سید الانبیاء، خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ذکر محض کسی نام کا تذکرہ یا تاریخ کے صفحات پر ثبت کسی عظیم شخصیت کا بیان نہیں، بلکہ یہ اس برگزیدہ ہستی کا ذکر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے منصبِ رسالت کے لیے منتخب فرمایا، جس پر وحیِ الٰہی کا نزول ہوا، جس کی بعثت کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا گیا اور جس کی سیرت کو انسانیت کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ بنایا گیا۔ فَذُو الْعَرْشِ مَحْمُودٌ وَهٰذَا مُحَمَّدٌ ﷺ عرش کا مالک اللہ تعالیٰ محمود و مستحقِ حمد ہے، اور یہ محمد ﷺ ہیں، اللہ کے محبوب رسول، جن کا ذکر خود ربِ کائنات نے بلند فرمایا۔ آپ ﷺ کی عظمت کسی انسانی تعریف کی محتاج نہیں، کیونکہ جس ذاتِ اقدس کی شان میں خود پروردگارِ عالم گواہی دے، اس کی رفعت و عظمت کا اندازہ انسانی عقل و بیان کی حدود سے کہیں بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ اور بے شک آپ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔ اور فرمایا وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر ہی بھیجا ہے۔‘‘ یہ دونوں آیات اس حقیقت کو روشن کرتی ہیں کہ آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ عظمتِ اخلاق اور عالمگیر رحمت کا ایسا حسین امتزاج ہے جس کی نظیر تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت محض زبانی دعوے، جذباتی وابستگی یا رسمی عقیدت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایمان کا تقاضا اور اتباعِ سنت کا عملی عہد ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ تم میں سے کوئی شخص کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا، جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔‘‘ اس ارشادِ نبوی ﷺ سے محبتِ رسول کی اہمیت واضح ہوتی ہے؛ تاہم اس محبت کا حقیقی تقاضا یہ بھی ہے کہ ہماری زندگی میں آپ ﷺ کی سنت، تعلیمات، عدل، رحمت، صداقت اور حسنِ اخلاق نمایاں ہوں۔ جس محبت کا دعویٰ کیا جائے، اس کے آثار کردار میں بھی دکھائی دینے چاہییں، کیونکہ اتباع کے بغیر محبت کا دعویٰ اپنی تکمیل کو نہیں پہنچتا۔
اسی محبت کا ایک لازمی تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس، نامِ مبارک اور مقدساتِ دین کے احترام کو ملحوظ رکھا جائے۔ آپ ﷺ کی شان میں تمسخر و استہزاء کرنا مسلمانوں کے دینی جذبات کو مجروح کرنے والا سنگین طرزِ عمل ہے۔ کسی مہذب معاشرے میں کسی کے مذہبی عقائد اور مقدسات کو بلاوجہ تحقیر کا نشانہ بنانا اخلاقی بلندی کی علامت نہیں ہوسکتا۔ قرآنِ مجید نے زبان کے استعمال میں حکمت اور نتائج کی رعایت کا اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ اور جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، انہیں برا نہ کہو، ورنہ وہ جہالت کی بنا پر حد سے بڑھ کر اللہ کو برا کہیں گے۔‘‘ اس قرآنی ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف اور مخالفت کے باوجود زبان کو بے لگام چھوڑنا درست نہیں؛ بلکہ حق گوئی کے ساتھ حکمت، وقار اور اخلاقی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے ذکر کی رفعت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کردیا۔ اسی طرح ارشاد فرمایا إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ۔ بے شک مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں ہم آپ کے لیے کافی ہیں۔‘‘ یہ آیات اہلِ ایمان کے لیے تسلی، یقین اور استقامت کا پیغام رکھتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ہے اور آپ کی رسالت کی حقانیت کسی کے تمسخر سے متاثر نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا کسی کی گستاخانہ بات سن کر ہمارا ردِعمل بھی شریعت کی حدود، عقل و حکمت اور اخلاقی وقار کے تابع ہونا چاہیے۔ کسی فرد کو خود سے سزا دینے، تشدد کرنے یا قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار حاصل نہیں؛ بلکہ علمی جواب، پُرامن احتجاج اور جائز قانونی ذرائع اختیار کرنا ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ محبتِ رسول ﷺ کا امتحان صرف اس وقت نہیں ہوتا جب کوئی دوسرا آپ ﷺ کی شان میں نامناسب کلمات کہے، بلکہ اس وقت بھی ہوتا ہے جب ہم اپنی روزمرہ زندگی میں آپ ﷺ کی تعلیمات سے انحراف کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘ پس جو زبان ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی ہے، اسے جھوٹ، غیبت، بہتان اور بدزبانی سے بھی محفوظ رہنا چاہیے؛ جو دل رسول اللہ ﷺ کی محبت کا دعوے دار ہے، اسے بغض و کینہ سے پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؛ اور جو شخص آپ ﷺ کی عظمت کا پیغام عام کرنا چاہتا ہے، اسے اپنے کردار میں صداقت، دیانت، عدل، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق پیدا کرنا چاہیے۔ یہی وہ عملی دعوت ہے جو دلوں کو متاثر کرتی اور سیرتِ نبوی ﷺ کی حقانیت کو نمایاں کرتی ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت ہمارے ایمان کی روح، آپ کا ادب ہماری دینی ذمہ داری اور آپ کی اتباع ہماری عملی منزل ہے۔ ہمیں اپنی اولاد اور نئی نسل کو سیرتِ طیبہ سے روشناس کرانا، درود و سلام کی کثرت کرنا، سنتِ نبوی ﷺ کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا اور حکمت و اخلاق کے ذریعے انسانیت تک پیغامِ رحمت پہنچانا چاہیے۔ یاد رکھیے! رسول اللہ ﷺ کی عظمت کے تحفظ کا مؤثر ترین عملی راستہ یہ ہے کہ ہم خود آپ ﷺ کی تعلیمات کے سچے نمائندے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكََ اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کردیا۔ پس آئیے! ہم اپنی محبت کو محض دعوے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے ایمان، کردار، معاملات اور اخلاق سے ثابت کریں کہ ہم واقعی امتِ محمدیہ ﷺ سے وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، کامل اتباعِ سنت اور ادبِ مصطفیٰ ﷺ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔