سفر کی داستان اور خواجہ سراؤں کا رویہ: ایک عجیب تجربہ
مولوی صاحب!
میں اپنے گھر سے واپسی کا سفر کر رہا تھا۔ بہار سے دہلی کا سفر کافی طویل ہے اور اس دوران مسافروں کو کئی طرح کی مشکلات اور مختلف تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسی سفر کے دوران میں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ کچھ خواجہ سرا، جنہیں عام بول چال میں کنر بھی کہا جاتا ہے، وہاں آئے اور مسافروں سے رقم کا مطالبہ کرنے لگے۔ میں بھی وہیں قریب بیٹھا ہوا تھا، لیکن انہوں نے مجھ سے کسی قسم کی رقم کا مطالبہ نہیں کیا۔
میرے دل میں خیال آیا کہ شاید انہیں میرے مولوی ہونے یا داڑھی اور ٹوپی کی وجہ سے مجھ سے ایک خاص محبت اور احترام ہے، اسی لیے انہوں نے مجھ سے کچھ نہیں کہا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اگر کوئی شخص انہیں رقم دینے کی کوشش بھی کرتا تو بعض اوقات وہ اس رقم کو بھی نظر انداز کر دیتے۔
میں نے اس طرح کا رویہ پہلے بھی کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ یہ لوگ آج کے دور میں بھی داڑھی اور ٹوپی رکھنے والوں کے ساتھ محبت اور احترام کا معاملہ کرتے ہیں۔ یہ بات اس لیے بھی قابلِ غور ہے کہ آج معاشرے میں بعض لوگ داڑھی اور ٹوپی رکھنے والوں کو دیکھ کر نفرت کا اظہار کرتے ہیں یا انہیں عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مذہب یا دھرم انسان کو نفرت کا درس نہیں دیتا، بلکہ ہر مذہب انسانیت، محبت، رواداری اور ایک دوسرے کے احترام کا پیغام دیتا ہے۔
ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے لباس، حلیے یا ظاہری شکل میں نہیں، بلکہ اس کے اخلاق، کردار اور دوسروں کے ساتھ محبت و احترام کے رویے میں ہے۔
یاد رکھیے! لوگوں کے دلوں میں جگہ دولت، شہرت یا ظاہری شان و شوکت سے نہیں، بلکہ محبت، خلوص اور اچھے اخلاق سے بنائی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک دوسرے سے محبت کرنے، دوسروں کے جذبات کا احترام کرنے اور انسانیت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!
از قلم: بدیع الزماں ثاقبی ارریاوی