سفرِ سیرت
قسط نمبر ۶
*طائف کے زخموں سے معراج کی بلندیوں تک سیرت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
__________________________________
*رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سفر طائف*
رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نبوت کے دسویں سال مکہ سے ۸۰ کلومیٹر دور مقام طائف ( نقوش پائے مصطفی ۶۳) تشریف لے گئے اور وہاں کے مشہور قبیلہ بنو ثقیف کے تین سردار سے ملاقات کی اور انہیں اسلام کی دعوت دی لیکن ان لوگوں کا سلوک مکہ والوں سے بھی بدتر ثابت ہوا، ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر اللہ نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو اللہ خانہ کعبہ کی چادر ( غلاف ) کو چاک کرنا ( پھاڑ دینا چاہتا ہے، دوسرے نے کہا کہ کیا خدا کو تمہارے علاوہ کوئی اور شخص نہیں ملا جسے رسول بنایا جاتا؟ تیسرے نے کہا کہ میں تمہاری بات سننا نہیں چاہتا، اس لئے کہ اگر تو سچا نبی ہے تو تمہاری بات سے انکار کرنا مصیبت سے خالی نہیں ہوگا اور اگر تو جھوٹا نبی ہے تو میں جھوٹے شخص سے بات نہیں کرنا چاہتا، نیز ان لوگوں نے وہاں کے بدمعاشوں کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا دیا ، وہ بد معاش آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے رہے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر پتھر برساتے رہے حتی کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا جسم لہولہان ہو گیا اور اسی حال میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عقبہ اور شیبہ کے باغ میں پہنچے۔ (سیرت ابن ہشام ۶۷/۲)۔
وہاں پہنچ کر حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اللہ ربّ العزت سے دعا مانگی اور اپنی کمزوری کا اظہار کیا، اللہ ربّ العزت کی رحمت جوش میں آئی ، حضرت جبرئیل آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اگر آپ حکم دیں گے تو میں طائف والوں کو جبل ابی قبیس اور جبل قعيقّعان نامی دونوں پہاڑوں کے درمیان کچل کر رکھدوں گا لیکن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے تو ان کی نسلیں ضرور ایمان لائیں گی چنانچہ بعد میں وہاں کے بہت سارے لوگ مسلمان ہوئے۔
وہاں سے واپسی پر مکہ سے ۴۵ کلو میٹر دور وادئ نَخْلَہ میں جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رات کی تاریکی میں نماز پڑھ رہے تھے تو شام کے مشہور شہر نصيبين کے سات جنات آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر مسلمان ہوئے ۔(عیون الاثر ۲۳۴/۱).
*رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مختلف قبائلِ عرب کو دعوت دینا*
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حج کے موسم بازار عکاظ اور دیگر تجارتی اجتماعات میں عرب کے مختلف قبیلوں کی سکونت گاہوں میں تشریف لے جاتے ان کے سرداروں سے ملتے انہیں اسلام کی دعوت دیتے اور ان سے مسلمانوں کو پناہ دینے اور ان کی حفاظت کرنے کے سلسلہ میں بات کرتے تھے نیز بسا اوقات مکہ سے باہر تشریف لے جاتے اور جو کوئی مسافر آتا جاتا ہوا ملتا انہیں اسلام کی دعوت دیتے تھے۔(سیرت النبی ۱۸۶/۱)۔
*واقعۂ معراج*
جب شعب ابی طالب اور سفر طائف میں آزمائش کی تمام منزلیں طے ہو چکیں تو اللہ ربّ العزت نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اسرا اور معراج کے شرف سے سرفراز فرمایا اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اس قدر بلند فرمایا کہ اس سے آگے بلندی کا کوئی تصور نہیں، اور اس عرش عظیم تک سیر کرائی ، جس کے بعد اور کوئی مقام نہیں۔ آں حضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں اور جنت وغیرہ کی جو سیر کرائی گئی، اس بارے میں جمہور علما کا کہنا ہے کہ وہ جسد خاکی اور روح کے ساتھ یہ حالت بیداری ایک ہی رات میں ہوئی ۔ یہ واقعہ معراج حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد اور بیعت عقبہ سے پہلے ہوا۔( سیرت مصطفٰی ۱/۲۲۹)۔
قرآن کریم میں اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے۔
پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے ایک قلیل حصے میں مسجد حرام سے اس مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد ہم نے برکتیں نازل کی ہیں تا کہ ہم اپنے بندے کو اپنی قدرت کے کچھ نمونے دکھائیں ۔ (الاسراء ۱)۔
اللہ ربّ العزت نے ان نشانیوں اور علاقوں کا کچھ ذکر سورہ نجم میں بھی فرمایا ہے۔ چناں چہ ارشاد ہے۔
اور انہوں نے اس فرشتے کو ایک دفعہ اور بھی سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا ہے۔ اس کے قریب جنت الماوی ہے۔ جب اس بیری پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا۔ نہ پیغمبر کی نظر بہکی اور نہ حد سے بڑھی ۔ انہوں نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے ۔ (النجم ۱۳ - ۱۸)۔
یہ سفر بیت اللہ سے شروع ہوا اور اس سفر کا پہلا حصہ بیت اللہ سے بیت المقدس تک تھا، اسے اسرا کہتے ہیں، یہ سفر براق پر ہوا۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس وقت حرم میں تشریف فرما تھے، رات کا وقت تھا، جبریل امین نے آکر آپ کو اس سفر سے آگاہ کیا اور سفر شروع ہوا۔ چناں چہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے جنت سے براق نامی ایک چو پایا لایا گیا یہ گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا، سفید رنگ کا اور برق رفتار تھا۔ اور اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں اس کی انتہائے نظر پہنچتی تھی ۔ اس سفر میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو بہت سے مشاہدات بھی کروائے گئے ۔ یہاں کچھ مشاہدات پیش کیے جاتے ہیں۔
شداد بن اوس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( شب معراج کو ) راستے میں میرا گزر ایسی زمین پر ہوا، جس میں کھجور کے درخت بہ کثرت تھے۔ جبرأیل امین نے کہا کہ یہاں نماز پڑھیے۔ میں نے وہاں نماز پڑھی تو جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ آپ نے یثرب میں نماز پڑھی۔ آپ نے طیبہ میں نماز پڑھی (جہاں آپ ہجرت کریں گے ) ۔ وہاں سے روانہ ہو کر ایک اور زمین پر گزر ہوا جبریل امین نے کہا کہ یہاں نماز پڑھیے۔ میں نے وہاں اتر کر نماز پڑھی۔ پھر میں سوار ہو گیا تو جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ آپ نے وادی سینا میں، شجر مولی کے قریب نماز پڑھی۔ وہاں سے روانہ ہو کر ایک اور زمین پر گزر ہوا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ یہاں اتر کر نماز پڑھیے۔ میں نے وہاں اتر کر نماز پڑھی تو جبریل نے کہا کہ آپ نے مدین میں نماز پڑھی۔ اس کے بعد ایک اور زمین پر گزر ہوا۔ جبریل امین نے کہا کہ یہاں اتر کر نماز پڑھیے۔ میں نے وہاں نماز پڑھی ۔ پھر جبریل امین نے کہا کہ آپ نے بیت اللحم میں نماز پڑھی۔ جہاں حضرت عیسیٰ السلام پیدا ہوئے۔
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبریل نے ایک پتھر میں شگاف ڈال دیا اور اس سے براق کو باندھ دیا، پھر ہم دونوں مسجد میں داخل ہو گئے ۔ پھر جلد ہی بہت سے حضرات مسجد اقصیٰ میں جمع ہو گئے ۔ پہلے ایک مؤذن نے اذان دی اور اقامت کہی اور ہم سب صف باندھ کر کھڑے ہو گئے اور جبریل امین نے میرا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا دیا۔ میں نے سب کو نماز پڑھائی ۔ نماز سے فارغ ہوئے تو جبریل امین نے بتایا کہ جتنے نبی مبعوث ہوئے ، سب نے ابھی آپ کے پیچھے نماز ادا کی ہے۔ (سیرت مصطفٰی ۱/۲۳۵)۔
*انبیا علیہم السلام کی حمد و ثنا*
اس کے بعد انبیا کی ارواح کی آپس میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے اپنے رب کی تعریف بیان کی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اپنا خلیل بنایا اور مجھے عظیم مملکت عطا فرمائی، اور میری امت کو میرا فرماں بردار اور میری پیروی کرنے والا بنایا اور مجھے آگ سے محفوظ رکھا اور اسے میرے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والا بنایا۔
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی انہوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھ سے کلام کر کے مجھے کلیم بنایا اور میرے ذریعے فرعون کی ہلاکت اور بنی اسرائیل کی نجات فرمائی اور میری امت میں ایسی قوم پیدا فرمائی جو حق کے مطابق ہدایت کرتی ہے اور اس کے مطابق انصاف کرتی ہے۔
پھر داؤد علیہ السلام نے اپنے رب کی شان بیان کی انہوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ملک عظیم عطافرمایا اور مجھے زبور سکھائی اور میرے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور پہاڑوں اور پرندوں کو میرے تابع کر دیا جو (اپنے رب کی تسبیح کرتے ہیں، اور مجھے حکمت اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی۔
پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے رب کی حمد وثنا کی اور فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے ہواؤں، جنوں اور انسانوں کو میرے تابع کر دیا جو میرے لیے وہ کچھ بناتے ہیں جو میں چاہتا ہوں (مثلا) قلعے، تراشیدہ اشیا لگن جیسے (بڑے بڑے) حوض اور (بڑی بڑی) ایک ہی جگہ پر جمی ہوئی دیگیں، اور مجھے پرندوں کی بولیاں سکھائیں اور مجھے ہر چیز کا فضل عطا کر دیا ، اور شیاطین، انسانوں ، جنوں اور پرندوں کے لشکروں کو میرے تابع کر دیا اور مجھے اپنے مؤمن بندوں میں سے بہت سوں پر فضیلت عطا فرمائی، اور مجھے ایسی عظیم الشان سلطنت عطا کی جو میرے بعد کسی کے لیے مناسب نہ ہوگی اور میری بادشاہی کو ہر اعتبار سے پاک وصاف بنایا جس کا نہ کوئی حساب ہو گا نہ اس پر کچھ سزا ہوگی۔ پھر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ، انہوں کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اپنا کلمہ بنایا اور میری مثال آدم علیہ السلام کی سی بنائی، جنہیں مٹی سے پیدا کیا تھا اور پھر کہا تھا ہو جا پس وہ ہو گئے تھے، اور مجھے کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دی اور اپنے حکم سے مجھے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا یاب کرنے اور مردوں کو زندہ کرنے کا ذریعہ بنایا ، اور مجھے آسمان پر اٹھایا اور پاک کیا اور میری اور میری والدہ کی شیطان مردود سے حفاظت فرمائی ، سو شیطان کو ہمارے خلاف کوئی راہ نہ مل سکی۔
ان تمام تقاریر کے بعد حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ میں سے ہر ایک نے اپنے کہ سے ہر اپنے رب کی حمد و ثنا کر لی اب میں اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں ، پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، اور تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر (خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا ) بنایا، اور مجھ پر فرقان قرآن کریم جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا ہے ) اتارا جس میں ہر چیز کا بیان ہے، اور میری امت کو بہترین امت بنایا جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے اور میری امت کو معتدل امت بنایا اور میری امت کو اول و آخر بنایا ، اور میرے سینے کو کھول دیا اور مجھ سے میرا بوجھ دور کر دیا اور میرا ذکر بلند کر دیا اور مجھے فاتح (روحانی اعتبار سے سب سے پہلا ) اور خاتم ( بعثت کے لحاظ سے سب سے آخری ) بنایا۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم نے کہا کہ ان ہی فضائل کی وجہ سے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تم سب پر فضیلت عطا ہوئی۔ (سیرت مصطفٰی ۱/۲۳۶/۲۳۷/۲۳۸)
*دودھ و شراب کے پیالے*
جب آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیت المقدس پہنچے تو آپ کے پاس شراب، پانی اور دودھ لایا گیا۔
آپ نے دودھ نوش فرمایا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے دین فطرت کو اختیار فرمایا ہے۔ اگر آپ پانی پیتے تو آپ اور آپ کی امت غرق ہو جاتی ۔ اور اگر آپ شراب پیتے تو آپ اور آپ کی امت گم راہ ہو جاتی ۔ (سیرت مصطفٰی ۱/۲۳۸)۔
*آسمانوں کی سیر*
اس کے بعد سفر کا دوسرا حصہ شروع ہوا، یہ بیت المقدس سے آسمانوں تک کی سیر پر مشتمل تھا۔ اسے معراج کہتے ہیں ، معراج اصل میں سیڑھی کو کہتے ہیں، چناں چہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جب بیت المقدس میں ہونے والی تقریب سے فارغ ہوا تو میرے پاس معراج ( سیڑھی ) لائی گئی، میں نے اس سے زیادہ خوب صورت کوئی چیز نہیں دیکھی۔ اس کا ایک قدمچہ چاندی کا تھا اور ایک سونے کا، یہ سیڑھی جنت الفردوس سے لائی گئی تھی اور موتیوں سے مرصع تھی ، اور اس کے دائیں بائیں فرشتے چل رہے تھے۔ پھر جبریل امین مجھے اس پر سوار کر کے لے چلے، یہاں تک کہ آسمان دنیا پر پہنچے اور دروازہ کھلوانا چاہا تو پوچھا گیا کون ہے؟ اس نے کہا جبریل امین ۔ کہا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا کہ محمد کیا ان کے لیے بھیجا گیا تھا ؟ اس نے کہا ہاں کہا گیا مرحبا، خوش آمدید ، کیا ہی اچھی آمد ہے۔ پس دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اس میں داخل ہوا تو میں نے وہاں حضرت آدم (علیہ السلام) کو پایا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ یہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے باپ آدم ) ہیں ان کو سلام کیجیے۔ میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا مرحبا صالح بیٹے اور نبی کو ۔ پھر ہم اوپر چڑھے، یہاں تک کہ دوسرے آسمان کا (دروازہ ) کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا کون ہے؟ اس نے کہا جبریل کہا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا محمد۔ کہا گیا اور کیا ان کے لیے بھیجا گیا تھا ؟ اس نے کہا ہاں مرحبا، خوش آمدید ، کیا ہی اچھی آمد ہے۔ پس دروازہ کھول دیا گیا میں نے کہا یہاں دونوں خالہ زاد بھائی حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہا السلام) ہیں۔ جبریل نے کہا یہ یحییٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) ہیں، دونوں کو سلام کیجیے۔ میں نے دونوں کو سلام کیا تو دونوں نے میرے سلام کا جواب دیا۔ مجھے مرحبا کہا۔ پھر میں نے تیسرے آسمان کو عروج کیا تو جبریل نے ( دروازہ کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا کون ہے؟ اس نے کہا جبریل ۔ کہا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا۔ محمد ۔ کہا گیا اور کیا ان کے لیے بھیجا گیا تھا ؟ اس نے کہا ہاں کہا گیا مرحبا کیا ہی اچھی آمد ہے، پس ( دروازہ ) کھول دیا گیا۔ وہاں میں نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا۔ جبریل نے کہا یہ یوسف (علیہ السلام) ہیں، پس ان کو سلام کیجیے۔ میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا، مجھے مرحبا کہا۔ پھر میں نے چوتھے آسمان کو عروج کیا تو جبریل نے (دروازہ ) کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا کون ہے؟ اس نے کہا جبریل ۔ کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا محمد ( صلی اللّٰہ علیہ و سلم) کہا گیا اور کیا ان کے لیے بھیجا گیا تھا ؟ اس نے کہا ہاں کہا گیا مرحبا، کیا ہی اچھی آمد ہے۔ پس دروازہ کھول دیا گیا، وہاں میں نے اور ادریس (علیہ السلام) کو دیکھا، جبریل نے کہا کہ یہ ادریس علیہ السلام ہیں، ان کو سلام کیجیے، میں نے ان کو سلام کیا، انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا، مجھے مرحبا کہا۔ پھر میں نے پانچویں آسمان کو عروج کیا تو جبریل نے (دروازہ ) کھلوانا چاہا، پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے کہا جبریل، کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا محمد کہا گیا کیا ان کے لیے بھیجا گیا تھا ؟ اس نے کہا ہاں کہا گیا مرحبا، کیا ہی اچھی آمد ہے، پس ( دروازہ) کھول دیا گیا، پھر جب میں داخل ہوا تو میں نے ہارون (علیہ السلام) کو دیکھا، جبریل نے کہا یہ ہارون ہیں، آپ ان کو سلام کیجیے، میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے جواب دیا اور مرحبا کہا۔ پھر میں نے چھٹے آسمان پر عروج کیا تو جبریل نے (دروازہ کھلوانا چاہا۔ ہے؟ اس نے کہا کون ہے کہا گیا جبریل ۔ اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا محمد کیا ان کے لیے بھیجا گیا تھا ؟ اس نے کہا ہاں ، کہا گیا مرحبا، کیا ہی اچھی آمد دروازہ کھول دیا گیا۔ وہاں میں نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو دیکھا کہا گیا ان کو سلام کیجیے۔ پس میں نے سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا۔ مجھے مرحبا کہا۔ پھر میں نے ساتویں آسمان پر عروج کیا تو جبریل نے (دروازہ ) کھلوانا چاہا۔ پوچھا گیا کون ہے؟ اس نے کہا جبریل۔ کہا گیا اور تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا محمد (صلی اللّٰہ علیہ و سلم) کہا گیا اور کیا ان کے لیے بھیجا گیا تھا ؟ اس نے کہا ہاں، کہا گیا مرحبا، کیا ہی اچھی آمد ہے۔ (دروازہ ) کھول دیا گیا۔ وہاں میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا۔ جبریل نے کہا یہ ابراہیم (علیہ السلام ) ہیں، ان کو سلام کیجیے۔ ان کو سلام کیا تو انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا، پھر مرحبا کہا۔ (ماخوذ مختلف سیرت کتب مع سیرت مصطفٰی ۱/۲۴۰)
*سدرۃ اپنتہیٰ*
پھر مجھے سدرۃ المنتہی تک بلند کیا گیا جو بیری کا ایک درخت ہے۔ اس کے پھل اتنے بڑے بڑے تھے جیسے مقام ہجر کے مٹکے اور جس کے پتے ہاتھی کے کان کی طرح تھے۔ زمین سے جو چیز اوپر جاتی ہے وہ سدرۃ المنتہی پر جا کر رک جاتی ہے اور پھر اوپر اٹھائی جاتی ہے اور ملائے اعلیٰ ہے جو چیز اترتی ہے وہ سدرۃ المنتہی پر آ کر ٹھہر جاتی ہے اور پھر نیچے اترتی ہے۔(سیرت مصطفٰی ۱/۲۴۱)
*حوض کوثر*
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کے بعد جبریل علیہ السلام مجھے ساتویں آسمان کی بالائی سطح پر لے گئے۔ یہاں تک کہ آپ ایک نہر پر پہنچے جس پر یا قوت اور موتی اور زبرجد ( ایک قیمتی پتھر ) کے پیالے رکھے ہوئے تھے اور اس پر سبز رنگ کے لطیف پرندے بھی تھے۔ جبریل امین نے کہا یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو دی ہے۔ اس کے اندر سونے اور چاندی کے برتن پڑے ہوئے ہیں اور وہ یاقوت اور زمرد کے سنگریزوں پر چلتی ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے۔ میں نے ایک برتن لے کر اس میں سے کچھ پیا تو وہ شہد سے زیادہ شیریں اور مشک سے زیادہ خوش بودار تھا۔ اسی جگہ آپ نے بے شمار فرشتے اور سونے کے پتنگے اور پروانے دیکھے جو سدرۃ المنتہی کو گھیرے ہوئے تھے۔
*بیت المعمور*
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر مجھے بیت المعمور تک بلند کیا گیا، جو فرشتوں کا قبلہ اور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر واقع ہے۔ روزانہ ستر ہزار فرشتے اس کا طواف کرتے ہیں اور پھر کبھی ان کی باری کی نوبت نہیں آتی ۔ مسند احمد اور مسلم میں حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا جو بیت المعمور سے تکیہ لگائے ہوئے تھے اور بیت المعمور میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، عبادت کے بعد جب نکل کر چلے جاتے ہیں تو پھر قیامت تک دوبارہ کبھی ان کی باری نہیں آئے گی۔
*صريف الاقلام اور قاب قوسین*
پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایسے مقام تک بلند کیا گیا جہاں آپ نے صریف الاقلام کو سنا۔ یہاں فرشتے امور الہیہ اور احکام خداوندی کو لوح محفوظ سے نقل کر رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جبریل امین مجھے ایسے بلند مقام تک لے گئے جہاں قلموں سے لکھنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔
مقام صریف الاقلام سے چل کر حجابات طے کرتے ہوئے آپ بارگاہ خداوندی میں پہنچے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کی سواری کے لیے ایک رفرف (مند ) آئی جس پر سوار ہو کر آپ قاب قوسین تک پہنچے، یعنی آپ اللہ ربّ العزت کے اتنے قریب ہوئے کہ دو کمانوں کا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ حضرت انس بن مالک کی حدیث میں ہے کہ میرے لیے آسمان کا ایک دروازہ کھولا گیا اور میں نے نور اعظم کو دیکھا اور پردے میں سے موتیوں کی ایک رفرف (مسند ) کو دیکھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے جو کلام فرمانا چاہا وہ فرمایا۔ جب جبریل امین وہاں پہنچ کر رک گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس مقام پر اپنے ساتھی کا ساتھ چھوڑ جاؤ گے؟ جبریل نے کہا کہ اگر میں ایک قدم بھی مزید آگے بڑھا تو آگ مجھے جلا ڈالے گی۔( سیرت مصطفٰی ۱/۲۴۲)
*اللہ ربّ العزت کے انعامات*
شب معراج میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں۔
ا۔ پانچ نمازیں ۔
۲۔ شرک کے علاوہ ہر گناہ کی بخشش کا وعدہ
۲ - سورہ بقرۃ کی آخری دو آیتیں۔
جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے تو اللہ تعالیٰ اس کے کبیرہ گنا ہوں کو معاف فرمادے گا، یعنی کبیرہ گناہ کرنے والوں کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں نہیں ڈالا جائے گا، بل کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو انبیا اور ملائکہ کی شفاعت سے معاف فرما دے گا اور بعض کو اپنی خاص رحمت سے معاف فرمادے گا۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر مجھ پر ہر روز کے لیے پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ پھر میں واپس آیا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ؟ میں نے کہا کہ ہر روز پچاس نمازیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی امت روزانہ پچاس نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی ۔ خدا کی قسم میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں اور میں بنی اسرائیل کے علاج میں سخت کوشش کر چکا ہوں ۔ آپ واپس جا کر اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کیجیے۔ پھر میں واپس گیا تو. اللہ تعالٰی نے دس نمازیں کم کر دیں۔ میں لوٹ کر موسیٰ علیہ السلام کی طرف آیا تو انہوں نے پہلے جیسی بات کہی۔ پھر میں لوٹ کر گیا تو اللہ تعالی نے دس نماز میں اور کم کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف آیا تو انہوں نے ویسی ہی بات کہی جیسی پہلے کہی تھی۔ میں پھر لوٹ کر گیا تو اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں اور کم کردیں۔ میں واپس موسیٰ علیہ السلام کی طرف آیا تو انہوں نے پھر ویسی ہی بات کہی۔ میں پھر لوٹ کر گیا تو اللہ تعالی نے اور دس نمازیں کم کر دیں۔ میں واپس موسیٰ علیہ السلام کی طرف آیا تو انہوں نے پھر ویسی ہی بات کہی جیسی پہلے کہی تھی۔ میں پھر گیا تو اللہ تعالیٰ نے ہر روز پانچ نمازوں کا حکم دیا۔ میں واپس موسیٰ علیہ السلام کی طرف آیا تو انہوں نے کہا کہ آپ کی امت روزانہ پانچ نمازوں کی قوت نہیں رکھتی اور میں اس سے پہلے بنی اسرائیل کا تجربہ کر چکا ہوں اور ان کے علاج میں بہت زیادہ کوشش کر چکا ہوں ۔ آپ تم واپس جا کر اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست کریں۔ میں نے کہا کہ میں اتنی مرتبہ درخواست کر چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آتی ہے۔ اب میں راضی ہوں اور اللہ کے حکم کو تسلیم کرتا ہوں ۔ پھر جب میں آگے بڑھا تو ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا میں نے اپنا فرض جاری کر دیا اور اپنے بندوں کے لیے تخفیف کر دی۔
صبح میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ لوگوں کو اس سفر کے بارے میں آگاہ کیا جائے، چناں چہ آپ باہر تشریف لے گئے، اور قریش کے پاس پہنچ کر ان کو تمام واقعہ بیان کیا۔ جبیر بن مطعم نے کھڑے ہو کر کہا کہ اے محمد اگر آپ کی ایسی شان ہوتی جیسی آپ بتا رہے ہیں تو ہم یہ بات نہ کہتے جو آپ کہہ رہے ہیں، جب کہ آپ اس وقت ہمارے درمیان میں موجود ہیں۔ پھر ایک دوسرے آدمی نے کھڑے ہو کر کہا اے محمد کیا آپ ہمارے اونٹوں کے پاس سے گزرے جو فلاں فلاں جگہ پر تھے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں میں نے ان کو دیکھا۔ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا اور وہ اس کی تلاش میں تھے۔ اس نے پھر پوچھا کہ کیا آپ بنی فلاں کے قافلے کے پاس سے گزرے؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے ان کو فلاں فلاں جگہ پایا اور ان کے ایک سرخ اونٹ کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور ان کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، اس میں جتنا پانی تھا وہ میں نے پی لیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ آپ ہمیں ان کی تعداد اور قافلوں کے بارے میں بتائیے کہ ان میں کون کون راعی تھے؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے ان کے شمار وغیرہ کی طرف کوئی توجہ نہ تھی۔ پھر آپ کھڑے ہوئے، پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اونٹ آپ کے سامنے کر دیے گئے۔ چناں چہ آپ نے ان کا شمار کیا اور یہ بھی جان لیا کہ اس میں کون کون راعی تھے۔ پھر آپ نے قریش سے کہا کہ تم نے مجھ سے بنی فلاں کے اونٹوں کے بارے میں پوچھا تھا، وہ اتنے اتنے ہیں اور اس کے راعیوں میں ابن ابی قحافہ (حضرت ابو بکر صدیق ) اور فلاں فلاں ہیں ۔ وہ سب کل صبح سویرے تمہیں ثنیہ ( وہ موڑ جہاں سے مکے میں داخل ہوتے تھے ) پر ملیں گے۔ یہ سن کر وہ لوگ منیہ پر جا بیٹھے، تا کہ آپ کی بات کی تصدیق کر سکیں ۔ پھر جب اونٹوں کا قافلہ نمودار ہوا تو لوگوں نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہارا کوئی اونٹ گم ہوا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر دوسرے قافلے سے پوچھا کہ کیا تمہارے سرخ اونٹ کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی؟ انہوں نے کہا ہاں۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی پیالہ تھا؟ حضرت ابو بکر صدیق نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے ہی اس کو رکھا تھا، پس ہم میں سے نہ تو کسی نے اس کو پیا اور نہ اس کو زمین پر بہایا۔
حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ اسرا اور معراج کا قصہ سن کر بہت سے مسلمان فتنے میں مبتلا ہو گئے (اور انہوں نے اس کا انکار کیا)۔ اور کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر سارا قصہ ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ کیا آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی رات میں شام (بیت المقدس) گئے اور پھر اسی رات واپس مکے لوٹ آئے؟ ابوبکر نے فرمایا ہاں، میں تو اس سے بھی بڑی بات میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں ۔ میں تو آسمان کی باتوں (وحی ) کے بارے میں بھی ان کی تصدیق کرتا ہوں ۔ اس وجہ سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق پڑ گیا۔(المواہب علی الزرقانی ۲۶۶/۸)
*رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا چاند کے دوٹکڑے کرنا*
رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اہم معجزات میں سے ایک معجزہ شق القمر ( چاند کو دو ٹکڑے کرنے ) کا بھی ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مشرکین مکہ کی ایک جماعت ( جس میں ولید بن مغیرہ اور ابو جہل وغیرہ بھی تھے ) رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور انھوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو اس چاند کے دو ٹکڑے کر دیجئے ، آپ نے فرمایا کہ اگر میں اس چاند کے دوٹکڑے کر دوں تو کیا تم لوگ مجھ پر ایمان لے آؤ گے؟ ان لوگوں نے کہا کہ ہاں ہم ضرور ایمان لے آئیں گے، آپ نے چاند کی طرف اشارہ کیا اور چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے ، اس کا ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر اور دوسرا ٹکڑا جبل قعيقعان پر تھا، لوگ کافی دیر تک اس کو حیرت سے دیکھتے رہے ، حیرت کا یہ عالم تھا کہ اپنی آنکھوں کو کپڑے سے پونچھتے تھے اور چاند کی طرف دیکھتے تھے تو چاند کے دو ٹکڑے صاف صاف نظر آتے تھے، عصر اور مغرب کے درمیان جتنا وقت ہوتا ہے اتنی دیر تک چاند اسی طرح رہا، اس کے بعد پھر ویسا ہی ہو گیا جیسا کہ پہلے تھا، یہ صورت حال دیکھ کر کفار کہنے لگے کہ محمد نے آسمان پر بھی جادو کر دیا ہے، پھر ان لوگوں نے باہر سے آنے والے مسافروں سے اس بارے میں پوچھا تو ان لوگوں نے بھی چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی تصدیق کی لیکن اس کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لائے۔(دلائل النبوۃ ۲۶۶/۲)۔