہنچا تو حضرت اٹھے اور مطبخ کی طرف چل پڑے۔ فرمایا: ’’کھانا چیک کرنا ہے۔‘‘

یہاں بتاتا چلوں کہ مدرسے میں روز رات کو گوشت ملتا ہے، صبح دال ہوتی ہے، دونوں وقت چاول اور روٹی دی جاتی ہے اور بدھ کی شام بریانی ملتی ہے۔

ہم مطبخ پہنچے، دفتر میں بیٹھے۔ روٹی اور گوشت منگوایا گیا۔ میں نے حضرت ناظم صاحب سے عرض کیا کہ یہ گوشت چکھنے سے زیادہ فائدہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ میں نے ایک طالب علم کو روکا، اس کا ٹفن کھلوایا اور ناظم صاحب سے اسی کا کھانا چکھنے کی درخواست کی۔ پھر مطبخ والوں کو ہدایت کی گئی کہ اس بچے کو دوبارہ کھانا دیا جائے۔

اس طریقے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر اسٹاف نے جانچ کے لیے خاص طور پر اچھا سالن، اچھی بوٹیاں یا اچھا بگھار سامنے رکھ دیا تو اصل صورت حال کا اندازہ کیسے ہوگا؟ طالب علم کا ٹفن کھول کر کھانا چکھنے میں اس اندیشے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔
بہت مرتبہ ہم نے کوشش کی کہ کھانے کی تقسیم کا قدیم طریقہ ختم کرکے طلبہ کو بٹھا کر کھلایا جائے، لیکن ناظم صاحب ہمیشہ یہ کہہ کر منع کردیتے کہ تقسیم کے نظام میں بچے کو اختیار رہتا ہے؛ جب بھوک لگے کھا لے۔

دوسری بات یہ کہ یہ مال زکوٰۃ ہے، بچہ اس کا مالک اسی وقت بنے گا جب وہ کھانا اسے مل جائے گا۔
تیسرا فائدہ یہ ہے کہ بچوں کا معدہ عموماً اچھا ہوتا ہے۔ انہیں جب بھوک لگے گی، وہ کھا لیں گے۔

اجتماعی طعام میں یہ تینوں سہولتیں حاصل نہیں ہوسکتیں۔
ندوۃ العلماء میں ٹفن کا نظام بہت اچھا ہے۔ ہر ہاسٹل میں ایک مقررہ جگہ پر کھانے کے ٹفن رکھ دیے جاتے ہیں اور طلبہ اپنا اپنا ٹفن لے لیتے ہیں۔ اس نظام میں بھی طلبہ کو سہولت ہے اور انتظامیہ کو بھی نظم و ضبط کے ساتھ کھانا تقسیم کرنے میں آسانی رہتی ہے۔

مدارس کے مطابخ کی نگرانی محض کھانے کی نگرانی نہیں، یہ دراصل طلبہ کی صحت، ان کے اطمینان اور ان کے تعلیمی مستقبل کی نگرانی ہے۔ جو ادارہ اپنے طلبہ کے کھانے کے بارے میں حساس ہے، وہ دراصل ان کے پورے وجود کے بارے میں حساس ہے۔

بتاتا چلوں کہ حضرت مولانا محمد سعیدی رحمہ اللہ نے باقاعدہ مستقل مدرسہ سے قیمتاً کھانا جاری کرارکھا تھا اور پابندی سے کھاتے بھی تھے نگرانی کا یہ طریقہ مجھے سب سے اچھا لگا۔

مظاہرعلوم کا مطبخ میرے لیے اسی احساس، نگرانی اور معیار کی ایک عملی مثال ہے۔

(چار ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)