نیلی پتنگ اور بانس کی سیڑھی
کہانی:
چھت پر کھڑے نو سالہ طلحہ کے ہاتھ سے ڈور جیسے ہی چھوٹی، اس کی خوبصورت نیلی پتنگ ہوا کے دوش پر لہراتی ہوئی سیدھی محلے کی سب سے پرانی حویلی کی کھڑکی کے جنگلے میں جا پھنسی۔ یہ حویلی رحیم بابا کی تھی، جن کے بارے میں گلی کے تمام بچے مشہور کر چکے تھے کہ وہ انتہائی سخت مزاج ہیں اور ان کے گھر سے کوئی چیز کبھی واپس نہیں آتی۔
طلحہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ پتنگ کوئی عام پتنگ نہ تھی، بلکہ اسے طلحہ اور اس کے ابا جان نے تین دن کی محنت سے رنگ برنگے کاغذ، بانس کی تیلیوں اور گوند سے مل کر بنایا تھا۔
"طلحہ! بھول جاؤ اس پتنگ کو،" اس کے دوست فراز نے چھت کی منڈیر سے جھانکتے ہوئے کہا۔ "رحیم بابا کے گھر جو چیز گئی، وہ غائب! اور اگر تم نے ان سے مانگنے کی ہمت کی تو وہ تمہاری ڈانٹ ڈپٹ کر دیں گے۔"
طلحہ نے کھڑکی کی طرف دیکھا جہاں نیلی پتنگ ہوا کے ہلکے جھونکوں سے پھڑپھڑا رہی تھی، جیسے اپنے مالک کو مدد کے لیے پکار رہی ہو۔ طلحہ نے گہرا سانس لیا اور بولا، "ابا جان کہتے ہیں کہ سچ بولنے اور ادب سے بات کرنے سے بڑے سے بڑا خوف دور ہو جاتا ہے۔ میں جا کر خود اجازت مانگوں گا۔"
فراز نے آنکھیں پھیلائیں، لیکن طلحہ ہمت باندھ کر نیچے اتر آیا اور پرانی حویلی کے بھاری لکڑی کے دروازے پر دستک دی۔ دروازہ ایک مدہم چرچراہٹ کے ساتھ کھلا اور سفید داڑھی والے رحیم بابا سامنے کھڑے نظر آئے۔ ان کی پیشانی پر شکنیں تھیں اور ہاتھ میں لکڑی کی لاٹھی۔
"جی؟ کون ہو تم اور دوپہر کے وقت کیا چاہیے؟" انہوں نے بارعب آواز میں پوچھا۔
طلحہ نے خوف کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپایا، ادب سے جھک کر سلام کیا اور نظریں نیچی رکھتے ہوئے بولا:
"السلام علیکم ورحیم بابا! معاف کیجیے گا کہ میں نے آپ کے آرام میں خلل ڈالا۔ میری بنائی ہوئی نیلی پتنگ غلطی سے کٹ کر آپ کی بالائی منزل کی کھڑکی میں اٹک گئی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو کیا میں اسے اتار سکتا ہوں؟ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے کسی سامان کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔"
رحیم بابا نے چند لمحے خاموشی سے طلحہ کے معصوم اور سچے چہرے کو دیکھا۔ ان کے ماتھے کی سخت شکنیں کچھ ڈھیلی پڑیں۔ محلے کے بچے اکثر ان کی دیواروں پر پتھر مارتے یا گلی سے شور مچاتے ہوئے بھاگ جاتے تھے، لیکن کسی نے اتنے ادب اور سلیقے سے بات نہیں کی تھی۔
"ہوں… پتنگ؟" بابا نے گرجدار لہجے کے بجائے قدرے دھیمی آواز میں کہا۔ "آؤ اندر آؤ، لیکن چھت کی طرف جانے والی سیڑھیاں خستہ حال ہیں، تم اکیلے اوپر نہیں جاؤ گے۔"
رحیم بابا خود آگے بڑھے اور حویلی کے پچھلے حصے سے بانس کی ایک مضبوط سیڑھی لے آئے۔ انہوں نے سیڑھی کو کھڑکی کے سہارے جمایا اور طلحہ سے کہا: "اب آرام سے چڑھو، میں نیچے سے سیڑھی تھامے کھڑا ہوں۔"
طلحہ تیزی مگر احتیاط سے چڑھا اور بغیر کسی نقصان کے اپنی پیاری نیلی پتنگ اتار لایا۔ جب وہ نیچے اترا تو اس نے دیکھا کہ بابا کے بازو پر ایک پرانی پٹی بندھی تھی، شاید ان کے جوڑوں میں درد تھا۔ طلحہ نے فوراََ بانس کی سیڑھی کا دوسرا سرا اٹھا لیا اور بولا: "بابا جی، آپ مت اٹھائیں، میں اسے واپس رکھنے میں مدد کرتا ہوں۔"
دونوں نے مل کر سیڑھی کو سایہ دار دالان میں رکھا۔ رحیم بابا کے چہرے پر ایک نرم اور شفیق مسکراہٹ ابھری۔ انہوں نے الماری سے مٹی کا ایک مرتبان نکالا اور طلحہ کی ہتھیلی پر تین تازہ، میٹھی کھجوریں رکھ دیں۔
"بیٹا! تم ایک سچے، باادب اور باہمت بچے ہو۔ اکثر لوگ دوسروں کے بارے میں سنے سنائے اندازے لگا لیتے ہیں، لیکن تم نے ادب اور سچائی کا راستہ چنا۔ آئندہ جب بھی تمہاری پتنگ یہاں گرے، بلا جھجک دروازہ کھٹکھٹا دینا۔"
جب طلحہ حویلی سے باہر نکلا تو اس کے ایک ہاتھ میں نیلی پتنگ تھی اور دوسرے میں میٹھی کھجوریں۔ باہر کھڑا فراز حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا، جبکہ طلحہ کے دل میں یہ بات پختہ ہو چکی تھی کہ حسنِ اخلاق اور سچی بات سے ناممکن کام بھی آسان ہو جاتا ہے۔
سبق:
ادب، سچائی اور نرم گفتگو سے سخت سے سخت دل کو بھی جیتا جا سکتا ہے۔ ہمیں دوسروں کے متعلق سنے سنائے منفی اندازوں پر یقین کرنے کے بجائے ہمیشہ اچھے اخلاق اور شائستگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔