قسط نمبر ۵
*میرٹھ گنگوہ اور سہارنپور کا ایک یادگار علمی سفر*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
________________________________
میرٹھ میں ایک دن
حضرت قاری محبوب الحسن صاحب مظفر نگری کے نام
صبح سویرے دہلی کی خوشگوار اور معطر فضاؤں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میرٹھ کے سفر کا آغاز کیا دہلی میٹرو کے ذریعے بیگم پل میرٹھ پہنچا جہاں سے بذریعۂ بس میڈیکل روانہ ہوا۔
میڈیکل پہنچتے ہی حضرت قاری محبوب الحسن مظفر نگری صاحب کے صاحبزادے اپنی موٹر سائیکل پر استقبال کے لیے موجود تھے ان کی محبت بھری میزبانی کے ساتھ قاری صاحب کے دولت خانہ پر پہنچا کچھ دیر آرام ہی کیا تھا کہ حضرت قاری صاحب تشریف لے آئے۔ ملاقات خیریت دریافت کرنے اور دل نشین گفتگو کے بعد ہم نے ساتھ ناشتہ کیا پھر محبتوں سے سجا ہوا ایسا پرتکلف ظہرانہ کیا جس نے میزبانی کا حق ادا کر دیا۔
ظہر سے قبل ہم مدرسہ بیت العلوم کمال پور پہنچے جہاں نمازِ ظہر ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اسی دوران حضرت قاری اطہر صاحب ارریاوی سے بھی ملاقات ہوئی جو نہایت خوشگوار اور یادگار رہی۔
بعد ازاں حضرت قاری محبوب الحسن صاحب ایک مسجد لے گئے جہاں اپنے ہاتھوں سے ٹھنڈی لسی پلا کر خلوص کی ایک اور خوبصورت مثال قائم کی۔ پھر دوبارہ دولت خانہ واپس آئے کچھ دیر آرام کیا اور شام کے وقت قاری صاحب نے اپنی گاڑی میں بٹھا کر مجھے دیوبند کے لیے روانہ فرمایا۔ تقریباً دو گھنٹے بعد میں دیوبند پہنچ گیا۔
میرٹھ میں حضرت قاری محبوب الحسن مظفر نگری صاحب کی رفاقت نے یہ احساس دلایا کہ اصل دولت محبت اخلاص اور اپنائیت ہے۔ وہ ایک بہترین شاعر مضمون نگار اور مدرس ہیں اور ان کی سادہ مگر پرخلوص شخصیت دل میں گھر کر جاتی ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ حضرت قاری صاحب کی عمر صحت اور خدمات میں خوب برکت عطا فرمائے انہیں ہمیشہ سلامت اور شاد رکھے۔ آمین یا ربّ العالمین۔
گنگوہ میں ایک دن
حافظ شاکر صاحب گنگوہی کے نام
دیوبند کی پُرسکون صبح اور خوشگوار موسم میں حافظ شاکر صاحب گنگوہی کی محبت بھری دعوت پر میں نے گنگوہ کا سفر شروع کیا۔ پہلے بذریعۂ بس نانوتہ پہنچا پھر وہاں سے دوسری بس کے ذریعے گنگوہ روانہ ہوا۔
گنگوہ پہنچتے ہی حافظ شاکر صاحب کے بڑے بھائی استقبال کے لیے موجود تھے۔ ان کے ساتھ دولت خانہ پہنچا جہاں خلوص سے بھرپور استقبال لذیذ ناشتہ اور کچھ ہی دیر بعد محبتوں سے سجا ظہرانہ نصیب ہوا۔ نمازِ ظہر ادا کرنے کے بعد کچھ دیر آرام کیا۔
عصر کی نماز پڑھی اس کے بعد وہ سعادت حاصل ہوئی جس کی مدت سے آرزو تھی مرقد مجاہدِ آزادی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی پر حاضری ہوئی۔ فاتحہ پڑھی قرآنِ کریم کی تلاوت کی اور حضرت کے لیے دعائے مغفرت کے ساتھ اپنے لیے بھی علم و اخلاص کی دعائیں مانگیں۔
شام کو دوبارہ دولت خانہ واپس آئے نمازِ مغرب ادا کی عشائیہ کیا اور جب سہارنپور روانہ ہونے کا وقت آیا تو حافظ شاکر صاحب مجھے بس اسٹینڈ تک چھوڑنے آئے۔ رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے گنگوہ کی مشہور مٹھائی خرید کر دی جس کی مٹھاس آج بھی یادوں میں باقی ہے۔
گنگوہ کی وہ ایک سرزمین ہی نہیں بلکہ ہریالی سادگی محبت اور حسنِ اخلاق کا حسین امتزاج ہے۔ یہاں کے لوگوں کی اپنائیت اور خوش اخلاقی نے دل پر گہرا اثر ڈالا۔
اللہ رب العزت شاکر بھائی اور ان کے اہل خانہ کو ہمیشہ سلامت شاد و آباد اور خوش و خرم رکھے ان کی عمر رزق اور برکتوں میں اضافہ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
سہارنپور میں ایک دن
حضرت مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب و مفتی عبداللہ یوسف میواتی کے نام
گنگوہ کی ٹھنڈی شام اور خوشگوار ہواؤں کے ساتھ سہارنپور کا رخ کیا۔ بذریعۂ بس سہارنپور پہنچا تو میرے عزیز مفتی عبداللہ یوسف میواتی پہلے ہی منتظر تھے۔ ان کے ساتھ مدرسہ پہنچ کر نمازِ عشاء ادا کی پھر محبت سے سجے دسترخوان پر عشائیہ کیا۔
عشائیے کے بعد حضرت مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب کے حجرے میں حاضری ہوئی۔ سلام و دعا کے بعد دیر رات تک علمی فکری اصلاحی اور حالاتِ حاضرہ پر نہایت مفید گفتگو ہوتی رہی۔ حضرت مفتی صاحب کی سادگی خوش مزاجی مزاح اور علمی گفتگو نے اس بیٹھک کو یادگار بنا دیا اور حضرت مفتی صاحب دو کتابیں تحفہ میں دی ایک تو انوارِ حرم جو حال ہی میں آئی ہے اور ایک چہل حدیث ہیں ۔
رات عبداللہ بھائی کے کمرے میں قیام رہا۔ صبح نمازِ فجر کے بعد ہم اس تاریخی قبرستان پہنچے جہاں حضرت مولانا محمد سعیدی حضرت مولانا شیخ یونس جونپوری اور دیگر اکابر علماء و بزرگانِ دین مدفون ہیں۔ وہاں فاتحہ تلاوتِ قرآن اور دعاؤں کے چند پُرسکون لمحات نصیب ہوئے۔
واپسی پر مختصر چائے کا ناشتہ کیا پھر مدرسہ کے دفتر میں بیٹھک ہوئی۔ کچھ دیر بعد حضرت مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب بھی تشریف لائے اور محبت بھری مزاحیہ گفتگو کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔ حضرت نے ناشتے کا اہتمام فرمایا اور خوب سیر ہوکر ناشتہ کیا۔
ظہر سے قبل کچھ دیر آرام کیا پھر عبداللہ بھائی کے ساتھ ظہرانہ کیا۔ روانگی کے وقت مظفر بھائی سے ملاقات ہوئی جو مدرسہ کے ایک طالب علم ہیں۔ ان کے ساتھ ٹھنڈی لسی نوش کی پان کھایا اور پھر سہارنپور کی حسین یادیں دل میں سمیٹے دیوبند واپس لوٹ آیا۔
مظاہر العلوم وقف سہارنپور وہ عظیم درسگاہ ہے جہاں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی نور اللہ مرقدہ حضرت شیخ یونس جونپوری نور اللہ مرقدہ اور حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری نور اللہ مرقدہ جیسی نابغۂ روزگار شخصیات نے علمِ حدیث کی ایسی شمع روشن کی جس کی روشنی آج بھی پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
اللہ رب العزت تمام محبین اور اہل علم کو ہمیشہ سلامت شاد و آباد اور اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔