سنو سنو!!

کتب خانہ کا منیجر ہو تو ایسا ہو

(ناصرالدین مظاہری)

دہلی کی جامع مسجد کے سامنے اردو بازار ہے۔ پہلے یہ اردو بازار واقعی اردو بازار تھا، یعنی ایک طرف کی تقریباً تمام دکانیں اردو کتابوں کا بہترین مرکز اور علم و ادب کا چشمۂ فیض تھیں۔ کتب خانے اب بھی ہیں، مگر کتب خانے گھٹ رہے ہیں اور مرغ کھانے بڑھ رہے ہیں، کتابوں کی دکانیں ہوٹلوں میں تبدیل ہورہی ہیں، اور جہاں کبھی پڑھے لکھے لوگوں کی بھیڑ دکھائی دیتی تھی وہاں اب کھاتے پیتے بھکڑ زیادہ نظر آتے ہیں۔

اردو بازار دہلی کے معروف کتب خانوں میں کتب خانہ انجمن ترقی اردو، فانی بک ڈپو، مکتبہ جامعہ، دینی بک ڈپو، کتب خانہ نذیریہ، کتب خانہ رشیدیہ، علمی کتب خانہ، کتب خانہ عزیزیہ، مکتبہ رضیہ، ادارہ صبح ادب، مکتبۃ المدینہ، لائق بک ڈپو، رضوی کتاب گھر، نیو نیشنل بک ڈپو اور راشدیہ بک ڈپو جیسے نام قابل ذکر ہیں۔

انہی کتب خانوں اور ہوٹلوں کے درمیان، بخاری امام صاحب کے گھر کے قریب، ایک قدیم کتب خانہ ہے جس پر کتب خانہ انجمن ترقی اردو لکھا ہوا ہے۔

اس کے منیجر صاحب کا نام مجھے معلوم نہیں، مگر وہ بڑے خلیق ہیں، ظریف ہیں، لطیف ہیں، ہنس مکھ ہیں اور کتابوں کے تو پرمکھ ہیں!

کتابوں کے مالہ وما علیہ سے ایسی واقفیت میں نے کم ہی دیکھی ہے۔ ہاں! اکثر کتب خانوں پر بے ذوقوں، بدذوقوں اور بداخلاقوں کو ضرور دیکھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے کتب خانے کتابوں کی کمی سے کم اور منیجروں کی بے اعتنائی، بے ذوقی اور بے التفاتی سے زیادہ مررہے ہیں۔

انجمن ترقی اردو کے منیجر صاحب پتہ نہیں منیجر ہیں یا مالک؟ مالک بھی ہیں تو بھی منیجر ہیں تو بھی کتابوں کے بڑے وفادار ہیں۔ اپنی ظریفانہ گفتگو میں وہ آنے والے کے مزاج و مذاق کو پڑھ لیتے ہیں اور پھر شروع ہوجاتے ہیں۔

ایسی ایسی در نایاب اور نادر کتابوں کی رہنمائی کرتے ہیں کہ نووارد سوچتا ہے:

اب تک میں یہاں کیوں نہیں آیا؟

خود کتب خانے میں آپ کے ساتھ گھس جائیں گے، کتابیں دکھاتے اور ان کا تعارف کراتے جائیں گے:

’’یہ دیکھیے، شوکت تھانوی موجود ہیں۔‘‘

’’التَمَش جی یہاں تشریف فرما ہیں۔‘‘

’’نسیم صاحب ادھر حجاز میں آرام فرمارہے ہیں۔‘‘

’’ارے بھائی! محی الدین نواب سے بھی مصافحہ کرلیجیے، کیا پتہ کام کی کچھ باتیں ان سے بھی مل جائیں!‘‘

عربیت کا ذوق اور فارسیت کا شوق ہے تو ادھر آئیے، ہم دبستان فارسی اور جنت عربی کی سیر کراتے ہیں۔

آہا! یہ دیکھیے، دہلوی شعراء یہاں بیٹھے مشاعرہ کررہے ہیں۔

قدرت اللہ شہاب کی شہاب ثاقب سبحان اللہ!

آزاد اور شورش کے اس بازار میں ایک نظر ڈال لیجیے۔

اردو کہنہ کا شوق ہو تو ادھر، اور اردوئے معلی کے لیے ادھر جائیے۔

یہاں موجودہ اردو کی کتابیں شاید نہ ملیں، مگر منجھے ہوئے، سلجھے ہوئے ادباء و شعراء کی بزم کا عکس و نقش ضرور دیکھنے کو ملے گا۔

اور پھر کمال یہ ہے کہ جو شخص ایک کتاب کی تلاش میں اندر داخل ہوتا ہے، وہ درجنوں نایاب کتابیں لے کر باہر نکلتا ہے۔ آمد پر مسرور، کتابوں کی خریداری پر شاداں اور جیب کے ہلکان ہونے پر بھی مسکان و مسکراہٹ بکھیرتا ہوا!

ایسے منیجر کتب خانے کے منیجر نہیں ہوتے، کتابوں کے سفیر ہوتے ہیں۔

کتابوں کو صرف بیچنے والا دکاندار ہوتا ہے، کتابوں سے محبت کرنے والا کتب فروش ہوتا ہے، مگر کتابوں کو پہچاننے، پڑھنے والے تک پہنچانے اور اس کے ذوق کو جگانے والا شخص کتب خانے کی روح ہوتا ہے۔

اسی لیے اے ذمہ دارانِ کتب و کتب خانہ!

کتابوں کی ان علمی تجوریوں پر اگر آپ نے کسی جاہل ناگ کو بٹھادیا، تو وہ کتابیں تو نہیں کھائے گا، مگر آنے والے قارئین کو ضرور ڈس لے گا۔

پھر آپ کی آمد گئی تیل لینے!

آپ خود رفت کی تیاری کرلیجیے!

(نو ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)