ملت ٹائمس کے دفتر میں ایک یادگار ملاقات
آج ملت ٹائمز کے دفتر جانے کا موقع ملا۔ جیسے ہی دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک صاحب تشریف لائے اور دریافت کیا: ’’کیا کام ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’شمس تبریز قاسمی صاحب سے ملاقات کرنی ہے۔‘‘
انہوں نے نہایت محبت سے کہا: ’’آپ تشریف رکھیے۔‘‘ اس کے فوراً بعد انہوں نے پانی پیش کیا اور فرمایا: ’’سر جی ابھی مصروف ہیں، تھوڑی دیر بعد آپ کی ملاقات کروا دیتا ہوں۔‘‘
کچھ دیر انتظار کے بعد شمس تبریز قاسمی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران حالاتِ حاضرہ اور ملت کے مختلف مسائل پر کافی گفتگو ہوئی۔ لیکن اس ملاقات میں جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ جناب شمس تبریز قاسمی صاحب کے اخلاق، تواضع اور حسنِ سلوک تھا۔
ان کی گفتگو اور اندازِ ملاقات دیکھ کر دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ میں کسی بہت بڑے اور مشہور شخص سے نہیں، بلکہ ایک ایسے عام اور مخلص انسان سے ملاقات کر رہا ہوں جو اپنے سامنے والے کو پوری محبت اور اپنائیت کے ساتھ وقت دیتا ہے۔ ان کے حسنِ اخلاق کا یہ اثر تھا کہ چند ہی لمحوں میں ایسا محسوس ہونے لگا جیسے یہ ہماری پہلی ملاقات نہیں، بلکہ برسوں سے ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی رہی ہو۔
اس کے بعد حالاتِ حاضرہ اور موجودہ حالات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بہت سی قیمتی نصیحتیں کیں کہ میدانِ عمل میں کس طرح کام کرنا چاہیے، کس انداز سے عوام کی خدمت کرنی چاہیے اور خصوصاً بے سہارا اور ضرورت مند لوگوں کی مدد کو اپنی ذمہ داری سمجھنا چاہیے۔
ان کی باتیں سنتے ہوئے دل میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہو رہی تھی۔ یہ میری جناب شمس تبریز قاسمی صاحب سے پہلی ملاقات تھی، لیکن پہلی ہی ملاقات میں انہوں نے اپنے اخلاق، محبت اور خلوص سے دل جیت لیا۔
ملت ٹائمز کے دفتر میں موجود دیگر کارکنان سے بھی ملاقات ہوئی۔ سب کے گفتگو کرنے کا انداز، لہجہ اور برتاؤ بہت محبت بھرا اور اپنائیت والا تھا۔ دفتر میں داخل ہونے کے بعد بالکل ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میں کسی اجنبی جگہ پر پہلی مرتبہ آیا ہوں، بلکہ یوں محسوس ہوتا رہا جیسے میں یہاں پہلے بھی آتا جاتا رہا ہوں اور سب لوگ مجھے پہلے سے جانتے ہوں، حالانکہ ان میں سے تقریباً سبھی سے میری پہلی ملاقات تھی۔
ملاقات کے اختتام پر جب میں رخصت ہونے لگا تو جناب شمس تبریز قاسمی صاحب نے محبت کے ساتھ مجھے کچھ ہدیہ پیش کیا، جس میں ملت ٹائمز سے متعلق مختلف چیزیں شامل تھیں۔ ان کا یہ اندازِ محبت دیکھ کر میں واقعی حیران رہ گیا۔ اتنے اچھے اخلاق، خلوص اور محبت بھری گفتگو کے بعد رخصت ہوتے وقت ہدیہ پیش کرنا ان کی شخصیت کے حسنِ اخلاق کا ایک اور خوبصورت پہلو تھا۔
یہ ملاقات میرے لیے یقیناً ایک یادگار ملاقات رہے گی۔ بعض ملاقاتیں وقت کے اعتبار سے مختصر ہوتی ہیں، لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے بہت طویل ہوتی ہیں۔ آج کی یہ ملاقات بھی میرے لیے ایسی ہی ملاقات رہی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ملت ٹائمز کو مزید ترقی، استحکام اور کامیابی عطا فرمائے، جناب شمس تبریز قاسمی صاحب کو صحت، عزت، اخلاص اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور انہیں دین و ملت کی خدمت کے لیے مزید توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام جائز کوششوں کو قبول فرمائے اور دنیا و آخرت میں کامیابی و سربلندی عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
از قلم: بدیع الزماں ثاقبی ارریاوی