📖شریعت اور عقل🧠
کیا نقل اور عقل میں یکسانیت اورہم آہنگی ہیں یا آپس میں مخالف ہے؟
🖊بعض علماءکرام کے نزد نقل،عقل پر مقدم ہے۔یعنی ہرحال میں نقلی دلیل کو عقلی دلیل پرترجیح دینا چاہئے۔
اور بعض کے نزد نقل،عقل کے موافق ہے۔آپس میں مخالفت نہیں،جب مخالفت نہیں توترجیح دینے کی ضرورت بھی نہیں؟
📄ان دونوں رائیوں تطبیق جانے سے پہلے ایک تمہیدی بات جانناضروری ہیں۔
عقل ذریعہ علم ہے اور عقل انعکاس ہونے میں آئینہ کیطرح ہیں صرف فرق یہ ہے کہ آئینہ میں حفاظت کےمادہ موجود نہیں اور عقل میں موجود ہیں۔مثلا کوئی چیز آئینہ کےسامنے ہو تو نظر آتا ہے ورنہ نہیں اور عقل میں غائب اشیاء کے تصور بھی ہوسکتا ہے۔
🌿عقل اور آئینہ کے عدم انعکاس کے پانچ وجوہات ہوسکتا ہیں۔
جومندرجہ ذیل لکھا ذیل ہے۔
1️⃣نقصان المواد:جب آئینہ میں مٹیریل ناقص لگاہو تو انعکاس نہیں کرسکتا اور اسی طرح عقل میں ''نقصان العقل'' یعنی جب انسانی عقل ناقص ہو تو انعکاس نہیں کرسکتا۔
2️⃣تربب المرآة: یعنی جب آئینہ غبارآلودہ اورگردآلودہ ہوجائے تو انعکاس نہیں کرسکتا۔اورعقل میں ''ارتکاب الذنوب''یعنی جب انسانی عقل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سےمغبر ہوجائےتو پھر عقل انعکاس نہیں کرسکتا۔
3️⃣عدم محاذات: جب آئینہ کےسامنے شیئ مرئی کے محاذات نہ ہو تو پھر انعکاس نہیں کرسکتا۔ اور عقل میں ''عدم توجه'' یعنی جب عقل کسی چیز کومتوجہ نہ ہو تو پھر عقل انعکاس نہیں کرسکتا۔
4️⃣وقوع الحائل: جب آئینہ اور شیئ مرئی کےدرمیان کوئی حائل واقع ہو تو پھر آئینہ انعکاس نہیں کرسکتا۔اور عقل میں''وقوع العقائد الباطلة''یعنی جب عقل میں عقائد باطلہ راسخ ہوجائے تو پھر عقل انعکاس نہیں کرسکتا۔
5️⃣ عدم تسویة الجهة:جب آئینہ کے جھت برابر نہ ہو یعنی شیئ مرئی تو آئینہ کےسامنے ہو مگر شیئ مرئی آئینہ سےجھت میں دائیں یا بائیں طرف ہو اور عقل میں ''عدم ترتیب المعلومات'' یعنی عقل میں ریکارڈ شدہ معلومات کےدرمیان ترتیب نہ ہو تو پھر عقل انعکاس نہیں کرسکتا۔
☘️تطبیق کے پہلو☘️
جوحضرات فرماتے ہیں کہ نقل عقل پر مقدم ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ جب عقل میں یہ 5 چیزیں(خرابیاں) موجود ہو تو نقل عقل پر مقدم ہے کیونکہ عقل سقیم بن گیا سلیم نہ رہا۔
اور جوحضرات فرماتے ہیں کہ نقل عقل کے مخالف نہیں بلکہ موافق ہے یہ اس وقت ہے جب عقل میں یہ 5 چیزیں(خرابیاں) موجود نہ ہو۔اور عقل سقیم نہ ہو بلکہ عقل سیلم ہو تو پھر عقل اور نقل میں کوئی منافات نہیں۔
🍀ملخص از تھافت الملاحدہ۔
✍️ عنایت شاہ حقانی📖شریعت اور عقل🧠
کیا نقل اور عقل میں یکسانیت اورہم آہنگی ہیں یا آپس میں مخالف ہے؟
🖊بعض علماءکرام کے نزد نقل،عقل پر مقدم ہے۔یعنی ہرحال میں نقلی دلیل کو عقلی دلیل پرترجیح دینا چاہئے۔
اور بعض کے نزد نقل،عقل کے موافق ہے۔آپس میں مخالفت نہیں،جب مخالفت نہیں توترجیح دینے کی ضرورت بھی نہیں؟
📄ان دونوں رائیوں تطبیق جانے سے پہلے ایک تمہیدی بات جانناضروری ہیں۔
عقل ذریعہ علم ہے اور عقل انعکاس ہونے میں آئینہ کیطرح ہیں صرف فرق یہ ہے کہ آئینہ میں حفاظت کےمادہ موجود نہیں اور عقل میں موجود ہیں۔مثلا کوئی چیز آئینہ کےسامنے ہو تو نظر آتا ہے ورنہ نہیں اور عقل میں غائب اشیاء کے تصور بھی ہوسکتا ہے۔
🌿عقل اور آئینہ کے عدم انعکاس کے پانچ وجوہات ہوسکتا ہیں۔
جومندرجہ ذیل لکھا ذیل ہے۔
1️⃣نقصان المواد:جب آئینہ میں مٹیریل ناقص لگاہو تو انعکاس نہیں کرسکتا اور اسی طرح عقل میں ''نقصان العقل'' یعنی جب انسانی عقل ناقص ہو تو انعکاس نہیں کرسکتا۔
2️⃣تربب المرآة: یعنی جب آئینہ غبارآلودہ اورگردآلودہ ہوجائے تو انعکاس نہیں کرسکتا۔اورعقل میں ''ارتکاب الذنوب''یعنی جب انسانی عقل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سےمغبر ہوجائےتو پھر عقل انعکاس نہیں کرسکتا۔
3️⃣عدم محاذات: جب آئینہ کےسامنے شیئ مرئی کے محاذات نہ ہو تو پھر انعکاس نہیں کرسکتا۔ اور عقل میں ''عدم توجه'' یعنی جب عقل کسی چیز کومتوجہ نہ ہو تو پھر عقل انعکاس نہیں کرسکتا۔
4️⃣وقوع الحائل: جب آئینہ اور شیئ مرئی کےدرمیان کوئی حائل واقع ہو تو پھر آئینہ انعکاس نہیں کرسکتا۔اور عقل میں''وقوع العقائد الباطلة''یعنی جب عقل میں عقائد باطلہ راسخ ہوجائے تو پھر عقل انعکاس نہیں کرسکتا۔
5️⃣ عدم تسویة الجهة:جب آئینہ کے جھت برابر نہ ہو یعنی شیئ مرئی تو آئینہ کےسامنے ہو مگر شیئ مرئی آئینہ سےجھت میں دائیں یا بائیں طرف ہو اور عقل میں ''عدم ترتیب المعلومات'' یعنی عقل میں ریکارڈ شدہ معلومات کےدرمیان ترتیب نہ ہو تو پھر عقل انعکاس نہیں کرسکتا۔
☘️تطبیق کے پہلو☘️
جوحضرات فرماتے ہیں کہ نقل عقل پر مقدم ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ جب عقل میں یہ 5 چیزیں(خرابیاں) موجود ہو تو نقل عقل پر مقدم ہے کیونکہ عقل سقیم بن گیا سلیم نہ رہا۔
اور جوحضرات فرماتے ہیں کہ نقل عقل کے مخالف نہیں بلکہ موافق ہے یہ اس وقت ہے جب عقل میں یہ 5 چیزیں(خرابیاں) موجود نہ ہو۔اور عقل سقیم نہ ہو بلکہ عقل سیلم ہو تو پھر عقل اور نقل میں کوئی منافات نہیں۔
🍀ملخص از تھافت الملاحدہ۔
✍️ عنایت شاہ حقانی