تعلقات کی دنیا میں اکثر لوگ صرف اس وقت تک آپ کے گرد منڈلاتے ہیں جب تک انہیں آپ کی ذات سے کوئی فائدہ یا ذہنی تسکین حاصل ہو رہی ہوتی ہے جیسے ہی آپ کے خلوص کا رس نچوڑ لیا جاتا ہے اور آپ کی مخلصی پرانی پڑنے لگتی ہے یہ رنگ بدلتے لوگ بڑی بے رحمی سے نیا ٹھکانہ ڈھونڈ لیتے ہیں ایسے میں کسی کی آمد پر خوش ہونا اور جانے پر آنسو بہانا دراصل اپنی نادانی کا ثبوت دینا ہے جو لوگ فطرت میں تتلیاں ہوتے ہیں وہ کبھی ایک مقام پر ٹک کر وفا نہیں نبھا سکتے ان کی پرواز کا مقصد صرف اپنی پیاس بجھانا ہوتا ہے انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتا کہ ان کے پیچھے چھوڑا ہوا پھول کتنا مرجھا گیا ہے یا کتنا زخمی ہے یاد رکھیں خوبصورتی اور دلکشی ہمیشہ وفاداری کی ضمانت نہیں ہوتی بلکہ اکثر رنگین پروں کے پیچھے ایک انتہائی خود غرض اور مطلب پرست سوچ چھپی ہوتی ہے۔  
     ابو دُجانہ ✍️