ذرا سوچیے، ایک شخص گھر سے نکلے اور پھر برسوں تک اپنے والدین، بیوی اور بچوں کی صورت نہ دیکھ سکے۔ ماں دروازے پر نظریں جمائے بیٹھی ہو، بچے باپ کی واپسی کا انتظار کر رہے ہوں، مگر وہ شخص ہزاروں میل دور سمندر کے پار قید ہو!

اس کے لیے سب سے بڑا دکھ صرف قید نہیں، بلکہ اپنے پیاروں سے دوری بھی تھی۔

زنجیروں میں جکڑا ہوا انسان شاید چل پھر نہ سکے، لیکن اپنوں کی یاد کو کون قید کر سکتا ہے؟