ترانہ وفاق المدارس شاعر ولی صادق
04 نومبر، 2026
ترانہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان
کلام شاعر محمد ولی صادق
بلند تر مقام ہے یہ کیسی آن بان ہے
وفاق کا نظام بھی خدا کی ایک شان ہے
ہے راہِ حق پہ گامزن یہاں جو کاروان ہے
اسی لیے زمین بھی یہ رشکِ آسمان ہے
خزینۂ علوم کا یہ ایک پاسبان ہے
سمیٹیے یہ علم کا عظیم تر خزینہ ہے
یہاں سبق جو سیکھ لے وہ عاشقِ مدینہ ہے
جو وار دشمنوں کا ہو تو آگے ان کا سینہ ہے
یہاں کا ایک ایک فرد جیسے اک چٹان ہے
خزینۂ علوم کا یہ ایک پاسبان ہے
اسی کے زیرِ سایہ ہے سکون بھی قرار بھی
تمیز بھی شعور بھی سلیقہ بھی وقار بھی
اسی کے دم سے چار سو وطن میں اِک بہار بھی
ہیں پھول جس میں امن کے یہ ایسا گلستان ہے
خزینۂ علوم کا یہ ایک پاسبان ہے
جو نور خود حِرا سے لے کے آگئے تھے مصطفیٰؐ
وہ نور بانٹتا ہے یہ گلی گلی جگہ جگہ
یہ رعب اور یہ دبدبہ یہ گونجتی ہوئی صدا
علیؓ کی ذوالفقار ہے بلالؓ کی اذان ہے
خزینۂ علوم کا یہ ایک پاسبان ہے
وہ حافظوں کا جمگھٹا یہ ہے مفسرین کا
نکل رہا ہے قافلہ یہاں سے علمِ دین کا
بتا رہا ہے وصف جو ہمیں اکابرین کا
یہ سنتِ رسولؐ کا اِک ایسا ترجمان ہے
خزینۂ علوم کا یہ ایک پاسبان ہے
الٰہی دیں کی خدمتوں سے اس کو بہرہ ور کرے
اسی کے ابرِ فیض سے زمینِ خشک تر کرے
تمام کائنات میں تو اس کو معتبر کرے
یہ رحمتوں کی چھاؤں کا عظیم سائبان ہے
خزینۂ علوم کا یہ ایک پاسبان ہے