غیروں کی محبت میں اپنوں کو فراموش نہ کریں

کچھ ہمارے بھائی ایسے بھی ہیں جو غیروں کو اپنا اس قدر قریبی دوست بنا بیٹھتے ہیں کہ ان کی محبت والدین، اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کی محبت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ حال یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی ان دوستوں پر معمولی سی آنچ آتی ہے تو یہ تڑپ اٹھتے ہیں، ان کے دکھ درد میں بے چین ہوجاتے ہیں؛ لیکن دوسری جانب والدین کی طبیعت ناساز ہو، وہ کسی پریشانی یا تکلیف میں مبتلا ہوں، تو ان کے دل میں وہ درد اور احساس پیدا نہیں ہوتا جو ایک دوست کی معمولی پریشانی پر پیدا ہوجاتا ہے۔

ایسے عزیزوں سے نہایت ادب کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ غیروں سے حسنِ سلوک کیجیے، اچھے تعلقات رکھیے، ضرورت کے وقت ان کے کام آئیے، لیکن اپنی دینی شناخت، ایمانی وابستگی اور خاندانی رشتوں کی اہمیت کو ہرگز فراموش نہ کیجیے۔

اگر کسی غیر مسلم سے دوستی اور قربت کا تعلق قائم ہو تو اس بات کا خیال رکھیے کہ آپ کی دینی شناخت اور ایمانی وفاداری متاثر نہ ہو۔ بلکہ آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپ کے اچھے اخلاق، حسنِ کردار اور معاملات سے متاثر ہوکر اسے دینِ اسلام کی حقانیت سمجھنے کا موقع ملے۔

یاد رکھیے! دنیاوی تعلقات اپنی جگہ، لیکن ایک مسلمان کی اصل محبت، قلبی وابستگی اور دینی وفاداری کا مرکز اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اہلِ ایمان ہونے چاہییں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

(سورۃ المائدۃ: 51)

ترجمہ: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا حلیف اور سرپرست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے حلیف ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان سے ایسی ولایت و وابستگی اختیار کرے گا تو وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

(سورۃ المجادلۃ: 22)

ترجمہ: آپ ان لوگوں کو نہیں پائیں گے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے تعلقات کی حدود پہچانیں، ایمان کی قدر کریں اور والدین و عزیز و اقارب کے حقوق کو مقدم رکھیں۔

غیروں سے اچھا برتاؤ ضرور کیجیے، لیکن ان کی محبت میں اپنے والدین اور اپنوں کے حقوق کو کبھی فراموش نہ کیجیے۔

{ ابن نور انوری }🖊️غیروں کی محبت میں اپنوں کو فراموش نہ کریں!

کچھ ہمارے بھائی ایسے بھی ہیں جو غیروں کو اپنا اس قدر قریبی دوست بنا بیٹھتے ہیں کہ ان کی محبت والدین، اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کی محبت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ حال یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی ان دوستوں پر معمولی سی آنچ آتی ہے تو یہ تڑپ اٹھتے ہیں، ان کے دکھ درد میں بے چین ہوجاتے ہیں؛ لیکن دوسری جانب والدین کی طبیعت ناساز ہو، وہ کسی پریشانی یا تکلیف میں مبتلا ہوں، تو ان کے دل میں وہ درد اور احساس پیدا نہیں ہوتا جو ایک دوست کی معمولی پریشانی پر پیدا ہوجاتا ہے۔

ایسے عزیزوں سے نہایت ادب کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ غیروں سے حسنِ سلوک کیجیے، اچھے تعلقات رکھیے، ضرورت کے وقت ان کے کام آئیے، لیکن اپنی دینی شناخت، ایمانی وابستگی اور خاندانی رشتوں کی اہمیت کو ہرگز فراموش نہ کیجیے۔

اگر کسی غیر مسلم سے دوستی اور قربت کا تعلق قائم ہو تو اس بات کا خیال رکھیے کہ آپ کی دینی شناخت اور ایمانی وفاداری متاثر نہ ہو۔ بلکہ آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپ کے اچھے اخلاق، حسنِ کردار اور معاملات سے متاثر ہوکر اسے دینِ اسلام کی حقانیت سمجھنے کا موقع ملے۔

یاد رکھیے! دنیاوی تعلقات اپنی جگہ، لیکن ایک مسلمان کی اصل محبت، قلبی وابستگی اور دینی وفاداری کا مرکز اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اہلِ ایمان ہونے چاہییں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

(سورۃ المائدۃ: 51)

ترجمہ: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا حلیف اور سرپرست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے حلیف ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان سے ایسی ولایت و وابستگی اختیار کرے گا تو وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

(سورۃ المجادلۃ: 22)

ترجمہ: آپ ان لوگوں کو نہیں پائیں گے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے تعلقات کی حدود پہچانیں، ایمان کی قدر کریں اور والدین و عزیز و اقارب کے حقوق کو مقدم رکھیں۔

غیروں سے اچھا برتاؤ ضرور کیجیے، لیکن ان کی محبت میں اپنے والدین اور اپنوں کے حقوق کو کبھی فراموش نہ کیجیے۔

{ ابن نور انوری }🖊️غیروں کی محبت میں اپنوں کو فراموش نہ کریں!

کچھ ہمارے بھائی ایسے بھی ہیں جو غیروں کو اپنا اس قدر قریبی دوست بنا بیٹھتے ہیں کہ ان کی محبت والدین، اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کی محبت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ حال یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی ان دوستوں پر معمولی سی آنچ آتی ہے تو یہ تڑپ اٹھتے ہیں، ان کے دکھ درد میں بے چین ہوجاتے ہیں؛ لیکن دوسری جانب والدین کی طبیعت ناساز ہو، وہ کسی پریشانی یا تکلیف میں مبتلا ہوں، تو ان کے دل میں وہ درد اور احساس پیدا نہیں ہوتا جو ایک دوست کی معمولی پریشانی پر پیدا ہوجاتا ہے۔

ایسے عزیزوں سے نہایت ادب کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ غیروں سے حسنِ سلوک کیجیے، اچھے تعلقات رکھیے، ضرورت کے وقت ان کے کام آئیے، لیکن اپنی دینی شناخت، ایمانی وابستگی اور خاندانی رشتوں کی اہمیت کو ہرگز فراموش نہ کیجیے۔

اگر کسی غیر مسلم سے دوستی اور قربت کا تعلق قائم ہو تو اس بات کا خیال رکھیے کہ آپ کی دینی شناخت اور ایمانی وفاداری متاثر نہ ہو۔ بلکہ آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ آپ کے اچھے اخلاق، حسنِ کردار اور معاملات سے متاثر ہوکر اسے دینِ اسلام کی حقانیت سمجھنے کا موقع ملے۔

یاد رکھیے! دنیاوی تعلقات اپنی جگہ، لیکن ایک مسلمان کی اصل محبت، قلبی وابستگی اور دینی وفاداری کا مرکز اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اہلِ ایمان ہونے چاہییں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

(سورۃ المائدۃ: 51)

ترجمہ: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا حلیف اور سرپرست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے حلیف ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان سے ایسی ولایت و وابستگی اختیار کرے گا تو وہ انہی میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

(سورۃ المجادلۃ: 22)

ترجمہ: آپ ان لوگوں کو نہیں پائیں گے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں سے محبت رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے تعلقات کی حدود پہچانیں، ایمان کی قدر کریں اور والدین و عزیز و اقارب کے حقوق کو مقدم رکھیں۔

غیروں سے اچھا برتاؤ ضرور کیجیے، لیکن ان کی محبت میں اپنے والدین اور اپنوں کے حقوق کو کبھی فراموش نہ کیجیے۔

{ ابن نور انوری }🖊️