سنو سنو!!
’’یہ بی بی سی لندن ہے‘‘
(ناصرالدین مظاہری)
ایک زمانہ تھا جب خبر موبائل کی اسکرین پر انگلی کے ایک لمس سے نہیں آتی تھی، نہ واٹس ایپ کے پیغام کی صورت میں جیب میں اترتی تھی، نہ فیس بک کے نوٹی فکیشن سے آنکھ کھلتی تھی۔ خبر آنے کے لیے وقت مقرر ہوتا تھا، لوگ اس وقت کا انتظار کرتے تھے اور خبر سننے کے لیے مختلف مکانوں اور دکانوں کے صحن و گراؤنڈ میں ریڈیو کے گرد جمع ہونا پڑتا تھا۔
عموماً گھر یا پورے محلے میں ایک ہی ریڈیو ہوا کرتا تھا، مگر اس کی حیثیت محض ایک برقی آلے کی نہیں ہوتی تھی، وہ گھر کا ایک باقاعدہ فرد معلوم ہوتا تھا۔ اس کی آواز آتے ہی گفتگو تھم جاتی، ادھر ادھر کے کام رک جاتے، بچے خاموش ہوجاتے اور بڑے ذرا قریب ہوکر بیٹھ جاتے۔
پھر ایک گرج دار، کھنک دار اور طرح دار آواز سامعین کی سماعتوں سے ٹکراتی تھی:
’’یہ بی بی سی لندن ہے!‘‘
اس کے بعد ایک نہایت پرکیف، سریلی دھن بجتی۔ اس دھن کی کیا تعریف کی جائے! لگتا تھا کانوں میں رس گھل رہا ہے۔ بڑے بوڑھے ریڈیو کے بالکل قریب بیٹھتے تھے، بچے اور جوان ذرا فاصلے پر ہوتے تھے، بلکہ بچے اور جوان تو حقہ، پان اور ضیافت میں ہی لگے رہتے تھے۔
یوں لگتا تھا جیسے ہزاروں میل دور بیٹھا کوئی اپنا آدمی دنیا بھر کی خبریں اٹھائے ہمارے دروازے پر آگیا ہو۔
اس زمانے میں رضا علی عابدی جیسے لوگ صرف خبر نہیں سناتے تھے، وہ آواز کے ذریعے دنیا سے تعارف کراتے تھے۔ ان کی آواز میں ایک خاص ٹھہراؤ، شائستگی اور اعتماد تھا۔
’’سیربین‘‘، ’’میزان‘‘، ’’کتب خانہ‘‘ اور ’’جرنیلی سڑک‘‘ جیسے پروگراموں نے تو ریڈیو کو محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے سفر، تاریخ، تہذیب، معاشرت اور انسانی زندگی کا آئینہ بنا دیا۔
یہ لوگ مائیک کے سامنے بیٹھے ہوئے نظر نہیں آتے تھے، مگر ان کی آوازیں ہر گھر، ہر کان، ہر مکان و دکان میں موجود رہتی تھیں۔
کوئی دکان پر ریڈیو لگائے بیٹھا ہے، کوئی چائے خانے میں کان لگائے ہوئے ہے، کسی دفتر میں ملازم کام کے ساتھ ساتھ آوازیں سن رہا ہے، کسی گاؤں میں چند لوگ ایک ریڈیو کے گرد بیٹھے ہیں، کسی مسافر نے راستے میں ریڈیو کا حجم ذرا بڑھا دیا ہے۔
20 اکتوبر تا 21 نومبر 1962ء ایک ماہ تک ہمارے ملک کی چین سے جنگ ہوئی۔ اس دور میں میرے والد جوان تھے۔ کہتے تھے کہ ہم لوگ رات کو آٹھ بجے فلاں گاؤں کے فلاں صاحب کے یہاں لاٹھی ڈنڈوں کے ساتھ جایا کرتے تھے، تاکہ راستے میں اندھیرے کا فائدہ اٹھاکر کوئی جانور ہم پر حملہ نہ کردے۔
پھر خبر کا وقت قریب آتا تو لوگوں کے قلوب دھڑکنے لگتے۔ ریڈیو کی سوئی درست کی جاتی۔ کبھی آواز صاف آتی، کبھی شور کے درمیان سے الفاظ پکڑنے پڑتے۔ کبھی سگنل کمزور ہوتا تو کوئی ریڈیو کو ذرا اِدھر کرتا، کوئی اینٹینا اوپر اٹھاتا، کوئی کھڑکی کے پاس جا بیٹھتا۔
مگر خبر سننی ہے، کیونکہ خبر صرف خبر نہیں تھی۔
وہ ملک کے حالات تھے، دنیا کی گردش تھی، سیاست کا رخ تھا، جنگ اور امن کی اطلاع تھی، کسی بڑے حادثے کی خبر تھی، کسی اہم شخصیت کے انتقال کی اطلاع تھی، کسی ملک میں حکومت کی تبدیلی تھی، کسی شہر میں ہونے والا واقعہ تھا اور سب سے بڑھ کر یہ احساس تھا کہ ہم دنیا سے کٹے ہوئے نہیں ہیں۔
لندن بہت دور تھا، مگر اس کی آواز بہت قریب تھی۔
پھر وہ لوگ بھی تھے جن کا کام صرف خبر پڑھ دینا نہیں تھا۔ وہ خبر کی تہہ تک جاتے، پس منظر بتاتے، واقعات کو جوڑتے، سوال اٹھاتے اور سننے والے کو یہ احساس دلاتے کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، اسے سمجھنا بھی ضروری ہے۔
شفیع نقی جامعی، رضا علی عابدی اور بی بی سی اردو سے وابستہ دوسرے معروف آوازوں والے صحافی، وسعت اللہ خان، شاہ زیب جیلانی، سحر بلوچ، فرحت جاوید، ثقلین امام، عمر دراز ننگیانہ، محمد زبیر خان، مرتضیٰ علی شاہ، ہارون رشید وغیرہ اپنے اپنے انداز میں اس عہد کی صحافت کی نمائندگی کرتے تھے۔
ان کے پاس آج کے ذرائع نہیں تھے۔
نہ لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ، نہ سوشل میڈیا، نہ سیکڑوں چینل، نہ ہزاروں ویب سائٹ؛ مگر شاید اسی کمی نے ان کی ذمہ داری بڑھا دی تھی۔
ایک خبر بولنے سے پہلے اس کی اہمیت محسوس کرنا، الفاظ کا انتخاب کرنا، آواز کا اتار چڑھاؤ قائم رکھنا اور سننے والے کے اعتماد کو برقرار رکھنا، یہ سب معمولی کام نہیں تھے۔
آج خبر کی کثرت ہے، اس وقت خبر کی قدر تھی۔
آج خبر کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے، اس وقت خبر کے آنے کا انتظار کیا جاتا تھا۔
رضا علی عابدی جب ’’جرنیلی سڑک‘‘ پر سفر کرتے ہوئے اپنی آواز میں کسی شہر، قصبے، بازار، مسافر، دکان دار یا راستے کا ذکر کرتے تو سننے والا اپنے گھر میں بیٹھا بیٹھا چشم تصور میں انہی کے ساتھ چلنے لگتا تھا۔
یہی حسنِ کارکردگی تھا، الفاظ کی جادوگری تھی، تعبیرات کی فسوں کاری تھی۔کتنے ہی لوگ بی بی سی اردو کی نشریات سے اپنی اردو درست کرتے تھے۔ گویا بی بی سی اردو سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے وہ ایک بہترین کوچنگ سینٹر بھی تھا۔ہر لفظ کی ذمہ داری تھی۔ ہر وقفہ معنی رکھتا تھا۔ ہر آواز کے پیچھے ایک ادارے کی ساکھ اور ایک صحافی کی محنت کارفرما تھی۔
تب خبر لندن سے آتی تھی اور لوگ دروازے، دکانیں، چائے خانے، دفاتر اور بیٹھکیں چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ آج خبر ہماری جیب میں ہے، اسکرین پر ہے، انگلی کے ایک لمس پر ہے؛ مگر وہ انتظار کہاں؟ وہ آواز کہاں؟ وہ ٹھہراؤ کہاں؟ اور وہ بے قراری کہاں، جو ریڈیو سے آواز آتے وقت ہوتی تھی کہ:
’’یہ بی بی سی لندن ہے اب آپ وسعت اللہ خان سے خبریں سنئے!‘‘
(دس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)