آج کی مذہبی خواتین بھی آزادی چاہتی ہیں
19 ستمبر، 2026
مسلمانوں کی باہمی کشمکش اور داخلی کمزوریوں نے دشمنوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ صفوفِ مسلمین میں ایسے عناصر داخل کر دیں جو نہ خالصتاً مسلمان تھے اور نہ کھلے ہوئے کافر، بلکہ لبرل فکر کے حامل تھے۔ انہوں نے انسانی نفسیات کو سمجھا، اس کے کمزور پہلوؤں کو پرکھا، اور ایک میٹھے زہر کی مانند اپنے افکار کو مسلم معاشرے میں منتقل کرنا شروع کر دیا۔
انہوں نے ایک ایسا اسلام پیش کیا جو خواہشاتِ نفس کے مطابق ڈھالا گیا تھا۔ شیطان کے پیروکار دنیا میں بھی ہر طرح کی آزادی اور عیش چاہتے تھے اور آخرت میں بھی نجات کے امیدوار تھے۔ چنانچہ انہوں نے سادہ لوح ذہنوں کو ایک نئے تصورِ اسلام سے متعارف کرایا اور سلطنتِ عثمانیہ کو سخت گیر، متشدد اور قدامت پسند نظام کے طور پر پیش کیا۔
اسی حکمتِ عملی کے تحت عورتوں کو مخاطب کیا گیا کہ تم گھروں میں کیوں محدود ہو؟ دنیا تمہاری بھی ہے، تمہارے حقوق سلب کر لیے گئے ہیں، آؤ ہم تمہیں تمہارے حقوق دلاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ تحریک مسلم معاشروں کے محلوں، شہروں اور بستیوں میں پھیلتی چلی گئی۔ پھر جب اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ آیا تو شریعت پر قدغنیں لگائی گئیں، علماء و مشائخ کو قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا گیا، اسلامی تعلیمات محدود کر دی گئیں، شراب خانے عام ہوئے، قرآنِ کریم حفظ کرنے پر پابندیاں لگیں، اذان اور نقاب تک نشانہ بنائے گئے۔
ہر وہ معاشرہ جس میں عورت کو بے قید آزادی دے دی جائے، بالآخر تباہی کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے،
میں آپ کی خدمت میں ایک اور حقیقت عرض کرنا چاہتا ہوں:
آج کی مذہبی خواتین بھی آزادی چاہتی ہیں۔
ان میں دو طبقے نمایاں نظر آتے ہیں۔
پہلا طبقہ
وہ خواتین جو شوہر، باپ، بھائی یا دیگر قریبی رشتوں کے ظلم و زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ ان کے دلوں میں مردوں کے خلاف نفرت جنم لیتی ہے، اور رفتہ رفتہ بعض اوقات یہ نفرت صرف افراد تک محدود نہیں رہتی بلکہ شریعت کے بعض احکام تک اعتراضات کا رخ اختیار کر لیتی ہے۔ ان کے نزدیک مرد مطلقاً قصوروار اور ظالم بن جاتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی رشتے سے تعلق رکھتے ہوں۔
یہ درحقیقت مردوں سے آزادی کی خواہاں ہوتی ہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ذی رحم مردوں سے تعلقات کا نظام بھی اسلام کے عطا کردہ خاندانی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ کسی فرد کا ظلم یقیناً اس کے اپنے اعمال کا وبال بنے گا، لیکن ظلم کے ردِّعمل میں پورے دینی نظام سے بیزاری اختیار کر لینا انسان کو ایک خطرناک راستے پر لے جا سکتا ہے۔
دوسرا طبقہ
یہ وہ خواتین ہیں جو مدارس، جامعات، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے وابستہ ہوتے ہوئے مذہبی مزاج بھی رکھتی ہیں۔ ان کا موقف یہ ہوتا ہے کہ اسلام نے حدودِ شرعیہ کے اندر رہتے ہوئے سیر و تفریح، خوشی اور زندگی سے لطف اندوز ہونے سے منع نہیں کیا۔
اب یہاں یہ سوال اٹھاتا ہے کہ یہ طرزِ فکر انہیں کہاں سے ملتا ہے؟
ان کے اسکارف قیمتی اور جاذبِ نظر، عبایے فیشن کی آمیزش سے بھرپور، پرس مہنگے، شالیں نمایاں، آنکھوں پر چشمے، اور بازاروں و پارکوں میں ان کی چال ڈھال غیر معمولی اعتماد کی مظہر ہوتی ہے۔ اسے وقار کے بجائے بے احتیاطی اور بے حیائی کے قریب سمجھتا ہے۔
اس کے مطابق نقاب کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر طرح کی آزادی کا پروانہ حاصل کر لے۔ بعض سوشل میڈیا مبلغات کی تقلید میں حدودِ شرعیہ کے نام پر تفریح اور آزادانہ طرزِ زندگی کا جو تصور فروغ پا رہا ہے، اس کا انجام خیر کے بجائے فتنہ و فساد کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
"دوسرے لفظوں میں آپ انہیں مذہبی فیمنزم کا نمائندہ طبقہ کہہ سکتے ہیں۔"
یہ طبقہ مذہب کے پردے میں لبرل افکار کا حامل ہے اور آئندہ نسلوں میں فکری انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔
وہ مزید لکھتا ہے:
"شاید یہی وہ خواتین ہیں جن کی آنے والی نسلیں دجال کے پاس جاکر ایمان لائے والی عورتوں کی دادیاں اور نانیاں ہوگی۔
بہر حال، اسلام میں مکمل طور پر داخل ہو جاؤ۔ اپنی پسند اور خواہش کے مطابق اسلام اختیار نہ کرو بلکہ سیدہ فاطمہؓ اور سیدہ عائشہؓ کے نمونۂ حیات کو اپنانے کی کوشش کرو۔
ماں کو "اُم" کہا جاتا ہے، اور اُم کے معنی جڑ کے ہیں۔ اگر جڑ ہی کمزور یا متاثر ہو جائے تو پھول کی لطافت، درخت کی پاکیزگی اور پھل کی مٹھاس کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟
جس طرح ترکی میں سلطنتِ عثمانیہ کو کمزور کرنے کے لیے عورت کو ایک مؤثر ذریعہ بنایا گیا تھا ،اسی طرح آج شہرت، مقبولیت، دولت اور سوشل میڈیا کی چکاچوند کے ذریعے مذہبی خواتین کو بھی مختلف فکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مقدس مقامات پر جا کر سیلفیاں لینا، فوٹو شوٹ کروانا، مختلف انداز سے تصاویر بنانا اور انہیں نشر کرنا ان تمام رویوں کو دینی وقار کے منافی سمجھتا ہے اور انہیں مغربی تہذیبی اثرات کے فروغ کا سبب قرار دیتا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب۔
محمد مصعب پالنپوری