سنو سنو!!
بدران : اسم با مسمی
(ناصرالدین مظاہری)
مفتی محمد بدران صرف ایک نام نہیں، ایک معنی ہے؛ صرف چند حروف کا مجموعہ نہیں، ایک علامت ہے۔ بعض نام محض شناخت ہوتے ہیں، لیکن بعض نام اپنے اندر ایک پوری داستان، ایک نسبت اور ایک کیفیت سموئے ہوئے ہوتے ہیں۔ بدران بھی ایسا ہی نام ہے۔
بدران عربی لفظ ہے، بدر کی تثنیہ ہے۔ بدر کے معنی ہیں: پورا چاند، چودھویں رات کا روشن چاند۔ اور بدران کے معنی ہوئے: دو بدر، دو پورے چاند۔ گویا نام ہی میں روشنی، تابانی، حسن اور درخشندگی کا مفہوم پوشیدہ ہے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ بدران کے اندر بدر بھی پوشیدہ ہے۔
بدر صرف ایک لفظ نہیں، تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ بدر وہ مقام ہے جہاں حق و باطل آمنے سامنے آئے، جہاں تعداد کی کثرت کے بجائے نصرتِ الٰہی فیصلہ کن ثابت ہوئی، جہاں بڑے بڑے دعوے داروں کے غرور خاک میں ملے اور جہاں باطل کے سرداروں کو شکست و ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
قرآن نے اس معرکے کو محض ایک جنگ کے طور پر نہیں بلکہ یوم الفرقان قرار دیا:
لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ
اللہ تعالیٰ حق کو حق ثابت کرنا اور باطل کو باطل کر دینا چاہتا تھا۔
بدران تو بدران ہے، اس کے ساتھ بدر کی نسبت بھی ہے؛ اور بدر والوں کے ساتھ وہ رب ہے جو حامی بھی ہے، ناصر بھی، قادر بھی اور قدیر بھی۔
یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ نام رکھنے والا شاید نام رکھتے وقت صرف نام نہیں رکھ رہا ہوتا، بلکہ آنے والے زمانے کے لیے ایک اشارہ بھی چھوڑ رہا ہوتا ہے۔
بدران!
نام میں بدر، معنی میں نور، نسبت میں روشنی اور سفر میں صبر!
اور پھر کسی نام کی معنویت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب اسے ہزاروں لوگوں کے درمیان سے عوام کا اعتماد حاصل ہو۔ اگر ہزارہا عوام کے ہجوم میں ہزاروں لوگوں میں سے کسی ایک شخصیت کو منتخب کیا جائے تو اسے محض اتفاق کہہ کر نظر انداز کرنا بھی آسان نہیں۔ یہ عوامی اعتماد کا ایک اظہار ہوتا ہے، ایک انتخاب ہوتا ہے، ایک پیغام ہوتا ہے۔
بعض اوقات ایسے مواقع واقعی نقارۂ خدا بن جاتے ہیں؛ یعنی ایک ایسا اعلان جسے زمانہ سن لیتا ہے، خواہ کچھ لوگ سننے سے انکار ہی کیوں نہ کریں۔
اور دنیا کا دستور بھی عجیب ہے۔
جس چراغ میں روشنی ہوتی ہے، نگاہیں اسی پر اٹھتی ہیں۔ جس درخت پر پھل آتے ہیں، پتھر بھی اسی کو پڑتے ہیں۔ جو شخص خاموشی سے اپنے راستے پر چلتا ہے، کبھی کبھی اس کے راستے میں وہ لوگ بھی آ کھڑے ہوتے ہیں جنہیں اس کی منزل سے زیادہ اس کی مقبولیت پریشان کرتی ہے۔
مگر روشنی کا کام روشن ہونا ہے، ہر آنکھ کو خوش کرنا نہیں۔
جلنے والے جلتے رہیں گے۔
جلنا جن کا مقدر بن جائے، انہیں کوئی کیسے بچا سکتا ہے؟
چاند پر تھوکنے کی کوشش کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ آسمان تک تھوک پہنچتا نہیں، پلٹ کر اسی چہرے کو آلودہ کرتا ہے جو اوپر دیکھ کر تھوک رہا ہوتا ہے۔
بدر کی روشنی کو کوئی اپنی نفرت سے کم نہیں کرسکتا۔ چاند کی طرف منہ کرکے آنکھیں بند کرلینے سے چاند غائب نہیں ہوجاتا۔
یہ دنیا بھی عجیب ہے؛ کبھی مظلوم کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر قصوروار بنا دیا جاتا ہے اور کبھی ظالم اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے مظلوم کا بھیس اختیار کرلیتا ہے۔ ظلم کی ایک چال یہ بھی ہے کہ پہلے کسی کو تکلیف دی جائے، پھر اسی سے کہا جائے کہ تم نے شور کیوں کیا!
لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں معاملات چہروں سے نہیں، حقیقتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔
وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا
اور اہلِ ایمان کے لیے قرآن کا وعدہ ہے:
إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
یہی تو اصل راز ہے: صبر!
صبر کمزوری نہیں، طاقت کا دوسرا نام ہے۔ خاموشی ہمیشہ شکست نہیں ہوتی، کبھی کبھی خاموشی اس یقین کا نام ہوتی ہے کہ فیصلہ انسان نہیں، وقت اور خدا کرے گا۔
بے شک صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے راستہ روکنے کی کوشش کی، مگر راستے رکے نہیں؛ بہت سے لوگوں نے آواز دبانے کی کوشش کی، مگر آوازیں دبیں نہیں؛ بہت سے لوگوں نے چراغ بجھانے کی کوشش کی، مگر صبح کا اجالا آکر رہا۔
بدران کے معنی دو چاند ہیں۔
چاند رات کے اندھیرے سے لڑتا نہیں، بس روشن ہوتا ہے۔
شاید یہی کسی بڑے نام کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ شور سے نہیں، اپنے نور سے پہچانا جائے؛ جواب الزام سے نہیں، کردار سے دیا جائے؛ اور مخالفت کا جواب انتقام سے نہیں بلکہ استقامت سے دیا جائے۔
نام بدران ہے تو نسبت بھی روشن ہے، معنی بھی روشن ہیں اور امید بھی روشن۔
(چھ ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)