ہندوستانی ریلوے ترقی پذیر ہے، دسیوں مشہور اسٹیشن تعمیر نو کی دہلیز پر ہیں، تعمیر بھی تخریب کے بغیر کہاں ممکن ہے؟ اور جب تک نئی عمارت مکمل نہ ہو؛ مسافر پریشاں رہیں گے، لیکن آپریشن کی تکلیف تو سہ لی جاتی ہے، بھارتی ریل نیٹورک برقی سہولیات سے مالا مال ہوچکا ہے، بیابانوں تک برقی سپلائی میسر آچکی ہے، یہ محض سواری گاڑی نہیں، بھارتی لوگوں کے دل کی دھڑکن ہے، ترقی یافتہ ممالک سے تقابل ہنوز نا انصافی ہے، کرایے میں بھی تقابل ہو تو انصاف ممکن ہے، جغرافیائی نکات بھی چیلنج ہیں پھر بھی ریل محکمہ نے اپنا فائبر کیبل بچھانا شروع کیا ہے، آیندہ ترقی آسان ہوگی، حالیہ رپوٹ آئی ہے، نیویارک میٹرو وقت کی قدردانی میں دہلی میٹرو سے بہت پیچھے، یہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے!

خبروں کا دراز سلسلہ ہے، سفر بھی جاری ہے، مشاہدات نے مجبور کیا کہ کچھ لکھ کر محفوظ کرلوں، فی الحال صبح ہورہی ہونے لگی ہے، رفتہ رفتہ سورج کی پویں پھوٹ رہی ہیں، آسماں کے نقاب سے حسیں سورج جھانک رہا ہے، ابھی چند لمحے گزرے ہیں کہ آفتابی کرن موتی بن کر چمکنے لگی ہے، شبنم کے قطرے خراج تحسین پیش کررہے ہیں اور ہم مخمور ہواؤں کے ساتھ چائے کی چسکی لے رہے ہیں، عمر خوردہ چچا بھی ساتھ کھڑے ہیں، چائے پی رہے ہیں اور حسن فطرت سے نگاہیں سینک رہے ہیں، جوانی فنا ہوچکی، لیکن حسن پرست جذبہ ہنوز جوان ہے، کوہسار و بیاباں کے دلکش نظارے سامان سکوں فراہم کرتے ہیں، کہہ رہے تھے کہ تم اکیلے ہمیں دیکھ رہے ہو؟ ہم سفر لوگ کہا ہیں؟
میں نے کہا: وہ ہمیشہ کی طرح آرام فرماہیں،

مصنوعی زمانے کے لوگ فطرت سے وابستگی نہیں رکھتے!

برادم اضحی ندوی شریک سفر ہیں، حسن فطرت سے وابستگی کا شانداز ذوق پایا ہے، حسیں منظر سامنے آتے ہی چہک اٹھتے ہیں،ہندو ازم پر مطالعہ کیا ہے، ان کی شرارتوں سے واقف ہیں، میں نے کہا کل الہ آباد آئے گا، وہاں ناشتہ کریں گے،
کہنے لگے: پریاگ راج آئے گا،
میں نے برملا کہا: کم سن و لاشعور تھا تب سے یہی نام سنا ہے، آج بھی یہی کہتا ہوں، چند لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھے۔
خیر وہ خدا کی زمیں پر خدا کی نگری کا نام بدلنے پر تلے ہیں اور فیضان محبت عام ہے، سبھوں کو ڈھیل دے رہا ہے، جب رسی کھینچی جائے گی تب راز نہاں کھلے گا۔

یقینا سہی کہا ہے: سفر وسیلۂ ظفر ہے، مسرت افزاء بھی ہے، عبرت آموز بھی۔

ہم میٹھی نیند کو ترستے ہیں، ذرا سی آواز خلل ڈالتی ہے، ہلکی سی روشنی پریشان کرتی ہے، اور کچھ لوگ ریل کے شور شرابے میں بھی محو خواب ہیں، ان کے گھر ریل پٹری سے ملے جلے ہیں، وہ کبھی پریشان نہیں ہوتے۔

ہم شکوہ کناں ہیں کہ اے سی ڈبہ میں پسند کی جگہ دستیاب نہ ہوئی، ایک جوان بھٹکتا آتا ہے؛ جنرل ڈبہ کہاں ہے؟ جنرل ڈبہ کہاں ہے؟
چہرے سے پریشانی جھلک رہی تھی، ٹی ٹی صاحب آرہے تھے، ایک ملازم نے کہا:تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، سیلپر میں چلے جاؤ، میں چپ چاپ کھڑا دیکھ رہا تھا، احساس ہوا کہ انسانیت کی روح اب بھی زندہ ہے، رمق حیات باقی ہے!

کچھ لوگ ٹرین کے دروازے پر بیگ کے سہارے آرام کررہے ہیں، ان کے سرہانے میڈیکل رپوٹس کی ایک فائل ہے،انہیں  آلام نے گھیر رکھا ے...........پھر بھی.....، دل سہمتا نہیں ہے؟
خدا نے کتنا خوش حال رکھا ہے........؟

صبح چار بجے اسٹیشن آرہا تھا، میں سورش کے ذوق ادب سے مستفید ہو رہا تھا، ایک آنٹی پوچھتی ہیں: قرآن پڑھ رہے ہو؟ میں نے کہا نہیں!
وہ سادہ لوح ہیں یا برین واش جو اس حلیے موجود ہر شخص کے ہاتھ میں موجود کتابوں کو قرآن ہی کہتے ہیں، یا قرآنی معجزہ جو غیروں کے اندرون تک اپنا تعارف رکھتا ہے؟
خدا جانے یہ کیا معمہ ہے؟


سفر جاری، خدا حافظ🤝
 ابوالفضل حیدریؔ