✍️: محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری
فرقہ واریت دراصل اس ذہنیت کا نام ہے جس میں انسان اپنے مذہب، ذات یا برادری کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہوئے دوسرے گروہ کو شک، نفرت یا دشمنی کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ اختلافِ رائے اور مذہبی اختلاف فطری چیز ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کردینا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیں
اکثر جمہوریت کو صرف انتخابات اور ووٹ دینے تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ جمہوریت کا حقیقی مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔ جمہوریت میں ہر شہری کو برابر کا انسان اور برابر کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ اسے اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی زبان و ثقافت کو محفوظ رکھنے اور قانون کے سامنے مساوی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
ہندوستان کا آئین بھی مساوات، آزادی اور مذہبی آزادی کے اصولوں کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ آرٹیکل 14 قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 15 مذہب، نسل، ذات، جنس اور جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
ایسے میں فرقہ واریت جمہوریت کے بنیادی تصور سے ٹکرا جاتی ہے، کیونکہ جمہوریت شہری کو پہلے انسان اور ہندوستانی شہری کی حیثیت سے دیکھتی ہے، جبکہ فرقہ واریت اسے سب سے پہلے کسی مذہب یا گروہ کے خانے میں تقسیم کردیتی ہے۔
فرقہ واریت کا پہلا نشانہ اعتماد ہوتا ہے
کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت عوام کا باہمی اعتماد ہے۔ جب ایک شخص اپنے پڑوسی کو صرف اس کے مذہب کی بنیاد پر شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے، جب بازار میں کاروباری تعلقات مذہبی شناخت سے متاثر ہونے لگیں، جب بچے اسکول میں ایک دوسرے کو مذہبی خانوں میں تقسیم کرنے لگیں، تو معاشرے میں وہ خاموش دیوار کھڑی ہوجاتی ہے جو کسی قانون سے فوراً نہیں گرتی۔
فرقہ وارانہ نفرت پہلے دلوں کو تقسیم کرتی ہے، پھر محلے، شہر اور بالآخر پورے معاشرے کو متاثر کرسکتی ہے۔
سیاست میں فرقہ واریت کا اثر
جمہوری سیاست میں عوام کو اپنے مسائل، ترقی، تعلیم، روزگار، صحت، مہنگائی اور بنیادی سہولتوں کے بارے میں سوال کرنے کا حق ہے۔ لیکن اگر سیاسی گفتگو میں مذہبی شناخت ہی سب سے بڑا معیار بن جائے تو اصل عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے: مذہب انسان کی روحانی اور اخلاقی زندگی کا اہم حصہ ہوسکتا ہے، لیکن شہری حقوق کا معیار مذہبی شناخت نہیں ہونا چاہیے۔
جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہری اپنے نمائندوں سے کارکردگی کا حساب مانگیں؛ اور کمزور اس وقت ہوتی ہے جب شہریوں کو ایک دوسرے سے خوف زدہ کرکے اجتماعی مسائل سے توجہ ہٹ جائے۔
سوشل میڈیا نے خطرہ بڑھایا ہے
آج فرقہ وارانہ اشتعال صرف جلسوں یا تقریروں تک محدود نہیں رہا۔ ایک جھوٹی خبر، پرانی ویڈیو، غلط عنوان یا اشتعال انگیز پیغام چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔
اسی لیے شہری ذمہ داری پہلے سے زیادہ اہم ہوگئی ہے۔ کسی مذہب یا طبقے کے خلاف پیغام دیکھتے ہی اسے آگے بڑھا دینا صحافت نہیں، ذمہ داری نہیں، بلکہ بعض حالات میں خطرناک عمل بن سکتا ہے۔
موجودہ فوجداری قانون میں بھی مختلف گروہوں کے درمیان مذہب، ذات، زبان، علاقہ وغیرہ کی بنیاد پر دشمنی یا نفرت پیدا کرنے والے بعض اعمال کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
فرقہ واریت معیشت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے
جہاں خوف اور کشیدگی ہو وہاں کاروبار، تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار بھی متاثر ہوتے ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ مسلسل بے اعتمادی اور کشیدگی کے ماحول میں ترقی نہیں کرسکتا۔
ہندوستان جیسے بڑے ملک میں معاشی ترقی کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ مختلف طبقات امن و اعتماد کے ساتھ تعلیم حاصل کریں، کاروبار کریں، روزگار حاصل کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔
اس لیے فرقہ وارانہ ہم آہنگی صرف اخلاقی ضرورت نہیں بلکہ معاشی ترقی کی بھی بنیادی شرط ہے۔
ہندوستانی آئین کا پیغام
ہندوستانی آئین کی تمہید میں انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کو قومی زندگی کے بنیادی مقاصد میں شامل کیا گیا ہے۔ اس میں فرد کی عزت اور ملک کی وحدت و سالمیت کے ساتھ اخوت کو جوڑا گیا ہے۔
یہاں ایک قابلِ توجہ بات یہ بھی ہے کہ آئین کے بنیادی فرائض میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مذہبی، لسانی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہوکر تمام ہندوستانیوں کے درمیان ہم آہنگی اور مشترکہ اخوت کے جذبے کو فروغ دیں۔
یعنی باہمی احترام صرف اخلاقی نصیحت نہیں؛ یہ ہندوستانی شہری زندگی کے آئینی تصور کا بھی حصہ ہے۔
فرقہ واریت کا علاج کیا ہے؟
اس کا علاج کسی ایک طبقے کو موردِ الزام ٹھہرانے میں نہیں، بلکہ قانون کی بالادستی، غیر جانب دار انصاف، ذمہ دار سیاست، معیاری تعلیم، آزاد اور ذمہ دار صحافت اور شہری شعور میں ہے۔
ہر مذہب اور ہر طبقے کے ذمہ دار افراد کو اپنے لوگوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ کسی فرد کے جرم کی ذمہ داری پورے مذہب یا پوری برادری پر عائد نہیں کی جاسکتی۔
اسی طرح میڈیا اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو خبر کی تصدیق کے بغیر اسے پھیلانے سے گریز کرنا ہوگا۔ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہو اور کسی بھی قسم کی نفرت یا تشدد کے معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی ہو۔
ہمیں ہندوستان کو کیا بنانا ہے؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، ہر شہری سے ہے۔
ہم ایسا ہندوستان چاہتے ہیں جہاں مندر کی گھنٹی اور مسجد کی اذان ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہ ہوں؛ جہاں مختلف زبانیں ایک دوسرے کی دشمن نہ ہوں؛ جہاں کسی شہری کی حب الوطنی کو اس کے مذہب کے ترازو میں نہ تولا جائے؛ جہاں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، بحث ہو مگر نفرت نہ ہو، سیاست ہو مگر معاشرتی رشتے نہ ٹوٹیں۔
ہندوستان کی خوب صورتی اس کی یک رنگی میں نہیں بلکہ اس کے رنگارنگ وجود میں ہے۔
اختتامیہ
فرقہ واریت کا سب سے بڑا نقصان یہ نہیں کہ دو گروہوں کے درمیان وقتی کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے؛ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور جس معاشرے میں شہری اپنے ہی ہم وطنوں سے خوف محسوس کرنے لگیں، وہاں جمہوری اداروں کے لیے بھی چیلنج بڑھ جاتا ہے۔
اس لیے ہندوستانی جمہوریت کی مضبوطی صرف پارلیمنٹ، اسمبلیوں اور انتخابات سے نہیں ہوگی؛ اس کی اصل مضبوطی اس وقت ہوگی جب ہندوستان کا عام شہری یہ محسوس کرے کہ وہ اپنے مذہب کے ساتھ ساتھ اس ملک کا برابر کا شہری بھی ہے، اور اس کے پڑوس میں رہنے والا مختلف مذہب کا انسان بھی اسی وطن کا برابر کا شہری ہے۔
فرقہ واریت دیواریں بناتی ہے، جمہوریت پل بناتی ہے۔
فرقہ واریت نفرت کو جنم دیتی ہے، جمہوریت اختلاف کے باوجود ساتھ رہنا سکھاتی ہے۔
اور ہندوستان کی جمہوری روح کا تقاضا یہی ہے کہ اختلاف باقی رہے، مگر انسانیت اور اخوت بھی باقی رہیں۔