مہکتی کتابیں:
نام کتاب : بلندوبالا عمارتیں : قیامت کی علامتیں
مرتب: ناصرالدین مظاہری
صفحات: 100
اشاعت : شعبان 1428ھ
ناشر: المعہد العالی سہارنپور
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر اور ان کی بلندی میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی مسابقت عصرِ حاضر کا ایک نمایاں منظر ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں تعمیر ہورہی ہیں، بلندی کے نئے ریکارڈ قائم کیے جارہے ہیں اور تعمیراتی عظمت کو انسانی ترقی کا ایک بڑا مظہر سمجھا جارہا ہے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ان بلند عمارتوں کی تعمیر میں باہمی مسابقت کا تذکرہ آج سے چودہ سو برس پہلے زبانِ رسالت سے قیامت کی نشانیوں کے طور پر بیان کیا جاچکا ہے؟
راقم الحروف کی کتاب ’’بلند و بالا عمارتیں، قیامت کی علامتیں‘‘ اسی اہم اور فکر انگیز موضوع پر ایک علمی کاوش ہے۔ یہ کتاب دراصل ان احادیث، آثار اور اقوالِ اکابر کا مجموعہ ہے جن کا تعلق بلند عمارتوں کی تعمیر، ان میں مسابقت اور علاماتِ قیامت سے ہے۔ راقم نے ایک ایسے موضوع کو مستقل مطالعے کا عنوان بنایا ہے جس کی معنویت موجودہ دور میں پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوچکی ہے۔
اس کتاب کا بنیادی محور حدیثِ جبرئیل ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ننگے پاؤں، بے لباس، محتاج اور بکریاں چرانے والے لوگ بلند و بالا عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ یہ مختصر ارشاد اپنے اندر مستقبل کی ایک پوری تصویر سموئے ہوئے ہے۔ آج جب خلیجی ممالک اور دنیا کے دوسرے خطوں میں بلند ترین عمارتوں کی تعمیر کے لیے مقابلہ آرائی دیکھی جاتی ہے تو اس حدیث کی معنویت مزید واضح ہوجاتی ہے۔
راقم الحروف نے صرف حدیثِ نبوی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس موضوع سے متعلق آثار و روایات اور اہلِ علم و بزرگانِ دین کے اقوال بھی جمع کیے ہیں۔ مختلف اہلِ علم کی تشریحات، توضیحات اور متعلقہ تحریروں سے استفادہ کرتے ہوئے موضوع کے متعدد گوشوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس موضوع کے مواد کی تلاش اور اس کی ترتیب میں خاص محنت صرف کی گئی ہے۔
اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ قاری کو محض معلومات فراہم کرکے رخصت نہیں کرتی، بلکہ اسے اپنے عہد کے مشاہدات کو احادیثِ نبویہ کی روشنی میں دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ آج جب بلند عمارتوں کی تعمیر محض ضرورت سے آگے بڑھ کر تفاخر، نمود و نمائش اور باہمی مسابقت کی علامت بنتی جارہی ہے، ایسے میں یہ کتاب انسان کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کا موقع فراہم کرتی ہے۔
’’بلند و بالا عمارتیں، قیامت کی علامتیں‘‘ حجم کے اعتبار سے مختصر ہے لیکن موضوع کے اعتبار سے اہم کتاب ہے۔ اس کی افادیت یہ ہے کہ ایک منتشر علمی مواد کو ایک عنوان کے تحت جمع کردیا گیا ہے۔ علاماتِ قیامت، احادیثِ فتن اور اسلامی آثار سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ علم، طلبہ اور خطبا کے لیے یہ مجموعہ خاصا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
بلاشبہ دنیا کی بلند ترین عمارتیں دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال سکتی ہیں، لیکن ان عمارتوں کے پس منظر میں موجود نبوی پیشین گوئیوں کا مطالعہ انسان کو حیرت کے ساتھ فکر و عبرت میں بھی مبتلا کرتا ہے۔ یہی اس کتاب کا اصل پیغام اور اس کی علمی معنویت ہے۔
ناصرالدین مظاہری
چوبیس جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)