🍃 *نقوش جاوداں* 🕯️
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✍🏻گل رضا راہی ارریاوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رشتے کئی ہوتے ہیں سب میں محبت وتعلق کی خوشبو ہوتی ہے ، پر بعض رشتے اتنے اٹوٹ ہوتے ہیں کہ ٹوٹ نہیں سکتے ، بھلاۓ بھول نہیں سکتے ، ختم نہیں کیے جاسکتے ،وہ قائم و دائم رہتے ہیں ،ہمشیہ ذہن و دماغ اور قلب و جگر میں نقش و پیوست ہوتے ہیں -
معلم ومتعلم کا رشتہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جو کبھی ختم نہیں کیے جاسکتے، ان کا رشتہ والد و ولد جیسا ہے ، جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کےلیے قربانیاں دیتاہے، شفقت و محبت کے پھول نچھاور کرتاہے ،اس کی بہتر مستقبل کےلیے زمانے سے نبرد آزما ہوتاہے ،اسکی دنیوی ضروریات کی تکمیل کےلیے بساط بھر کوشاں رہتاہے ،تاکہ اس کو کسی طرح کی شکایت نہ ہو ،اسی طرح استاذ بھی اپنے شاگرد کی علمی ، ذہنی اورفکری تربیت کےلیے کوشاں رہتاہے ،دیر رات بیدار رہ کر، مطالعہ کرکے علمی پیچیدگیوں کو حل کرتاہے تاکہ سہل سے سہل انداز میں اپنے شاگرد کے سامنے پیش کرسکے ، اس میں کسی کوتاہی سے کام نہیں لیتا ،استاذ کی یہ کوشش رہتی ہے کہ میرا ہر شاگرد کامیاب ہو، علم وعمل ،اخلاص وللہیت اور صلاح وفلاح سے مزین وآراستہ ہو، اس کی زندگی نبوی زندگی کا نمونہ اورعکس ونقش ہو ،اس کے رہن سہن، عادت و اطوار ،گفتار وکردار سے نبوی زندگی جھلک نظر آۓ اور نبوی معاشرے کی تعمیر وتشکیل ہو ،اس کےلیے انتھک کوشش کرتاہے ،اس کی نگرانی کرتاہے-
والدین تو پرورش کرتا ہے ،زندگی کی آسائش و آرام کی فکر کرتاہے ؛ مگراستاذ اسے نکھارتا ہے، سنوارتا ہے ،زندگی کے طور طریقے سکھاتا ہے، اس کو بلند مقام پر پہونچاتاہے، اسی کو دوسرے لفظوں میں کہا جاۓ تو والدین اوپر سے نیچے لاتا اور استاذ نیچے سے اوپر لے جاتاہے یعنی اس کے علمی و فکری تربیت کرکے مخلوق میں اس کو نمایاں کرتاہے -
ایک اچھاطالب علم اپنے استاذکی قدر کرتاہے ،ان سے اسی قدر محبت کرتاہے، جس طرح وہ اپنے والدین سے محبت کرتاہے ،ان سے قلبی تعلق، دلی لگاؤ رکھتاہے،دل سے ان کا احترام کرتاہے،انہیں اپنے دل میں ایک خاص مقام دیتاہے ،وہ مقام جو ایک مخلص ومحسن کا ہوسکتاہے،ان کی یادوں کو ،ان کی باتوں کو یاد رکھتاہے ،انہیں دیکھ کر ،ان سے مل کر سکون وسرور اور قلبی قرار حاصل کرتاہے ،ایسا لگتاہے کہ وہ اپنے والد کے زیر سایہ ہے فرق بس اتنا ہے کہ وہ روحانی باپ ہے-
راقم بھی اپنے استاذ سے عقیدت و محبت رکھتاہے،ان کی اطاعت کی کوشش کرتاہے اور ان کی خدمت سے خوشی حاصل کرتاہے -
ابھی کچھ روز قبل مادر علمی "دارالعلوم دیوبند "میں رابطۂ مدارس کا اجلاس ہوا، بڑی تعداد میں علماء کرام ،خدام دین کی تشریف آوری ہوئی ،ہرطرف علماء ہی علماء نظر آرہے تھے،امید تھی کہ ہمارے بھی اساتذہ بھی آئیں گے؛ مگر رابطہ نمبر نہ ہونے کی وجہ سے ملاقات نہیں ہوئی ،اجلاس ختم ہوا ،سب حضرات اپنے اپنے گھر کو رخصت ہوۓ ،راقم نے سوچا کہ شاید سب چلے گیے ہوں ،اگلے دن عصر بعد راقم اپنے رفیق درس مولوی سہیل کے ساتھ مسجد قدیم کے راستے ضروری کام سے دکان کی طرف جارہاتھا کہ نہایت مشفق ومربی استاذ حضرت مولانا ومفتی غفران صاحب دامت برکاتہم العالیہ پر نظر پڑی ، وہ استاذ جن سے راقم نے"مالابدمنہ "اور ھدایۃ النحو پڑھا،دیکھتے ہی میں نے پہچان لیا اور مجھ سے رہا نہ گیا، کیوں کہ حضرت سے ملاقات ہوۓ عرصۂ دراز ہوگیا تھا ،درمیان چھ سات سال تک کوئی رابطہ نہ رہا،اس لیے استاذ جی کے پیچھے دوڑ لگائی اور حضرت سے ملاقات کی ،علیک سلیک کے بعد نام بتایا تو حضرت نے پہچان لیا اور میں نے بتایا کہ امسال راقم دارالعلوم میں شریک دورۂ حدیث ہےتو استاذ جی نے آفریں آفریں اور تہنیت وتبریک کے کلمات کہے، پیٹھ تھپتپھایا اور بہت خوش ہوۓ، نودرہ میں بیٹھ کر مزید گفت وشنید ہوئی، اور حضرت نے فرمایا "رابطہ کا اجلاس اس لیے بھی ہوتاہے تاکہ رابطہ ہوجاۓ" یعنی جن سے رابطہ منقطع ہوگیا خواہ وہ شاگرد ہو یا ساتھی یااستاذ ،سب کا سب سے رابطہ جڑجاۓ اور جن کا رابطہ پہلے سے ہے وہ مزید مستحکم ہوجاۓ -
حضرت سے عصر تا مغرب بہت سی گفتگو ہوئی ، پرانےشاگردوں کے بارے میں معلوم کرنے لگے ، مغرب بعد تعلیم کی وجہ سے درسگاہ چلا گیا ، پھرصبح کا ناشتہ حضرت کے ساتھ ہوا ، آخری ملاقات ہوئی، دعائیں دی ،یہ قیمتی لمحہ جو استاذجی کے ساتھ گزرے ہیں وہ راقم کےلیے بہت قیمتی سرمایہ ہے -
حضرت اصولی آدمی ہیں ،اپنی بات بہت بےباکی سے دو ٹوک لفظوں بولتے ہیں ، کسی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے اور "الحق یقال " پر عمل پیرا ہیں ، اپنے شاگردوں کے ساتھ بہت مشفق ہیں ،دوران تعلیم سختی کرتے ہیں تاکہ ہم جیسے سست اور غافل طالب علم سستی و غفلت چھوڑ کر مقصد میں لگے رہے چھٹی کے اوقات میں حضرت بہت شفیق رہتے ہیں تاکہ طالب علم ان سے ملنے میں جھجھک محسوس نہ کرے ،اپنے علمی ضرورت کو بیان کرے ،اپنی تشنگی بجھاۓ اوراپنی جو کمی کوتاہی ہے اس کو اپنے استاذ کی رہنمائی میں دور کرے -
حضرت الاستاذ نے رخصت ہوتے وقت کچھ روپے بطور ھدیہ دییے، جسے اگر رکھتا تو شاید کسی کام میں خرچ ہوجاتا میں نے بہتر یہ سمجھا کہ حضرت کے رقم سے ایک کتاب خرید لوں جسے پڑھاجاۓ یاد رکھاجاۓ تو شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ کی ایک کتاب *" عیسائیت کیاہے "* خرید لیا -
اللہ تعالی حضرت کی صحت وعافیت مال و دولت اور عمر میں برکت عطافرماۓ اور حضرت الاستاذ سے مزید استفادے کی راہ ہموار فرماۓ آمیں