وقت کی پابندی کی اگر بات کی جائے تو یوں لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اذان کے ذریعے ہمیں وقت کا پابند بنا دیا ہے۔ گویا دن کی شروعات سے لے کر رات کے اس پہر تک، جب تمام مصروفیات سے فراغت حاصل کرنے کے بعد انسان سکون کے گہوارے میں قدم رکھتا ہے، اذان کی آواز ہمیں وقت اور کام کے ایک متوازن نظام کی یاددہانی کراتی ہے کہ کب اور کس وقت کون سا کام انجام دینا ہے۔

فجر کی اذان کے ساتھ بیداری کا سماں اور اپنے کاموں کی شروعات کا ایک الارم ہوتا ہے کہ اب یہاں سے آپ کے دن کی روٹین شروع ہوتی ہے۔ اس کے بعد دن بھر کی مصروفیات اپنے مقررہ اوقات کے مطابق جاری رہتی ہیں۔ ظہر کی اذان آپ کو یاددہانی کراتی ہے کہ اب کاموں کے درمیان وقفہ لے کر نماز ادا کی جائے۔ نماز اور کھانے کے بعد تھوڑی دیر آرام کر لیا جائے، جسے قیلولہ کہتے ہیں۔قیلولہ کے بارے میں
 حدیث کا مفہوم ہے کہ
 نبی کریم ﷺ نے فرمایا "قیلولہ کرو (دوپہر کے وقت آرام کرو)، کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا۔"

 اس میں سونا لازمی نہیں ہے، بلکہ لیٹ کر یا بیٹھ کر آنکھ بند کر کے تھوڑی دیر آرام کرنا بھی قیلولہ میں شامل ہے۔اس کے بعد آپ پھر سے نئی قوت اور تازگی کے ساتھ اپنے کاموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ عصر تک جاری رہتا ہے۔ پھر عصر، مغرب اور عشاء کی اذانیں یکے بعد دیگرے آپ کو عبادت کے لیے متوجہ کرتی ہیں۔ مغرب کی اذان دن کے اختتام کی یاددہانی کراتی ہے، جبکہ عشاء کی نماز کے بعد رات کی مصروفیات سمیٹ کر آرام کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔

اب اس روٹین کے مقابلے میں اگر ہم اپنا موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی اذان کی آواز سنے گویا مہینوں یا سال بیت گئے ہوں، کیونکہ ہماری صبح کا آغاز دس سے بارہ بجے کے درمیان ہوتا ہے، یعنی فجر کا وقت گزر جانے کے بعد۔ یوں ظہر کی نماز بھی ہمارے دن کے آخری پہر میں یا کبھی قضا ہونے کے بعد ادا ہوتی ہے۔ اسی طرح باقی نمازیں بھی تاخیر سے ایسے اوقات میں پڑھی جا رہی ہوتی ہیں کہ بس ادا ہیں یا قضا، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جب اذان کی صدا گونجتی ہے تو ہمارے کاموں میں مشغولیت عروج پر ہوتی ہے۔ ہم کسی کام میں اس قدر الجھے ہوتے ہیں کہ اسے ادھورا چھوڑ کر نماز ادا کرنا گوارا نہیں کرتے۔ سوچتے ہیں کہ پہلے یہ کام مکمل کر لیں، پھر اطمینان سے نماز پڑھیں گے۔ لیکن یہ پہلے والا کام ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا اور اسی انتظار میں نماز کا وقت نکل جاتا ہے۔

ہم نے اپنی روٹین کو نماز کے اوقات کے بجائے اپنے کاموں کے حساب سے تقسیم کر دیا ہے۔ نتیجتاً نہ ہمارے کام اطمینان سے مکمل ہوتے ہیں، نہ نماز وقت پر ادا ہوتی ہے۔ ہم ایک کام سے دوسرے کام میں الجھتے رہتے ہیں، وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور ذہنی تھکن بھی بڑھتی جاتی ہے۔ یوں ہمارا جسم و دماغ مسلسل دباؤ کا شکار رہتا ہے اور پوری زندگی ایک بے ترتیب شیڈول کا حصہ بن جاتی ہے۔

حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے روزمرہ کے معمولات کو نماز کے اوقات کے مطابق ترتیب دیں۔ اذان ہوتے ہی غیر ضروری مصروفیات کو روک کر نماز کی ادائیگی کو ترجیح دیں اور باقی کاموں کو ان کے لیے مختص وقت میں یکسوئی اور توجہ کے ساتھ انجام دیں۔ ہر کام کو بلاوجہ طول دینے اور ایک ساتھ کئی کاموں میں الجھنے کے بجائے جو کام کریں، پوری توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ کریں۔ اس طرح نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ کام بھی بہتر انداز میں مکمل ہوں گے۔

یاد رکھیے! نماز ہمارے کاموں میں سے محض ایک کام نہیں، بلکہ ہمارے پورے نظامِ زندگی کی بنیاد ہے۔ جب ہم نماز کو وقت پر ادا کرنے کی عادت بناتے ہیں تو زندگی کے دیگر معاملات میں بھی نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ اسلام دینِ فطرت ہے اور اس کی تعلیمات ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال، ترتیب اور پابندیِ وقت کا درس دیتی ہیں۔ اس لیے اپنے کاموں کو نماز کے تابع بنائیے، نماز کو اپنے کاموں کے تابع نہیں؛ کیونکہ وقت کی قدر اور نماز کی پابندی ہی ایک منظم زندگی کی بنیاد ہے۔
ازقلم زا-شیخ