اسلام نے جس طرح ایمان دعوت اور علم میں عورتوں کو ان کا مقام دیا اخلاقی اور مالی حقوق بھی عورتوں کو فراہم کیے شوہر بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق کے لیے صاف فرمان جاری کیا
البقرہ 228
زندگی میں اگر والدین کی جائیداد تقسیم ہو تو لڑکے لڑکیوں کے برابر کا شریک ٹھہرایا اور میت کے ترکہ میں ماں کو بیوی کو بیٹی کو اور بعض حالتوں میں بہنوں پھوپھیوں اور خالاؤں کو بھی حصہ دار ٹھہرائے سورہ نسا کے اٹھویں رکوع میں اس کا ذکر کیا گیا ہے اگر اس تعداد میں ضعفرائض اور ضعیل اسباب یعنی نیچے اور اوپر کے وارثوں کا حساب لگایا جائے تو تعداد کے اعتبار سے مردوں سے دوگنی عورتیں ہیں جن کو مختلف حالتوں میں ترکہ پہنچتا ہے خود شادی میں جہیز کی منحوس رسم اور بوجھ کے بجائے مہر کو شرط نکاح قرار دیا مہر کو شرط نکاح قرار دے کر عورت کو طالب کے بجائے مطلوب قرار دیا یہ حکم دیا کہ کچھ لے کر بیوی کو لانے کا کیا مطلب اس سے کچھ دے کر اپنے یہاں لے کر آؤ