اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی زندگی کو صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں کرتا، بلکہ اس کے عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت، حقوق و فرائض اور اجتماعی زندگی تک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے انسان کو محض مسلمان کہلانے کی نہیں، بلکہ اسلام کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی دعوت دی ہے۔ مگر آج ہماری سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ ہمارے پاس دین موجود ہے، قرآن موجود ہے، مساجد موجود ہیں، اذانیں بلند ہوتی ہیں، جمعہ ہر ہفتے آتا ہے، لیکن ہماری زندگیوں میں ان تعلیمات کا اثر روز بروز کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ہم میں سے بہت سے لوگ قرآنِ کریم کو ثواب کی کتاب تو سمجھتے ہیں، مگر ہدایت کی کتاب سمجھ کر اس سے زندگی کا راستہ دریافت نہیں کرتے۔ نماز فرض ہے، مگر اس کی پابندی میں کوتاہی عام ہے۔ اسلامی اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے، مگر معاملات میں جھوٹ، دھوکا، بددیانتی، غیبت، حسد اور حقوق تلفی جیسے مسائل موجود ہیں۔ والدین کے حقوق بیان کیے گئے، پڑوسیوں کے حقوق بتائے گئے، رشتہ داروں کے حقوق سمجھائے گئے، یتیم و مسکین کی خبرگیری کا حکم دیا گیا، لیکن عملی زندگی میں ان تعلیمات سے ہماری دوری ایک بڑا سوال بن کر سامنے آتی ہے۔
یہ صورتِ حال محض فرد کی کمزوری نہیں؛ یہ پورے معاشرے کی اصلاح کا تقاضا کرتی ہے۔ اور اسی مقام پر جمعہ کا دن غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
جمعہ کا دن محض ایک نماز کا دن نہیں، بلکہ مسلمانوں کے ہفتہ وار اجتماعی اجتماع کا دن ہے۔ عام دنوں میں لوگ اپنے اپنے مشاغل میں بٹے رہتے ہیں؛ کوئی تجارت میں مصروف ہے، کوئی ملازمت میں، کوئی تعلیم میں اور کوئی دنیاوی ذمہ داریوں میں۔ لیکن جمعہ ان منتشر افراد کو ایک ہی وقت میں ایک ہی مقام پر جمع کرتا ہے۔ یہی اجتماع اگر صحیح انداز میں استعمال کیا جائے تو معاشرے کی فکری، اخلاقی اور دینی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
ہماری اصل مشکل کہاں ہے؟
آج مسلمان بہت سی چیزوں میں ترقی کر رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ترقی کے ساتھ اس کی دینی زندگی بھی مضبوط ہو رہی ہے؟ ہمارے گھروں میں جدید سہولتیں بڑھ رہی ہیں، مگر قرآن سے تعلق کتنا بڑھا؟ ہمارے پاس معلومات کے ذرائع بے شمار ہیں، مگر دین کا صحیح علم حاصل کرنے کی فکر کتنی ہے؟ موبائل کی اسکرین پر گھنٹوں وقت گزارنے والا انسان اگر چند منٹ قرآن پڑھنے کے لیے وقت نہ نکال سکے تو یہ صرف مصروفیت نہیں، ترجیحات کا مسئلہ بھی ہے۔
ہماری نوجوان نسل مختلف فکری، ثقافتی اور اخلاقی اثرات سے گزر رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے دنیا کو ہمارے گھروں تک پہنچا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر قرآن، سنت اور اسلامی تعلیمات سے مضبوط تعلق پیدا نہ کیا جائے تو انسان بآسانی ہر چمکتی ہوئی چیز کو ترقی اور ہر مقبول چیز کو درست سمجھنے لگتا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ مسلمان اسلام کو مانتے نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے مسلمان اسلام کو اپنی زندگی کا نظام بنانے کے بجائے صرف اپنی شناخت سمجھنے لگے ہیں۔
جمعہ کیوں ایک عظیم موقع ہے؟
جمعہ کی نماز سے پہلے خطبہ ہوتا ہے، اور خطبہ محض رسمی گفتگو نہیں بلکہ مسلمانوں کی دینی و اجتماعی تربیت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود خطبۂ جمعہ کے ذریعے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیم و تربیت فرماتے تھے۔
آج بھی ہر ہفتے بڑی تعداد میں مسلمان مساجد میں جمع ہوتے ہیں۔ یہی وہ موقع ہے جب امام چند منٹوں میں ایک پورے معاشرے کے سامنے قرآن و سنت کی روشنی میں کوئی اہم دینی، اخلاقی یا معاشرتی مسئلہ رکھ سکتا ہے۔
اگر معاشرے میں نماز کی کمزوری ہے تو نماز کی اہمیت بیان کی جائے۔ اگر نوجوان فکری انتشار کا شکار ہیں تو انہیں قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح فکر دی جائے۔ اگر گھروں میں والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں تو والدین اور اولاد کے حقوق پر گفتگو کی جائے۔ اگر کاروبار میں جھوٹ اور دھوکا عام ہے تو حلال تجارت اور امانت داری کو موضوع بنایا جائے۔ اگر سوشل میڈیا اخلاقی بگاڑ کا ذریعہ بن رہا ہے تو اس کے درست اور غلط استعمال پر رہنمائی دی جائے۔
یعنی جمعہ کا خطبہ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا خطاب ہونا چاہیے۔
امامِ جمعہ کی ذمہ داری
یہاں امامِ مسجد کی ذمہ داری بہت اہم ہوجاتی ہے۔ امام صرف نماز پڑھانے والا شخص نہیں؛ وہ ایک دینی رہنما، مربی اور معاشرے کا اصلاحی قائد بھی ہوتا ہے۔ اس کے الفاظ لوگوں کے دلوں پر اثر ڈال سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ وقت، حالات، مخاطبین اور معاشرتی مسائل کو سمجھ کر گفتگو کرے۔
ضروری ہے کہ خطیب ہر جمعہ ایک ہی انداز کی رسمی گفتگو تک محدود نہ رہے، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرے کی حقیقی ضرورتوں کو سامنے رکھے۔ البتہ اصلاح کے نام پر کسی فرد یا گروہ کی تحقیر، غیر ضروری سیاسی بحث یا محض جذباتی نعرے بازی کے بجائے علم، حکمت، دلیل اور خیرخواہی کو بنیاد بنایا جائے۔
خطبہ ایسا ہو کہ نمازی مسجد سے نکلتے وقت صرف یہ نہ سوچے کہ آج کون سا موضوع بیان ہوا، بلکہ یہ سوچے کہ مجھے اپنی زندگی میں کیا تبدیل کرنا ہے؟
صرف خطیب نہیں، سامع بھی ذمہ دار ہے
یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ اصلاح کی پوری ذمہ داری صرف امام کی ہے۔ خطیب اپنا فرض ادا کرے اور نمازی صرف سن کر مسجد سے نکل جائے تو مقصد مکمل نہیں ہوتا۔
قرآن سنتے وقت دل کھولنا، نصیحت قبول کرنا اور پھر اسے زندگی میں نافذ کرنا اصل کامیابی ہے۔ اگر جمعہ کے خطبے میں نماز کی پابندی کی بات ہوئی اور جمعہ کے بعد بھی نماز ترک کردی گئی، اگر والدین کے حقوق بیان ہوئے مگر گھر جاکر والدین سے بدسلوکی کی گئی، اگر حلال و حرام کی گفتگو ہوئی مگر کاروبار میں بددیانتی جاری رہی، تو ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم نے خطبہ سنا یا صرف سن لیا؟
جمعہ کو اصلاحِ امت کا آغاز بنائیے
ضرورت اس بات کی ہے کہ جمعہ کو ہماری زندگی میں ایک ہفتہ وار محاسبے اور اصلاح کا دن بنایا جائے۔ ہر جمعہ ہم اپنے آپ سے چند سوال کریں:
کیا میری پانچوں نمازیں درست اور پابندی سے ادا ہو رہی ہیں؟
کیا میرا قرآن سے روزانہ کا تعلق قائم ہے؟
کیا میرے معاملات اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں؟
کیا میں والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوسرے مسلمانوں کے حقوق ادا کر رہا ہوں؟
کیا میری زبان غیبت، جھوٹ اور بدکلامی سے محفوظ ہے؟
کیا میرے کاروبار اور ملازمت میں دیانت داری ہے؟
کیا میں اپنی اولاد کی دینی تربیت کر رہا ہوں؟
اگر ان سوالات میں ہمیں اپنی کمزوریاں نظر آئیں تو جمعہ ہمیں مایوس ہونے کے لیے نہیں، بلکہ واپس پلٹنے کے لیے ملا ہے۔
جمعہ ہر ہفتے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ابھی وقت باقی ہے؛ قرآن کی طرف لوٹا جا سکتا ہے، نماز کی پابندی اختیار کی جا سکتی ہے، گناہ چھوڑے جا سکتے ہیں، حقوق ادا کیے جا سکتے ہیں اور زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔
خاتمہ
مسلمانوں کی اصلاح کسی ایک دن، ایک تقریر یا ایک ادارے کے ذریعے مکمل نہیں ہوسکتی، لیکن ہر بڑی اصلاح کسی نہ کسی آغاز کی محتاج ہوتی ہے۔ جمعہ اس آغاز کے لیے ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہر ہفتے ہماری مساجد بھری ہوئی ہوتی ہیں، خطبے ہوتے ہیں، قرآن کی آیات پڑھی جاتی ہیں، احادیث بیان کی جاتی ہیں؛ پھر بھی اگر ہمارے گھروں، بازاروں، معاملات، اخلاق اور معاشرت میں دین کی روشنی کم ہوتی جارہی ہے تو ہمیں جمعہ کے نظامِ تربیت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
جمعہ کو صرف نئے کپڑے پہننے، مسجد پہنچنے، نماز ادا کرنے اور واپس آنے کا دن نہ بنائیں؛ اسے اپنے ایمان کی تجدید، اپنے کردار کے محاسبے اور اپنی زندگی کی اصلاح کا دن بنائیں۔
اور ائمہ و خطباء بھی اس عظیم موقع کو محض ایک رسمی ذمہ داری نہ سمجھیں۔ ہر جمعہ منبر سے ایسی بات کہی جائے جو دل کو جھنجھوڑے، عقل کو بیدار کرے، قرآن سے جوڑے، نماز کی طرف بلائے، اخلاق سنوارے، حقوق کی ادائیگی کا شعور دے اور مسلمانوں کو ان کی اصل ذمہ داری یاد دلائے۔
کیونکہ اگر ہر جمعہ ایک مسلمان بھی اپنی زندگی کی کوئی ایک خرابی چھوڑ دے، ایک نماز کی پابندی شروع کردے، قرآن سے تعلق قائم کرلے، کسی کا حق ادا کردے، والدین کو خوش کردے یا کسی گناہ سے توبہ کرلے، تو جمعہ کا خطبہ صرف سنا نہیں گیااپنی حقیقت میں اتر گیا۔
یہی جمعہ کی حقیقی برکت ہے، یہی اس کی اجتماعی اہمیت ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس سے مسجد کا منبر معاشرے کی اصلاح کا مؤثر مرکز بن سکتا ہے۔


----------------
✍️محرر: محمد فداء المصطفیٰ قادری 
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرالا