ترتیب و پیشکش:- مولانا پرویز رسول اشاعتی ٹھنڈوسوی 
 امتِ مسلمہ کا موجودہ انتشار، باہمی نااتفاقی، مسلکی کشمکش، جماعتی عصبیت اور فکری و عملی انتشار ہمارے عہد کا ایک نہایت اہم اور قابلِ غور مسئلہ ہے۔ یہ صورتِ حال محض اختلافِ رائے کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پسِ پشت بدگمانی، خود پسندی، نفسانی خواہشات، شخصی مخالفت، جماعتی مفادات اور دینی اخوت کے تقاضوں سے غفلت جیسے متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ افسوس کہ جس امت کو قرآنِ مجید نے اخوت و وحدت، محبت و ہمدردی اور باہمی تعاون کا پیکر قرار دیا، اس کے بعض افراد معمولی اختلافات کو بنیاد بناکر ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ مساجد و مدارس، دینی تنظیموں اور اصلاحی مجالس میں جہاں محبت، خیرخواہی، علم و حکمت اور اتحاد کا ماحول ہونا چاہیے، وہاں بعض اوقات گروہی وابستگی، شخصی ترجیحات اور مسلکی تعصب باہمی فاصلے پیدا کردیتے ہیں۔ حالاں کہ اسلام کا مزاج انتشار نہیں، اجتماعیت؛ عداوت نہیں، اخوت؛ نفرت نہیں، خیرخواہی؛ اور باہمی کشمکش نہیں، اصلاح و اتحاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امت کو اتحاد و اجتماعیت کا واضح حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ یہ آیتِ کریمہ واضح کرتی ہے کہ امت کی وحدت کا حقیقی مرکز اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کا دین اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات ہیں، نہ کہ کوئی شخصیت، جماعت یا گروہ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے باہمی نزاع کے تباہ کن نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑجاؤ گے اور تمہاری قوت و ہیبت جاتی رہے گی۔ گویا باہمی انتشار صرف تعلقات کو خراب نہیں کرتا، بلکہ امت کی اجتماعی قوت، دینی وقار اور معاشرتی اثر پذیری کو بھی کمزور کردیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اہلِ ایمان کے باہمی تعلق کو عمارت سے تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، بلکہ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ یہاں ایک بنیادی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ علمی، فقہی اور اجتہادی اختلاف بذاتِ خود مذموم نہیں، بلکہ معتبر علمی اختلاف ہماری فقہی روایت کا ایک معروف پہلو ہے؛ البتہ جب اختلاف، تعصب کی صورت اختیار کرلے، جب علمی مباحث ذاتی مخاصمت میں بدل جائیں اور جب مسلکی وابستگی دوسرے مسلمانوں کی تحقیر و تذلیل کا ذریعہ بن جائے تو یہی اختلاف انتشار اور افتراق کا سبب بن جاتا ہے۔ اپنے مسلک سے وابستگی، اپنے علمی موقف پر استقامت اور دلائل کی روشنی میں حق کی وضاحت یقیناً اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ انصاف، تحمل، وسعتِ ظرف اور دوسروں کے احترام کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ کسی کی علمی رائے سے اختلاف کرنا اور اس کی عزتِ نفس مجروح کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کے باہمی تعلق کی بنیاد بیان کرتے ہوئے فرمایا إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ بے شک تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرادو۔ اس ارشادِ ربانی میں اختلاف کی صورت میں قطع تعلقی، طعن و تشنیع اور نفرت انگیزی کے بجائے اصلاح، مصالحت اور اخوت کے تحفظ کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں انتشار کا ایک بڑا سبب بدگمانی، غیبت، بہتان تراشی اور تحقیق کے بغیر باتوں کو قبول کرنا بھی ہے۔ بسا اوقات ایک سنی سنائی بات، ایک بے بنیاد الزام یا کسی کے متعلق قائم کیا گیا بدگمانانہ تصور برسوں کے تعلقات کو مسموم کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس اخلاقی بیماری کی جڑ کاٹتے ہوئے ارشاد فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگو اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے۔ اسی طرح تحقیق و احتیاط کا اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا. اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو۔ عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا نے اس قرآنی ہدایت کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے، جہاں ایک غیر مصدقہ خبر، نامکمل ویڈیو، تحریف شدہ عبارت یا بے بنیاد الزام لمحوں میں وسیع پیمانے پر پھیل جاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرنے کے لائق نہیں اور ہر موصول ہونے والا پیغام آگے منتقل کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمان کی عزت و آبرو کی حرمت واضح کرتے ہوئے فرمایا كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔ ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے مسلمان کی جامع پہچان بیان کرتے ہوئے فرمایا الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ لہٰذا ہمیں سنجیدگی سے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہماری زبان، ہماری تحریر، ہماری تقریر اور ہماری سوشل میڈیا سرگرمیاں معاشرے میں محبت و خیرخواہی کو فروغ دے رہی ہیں یا نفرت و انتشار کو ہوا دے رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کی اجتماعی شناخت بیان کرتے ہوئے فرمایا. وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ بے شک تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھ سے ڈرو۔ اس وحدت کا عملی تقاضا یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کریں، دینی و سماجی معاملات میں تعاون کریں، ضرورت مندوں کا سہارا بنیں اور باہمی اختلافات کو حکمت و بصیرت کے ساتھ حل کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے اہلِ ایمان کی باہمی محبت و ہمدردی کو ایک جسم سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ مومنوں کی آپس کی محبت، رحم دلی اور باہمی ہمدردی کی مثال ایک جسم کی مانند ہے، جب جسم کا ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں درس دیتی ہے کہ امت کا درد ہمارا اجتماعی درد ہونا چاہیے، نہ کہ ہم ایک دوسرے کی تکلیف پر خوشی منائیں یا کسی کی ناکامی کو اپنی کامیابی تصور کریں۔ یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ اتحادِ امت کا مطلب یہ نہیں کہ تمام فقہی و اجتہادی اختلافات کو ختم کردیا جائے یا ہر مسئلے میں یکساں رائے اختیار کرنے پر اصرار کیا جائے، بلکہ حقیقی اتحاد یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود قرآن و سنت کی بالادستی، علمی دیانت، عدل و انصاف، حسنِ اخلاق اور باہمی حقوق کا تحفظ برقرار رہے۔ اللہ تعالیٰ نے دشمنی اور اختلاف کی حالت میں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑنے کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو؛ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ اس قرآنی اصول کا تقاضا ہے کہ اختلاف کے باوجود کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو، کسی کی خدمات کا انکار نہ کیا جائے اور کسی کی غلطی کو اس کی تمام خوبیوں پر غالب نہ کردیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے باہمی تعلقات کی اصلاح کی غیر معمولی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ کے درجے سے افضل عمل نہ بتاؤں؟ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: ضرور! آپ ﷺ نے فرمایا آپس کے تعلقات کی اصلاح کرنا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان صلح و صفائی، دلوں کو جوڑنا اور باہمی رنجشوں کو ختم کرنا محض ایک سماجی ضرورت نہیں، بلکہ نہایت عظیم دینی عمل ہے۔ چنانچہ علماء، ائمہ، خطباء، دینی اداروں کے ذمہ داران اور معاشرے کے باشعور افراد پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی علمی و دینی حیثیت کو اصلاح، اتحاد اور خیرخواہی کے لیے استعمال کریں، نہ کہ اختلافات کو ہوا دینے اور باہمی خلیج کو وسیع کرنے کے لیے۔ مساجد و مدارس کو گروہی کشمکش کا میدان بنانے کے بجائے تعلیم و تربیت، تزکیہ و اصلاح اور اخوت و محبت کے مراکز بنایا جائے۔ نوجوان نسل کو مسلکی نفرت اور شخصی تعصب کے بجائے علمی بصیرت، دینی شعور، اخلاقی پختگی اور اختلاف کے آداب سکھائے جائیں۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دین کی خدمت کسی ایک جماعت، تنظیم یا حلقے کی کامیابی تک محدود نہیں، بلکہ پوری امت کی دینی و اخلاقی اصلاح اس کا وسیع تر مقصد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔ اس لیے اصلاحِ امت کا آغاز اصلاحِ نفس سے ہونا چاہیے۔ ہم دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی زبان کو غیبت و بہتان سے، اپنے دل کو بغض و حسد سے، اپنی مجالس کو عیب جوئی سے اور اپنے سوشل میڈیا کو فتنہ انگیزی سے محفوظ رکھیں۔ اپنے آپ سے سوال کریں: کیا ہمارے طرزِ عمل سے مسلمانوں کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے یا دوریاں؟ کیا ہماری گفتگو میں خیرخواہی ہے یا تحقیر؟ کیا ہم حق کی حمایت کرتے ہیں یا محض اپنی جماعت اور شخصیت کی؟ یاد رکھیے! امت کی سربلندی محض اتحاد کے نعروں، جلسوں اور تقریروں سے حاصل نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کے لیے اخلاص، تقویٰ، علم، عدل، تحمل، باہمی محبت، حقوق کی ادائیگی اور اجتماعی ذمہ داری کا حقیقی شعور ضروری ہے۔ 
اختلافِ رائے علمی وسعت کا حصہ ہوسکتا ہے، لیکن اختلاف کو تعصب، نفرت اور دشمنی میں بدل دینا امت کی قوت کو کمزور اور اس کے اجتماعی وجود کو منتشر کردیتا ہے۔ آج وقت کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں، نفرت کے بجائے خیرخواہی، انتشار کے بجائے اجتماعیت اور گروہی مفادات کے بجائے امت کے وسیع تر دینی مفاد کو ترجیح دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی صحیح سمجھ، اعتدال و بصیرت، اخلاصِ عمل، باہمی محبت، اتحاد و اتفاق اور امتِ مسلمہ کی اصلاح و سربلندی کے لیے مخلصانہ جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین