*حمل کے جدید طبی طریقے اور ان کے شرعی احکام*
*قرآن و سنت کی روشنی میں علاج، مصنوعی تولید اور جدید طبی مسائل کا جائزہ*
*حریمِ مبشر*
اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں، جسے چاہتا ہے دونوں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے اپنی حکمت کے تحت اولاد سے محروم رکھتا ہے۔ لیکن اولاد کی خواہش رکھنا، اس کے لیے دعا کرنا اور جائز طریقے سے علاج کروانا بھی شریعت کی نظر میں ایک فطری اور قابلِ فہم عمل ہے۔
آج کے دور میں طب نے حمل نہ ٹھہرنے کے علاج کے متعدد راستے فراہم کیے ہیں۔ بعض خواتین کو ہارمونز کی بے ترتیبی کا سامنا ہوتا ہے، بعض کے بیضے باقاعدگی سے نہیں بنتے، بعض کی تولیدی نالیوں میں رکاوٹ ہوتی ہے، بعض مردوں کے مادۂ تولید میں طبی کمزوری پائی جاتی ہے، جب کہ بعض جوڑوں میں تمام بنیادی جانچ کے باوجود حمل نہ ٹھہرنے کی واضح وجہ معلوم نہیں ہوپاتی۔ ان حالات میں علاج کے لیے ادویات، جراحی، مصنوعی طریقۂ تلقیح، آئی یو آئی اور آئی وی ایف جیسے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔
تاہم ایک مسلمان کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ کوئی طریقہ طبی اعتبار سے کامیاب ہوسکتا ہے، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے، اس میں کن امور کی اجازت ہے اور کن صورتوں میں شرعی ممانعت پائی جاتی ہے۔
اسلام نے علاج کے دروازے بند نہیں کیے، لیکن نسب کی حفاظت، نکاح کی حرمت، انسانی جسم کی عزت اور شرعی حدود کی رعایت کو بھی ضروری قرار دیا ہے۔ اس لیے جدید طبی طریقوں کا حکم سمجھنے کے لیے قرآن و سنت کے اصولوں اور معاصر فقہاء کے مستند فتاویٰ سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
*اولاد کی خواہش اور قرآن مجید کی رہنمائی*
قرآن مجید میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا بیان کی گئی ہے:
رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ۔
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو دعا سننے والا ہے۔ (آل عمران: 38)
حضرت زکریا علیہ السلام نے بڑھاپے میں بھی اللہ تعالیٰ سے اولاد کی دعا فرمائی۔ قرآن مجید میں ان کی دعا کے الفاظ بھی مذکور ہیں:
رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَّأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ۔
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر ہے۔ (الأنبیاء: 89)
یہ آیت اولاد کی خواہش رکھنے والوں کو دعا کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ البتہ انبیائے کرام علیہم السلام کی دعاؤں سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ ہر شخص کو لازماً اولاد ملے گی یا کسی مخصوص وظیفے سے حمل ٹھہرنے کی ضمانت ہے۔ دعا عبادت ہے، اور اس کی قبولیت اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تابع ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاءُ إِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّإِنَاثًا وَّيَجْعَلُ مَنْ يَّشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهٗ عَلِيمٌ قَدِيرٌ۔
ترجمہ: آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے، یا انہیں بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ بے شک وہ خوب جاننے والا، بڑی قدرت والا ہے۔ (الشوریٰ: 49-50)
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے کسی عورت یا مرد کو حقیر سمجھنا، اسے لازماً قصوروار ٹھہرانا یا اس کی عزتِ نفس مجروح کرنا قرآن کی اس تعلیم کے خلاف ہے۔
*علاج کروانا شرعاً جائز ہے*
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب اولاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے تو علاج کی کوشش کرنا تقدیر پر اعتراض ہے۔ یہ تصور درست نہیں۔ اسلام نے توکل کے ساتھ اسباب اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تَدَاوَوْا عِبَادَ اللّٰهِ، فَإِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً۔
ترجمہ: اے اللہ کے بندو! علاج کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کے لیے شفا نہ رکھی ہو۔ (سنن ابی داؤد، حدیث: 3855؛ جامع ترمذی، کتاب الطب)
اس حدیث سے علاج کی ترغیب معلوم ہوتی ہے۔ حمل نہ ٹھہرنے کی صورت میں بھی مناسب طبی معائنہ اور جائز علاج اختیار کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر بیماری کا علاج انسان کو معلوم ہو، یا ہر علاج سے یقینی کامیابی حاصل ہوجائے۔
شوہر اور بیوی دونوں کی جانچ ضروری ہے۔ مرد کے مادۂ تولید کی جانچ، عورت کے بیضے بننے کی کیفیت، ہارمونز، رحم اور تولیدی نالیوں کی جانچ طبی ضرورت کے مطابق کی جاسکتی ہے۔
*حمل نہ ٹھہرنے کے علاج کے اہم طریقے*
۱۔ *ادویات اور ہارمونز کے ذریعے علاج*
اگر عورت میں بیضہ باقاعدگی سے نہیں بنتا یا خارج نہیں ہوتا تو ڈاکٹر بعض ادویات تجویز کرتے ہیں۔ اسی طرح تھائیرائڈ یا دوسرے ہارمونز کی خرابی، یا کسی اور بیماری کی وجہ سے حمل میں رکاوٹ ہو تو اس کا علاج کیا جاتا ہے۔ بعض مردوں کے طبی مسائل میں بھی ادویات مفید ہوسکتی ہیں۔
*شرعی حکم:* جائز اور مفید ادویات کا استعمال اصولاً درست ہے، بشرطیکہ ان میں کوئی ممنوع جزو نہ ہو، ان سے ہونے والا نقصان قابلِ اعتنا نہ ہو اور انہیں مناسب طبی مشورے کے مطابق استعمال کیا جائے۔ اپنی مرضی سے ہارمونز یا بیضہ خارج کرنے والی ادویات لینا مناسب نہیں۔
۲۔ *جراحی اور طبی آپریشن*
بعض خواتین کی تولیدی نالیوں میں رکاوٹ ہوتی ہے، بعض کے رحم میں رسولیاں یا چپکاؤ ہوتا ہے، اور بعض کو اینڈومیٹریوسس جیسی بیماری کا سامنا ہوتا ہے۔ اسی طرح مرد کے مادۂ تولید کے راستے میں رکاوٹ ہو تو اس کی جراحی کے ذریعے اصلاح کی جاسکتی ہے۔
*شرعی حکم:* واقعی طبی ضرورت کے تحت علاج یا آپریشن کی گنجائش ہے۔ تاہم ستر کھولنے اور اجنبی معالج کے ہاتھ لگانے سے حتی الامکان بچنا ضروری ہے۔ اگر خاتون معالج دستیاب ہو تو عورت کے علاج میں اسے ترجیح دی جائے۔ ایسی صورت میں جب مناسب ہم جنس معالج میسر نہ ہو یا علاج میں تاخیر سے نقصان کا اندیشہ ہو تو معتبر طبی ضرورت کے مطابق رخصت کی تفصیل مستند مفتی سے معلوم کی جائے۔
۳۔ *قدرتی طریقے سے حمل کے امکانات بہتر بنانا*
ماہواری اور بیضہ خارج ہونے کے اوقات معلوم کرنا، مناسب غذا، نیند، صحت مند طرزِ زندگی اور موجودہ بیماریوں کا علاج بھی حمل کے امکانات بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
*شرعی حکم:* یہ تمام جائز اسباب ہیں۔ تاہم غیر ثابت شدہ نسخوں، تعویذ گنڈوں یا ایسے دعووں سے بچنا چاہیے جن میں یقینی حمل کی ضمانت دی جاتی ہو۔ جائز دعا اور علاج اپنی جگہ، لیکن کسی مخصوص وظیفے یا خوراک کو شرعی طور پر ثابت شدہ اور یقینی علاج قرار دینے کے لیے دلیل درکار ہے۔
*مصنوعی طریقۂ تولید کیا ہے* ؟
مصنوعی طریقۂ تولید سے مراد وہ طبی طریقے ہیں جن میں حمل ٹھہرانے کے لیے مادۂ تولید یا بیضے کو معمول کے ازدواجی تعلق کے علاوہ کسی طبی طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہیں، اور ان سب کا شرعی حکم ایک جیسا نہیں۔
اس موضوع پر اہم ترین معاصر فقہی دستاویزات میں مجمع الفقہ الاسلامی الدولي کی قرارداد نمبر 16 (4/3)، مؤرخہ اکتوبر 1986ء، شامل ہے۔ اس میں مصنوعی تولید کی سات صورتوں کا جائزہ لے کر پانچ کو ممنوع اور دو کو شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا گیا۔
یہاں ایک اصول یاد رکھنا ضروری ہے: صرف یہ بات کافی نہیں کہ مادۂ تولید شوہر کا ہو؛ بیضہ، رحم، طریقۂ کار، نکاح کی حالت اور نسب کے محفوظ رہنے کی شرائط بھی اہم ہیں۔
۴۔ *آئی یو آئی (IUI): شوہر کے مادۂ تولید کو رحم میں پہنچانا*
آئی یو آئی (Intrauterine Insemination) میں شوہر کے مادۂ تولید کو طبی طریقے سے تیار کرکے بیوی کے رحم میں پہنچایا جاتا ہے۔ اس میں بارآوری عورت کے جسم کے اندر ہوتی ہے۔
اس طریقے میں بعض اوقات مادۂ تولید کو صاف کرکے مناسب خلیات الگ کیے جاتے ہیں۔ طبی مرکز میں اس عمل کے لیے مختلف آلات استعمال ہوسکتے ہیں۔
*شرعی حکم اور فقہی اختلاف* : اس مسئلے میں طریقۂ کار کی تفصیل بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ مجمع الفقہ الاسلامی کی قرارداد میں شوہر کے مادۂ تولید کو بیوی کے رحم میں داخل کرنے کی ایک مخصوص صورت کو شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا گیا ہے۔ لیکن ہندوستان کے حنفی دارالافتاؤں میں اس کے بارے میں مختلف فتاویٰ ملتے ہیں۔
دارالعلوم دیوبند کے ایک شائع شدہ فتویٰ میں شوہر کے مادۂ تولید کو مشین کے ذریعے بیوی کی شرم گاہ میں داخل کرنے کو ناجائز کہا گیا ہے، جب کہ اسی ادارے کے ایک دوسرے فتویٰ میں شوہر کے مادۂ تولید کو بیوی سے صحبت کے دوران عزل کے ذریعے حاصل کرکے شوہر ہی کے ذریعے رحم میں رکھنے کی اجازت بیان ہوئی ہے، اور مرد یا عورت ڈاکٹر کے مخصوص اعضا دیکھنے یا ہاتھ لگانے کے مسئلے پر بھی سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔ (دارالعلوم دیوبند، فتویٰ نمبر 46511؛ فتویٰ نمبر 606108)
اس لیے علاج شروع کرنے سے پہلے پورا طریقۂ کار معتبر دارالافتاء کے سامنے رکھنا چاہیے۔
۵۔ *آئی وی ایف (IVF): ٹیسٹ ٹیوب بے بی*
آئی وی ایف (In Vitro Fertilization) کو عام طور پر ٹیسٹ ٹیوب بے بی کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں عورت کو ادویات دے کر بیضے تیار کیے جاتے ہیں، پھر طبی عمل کے ذریعے بیضے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد لیبارٹری میں شوہر کے مادۂ تولید سے بیوی کے بیضے کی بارآوری کی جاتی ہے۔ بننے والے جنین کو بعد میں بیوی کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس طریقے میں بچے کی مکمل تخلیق لیبارٹری میں نہیں ہوتی، بلکہ بارآوری کا ابتدائی مرحلہ جسم سے باہر انجام دیا جاتا ہے اور جنین رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔
*مجمع الفقہ الاسلامی کا فتویٰ*
مجمع الفقہ الاسلامی الدولي نے اپنی قرارداد نمبر 16 (4/3) میں آئی وی ایف کی اس مخصوص صورت کو جائز قرار دیا ہے جس میں شوہر کا مادۂ تولید اور اس کی بیوی کا بیضہ استعمال ہو اور بارآوری کے بعد جنین اسی بیوی کے رحم میں منتقل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ضرورت، اختلاطِ نسب سے حفاظت اور دیگر شرائط کی پابندی ضروری ہے۔
اس کے برعکس، اگر کسی دوسرے مرد کا مادۂ تولید، کسی دوسری عورت کا بیضہ یا کسی اجنبی عورت کا رحم استعمال کیا جائے تو مجمع الفقہ الاسلامی نے ان صورتوں کو ممنوع قرار دیا ہے۔
*دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم وقف دیوبند کے فتاویٰ*
فتویٰ نمبر 71/71=B/1429، میں شدید ضرورت کی صورت میں شوہر کے مادۂ تولید اور بیوی کے بیضے سے بارآوری کی گنجائش بیان ہوئی ہے۔
دارالعلوم وقف دیوبند کے فتویٰ نمبر 3899/47-10096 میں بھی یہ صورت جائز قرار دی گئی ہے، بشرطیکہ مادۂ تولید شوہر کا، بیضہ بیوی کا اور رحم بھی اسی بیوی کا ہو، اور عمل نکاح کے قائم رہنے کے دوران ہو۔
لہٰذا ان فتاویٰ کی روشنی میں یہ کہنا درست نہیں کہ تمام حنفی فقہاء آئی وی ایف کو ناجائز کہتے ہیں، یا یہ کہ تمام حنفی فقہاء اسے بلا اختلاف جائز سمجھتے ہیں۔
۶۔ *آئی سی ایس آئی (ICSI)*
آئی سی ایس آئی (Intracytoplasmic Sperm Injection) آئی وی ایف سے متعلق ایک تکنیک ہے۔ اس میں مادۂ تولید کے ایک منتخب خلیے کو براہِ راست بیضے کے اندر داخل کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ بعض مردوں کے مادۂ تولید میں کمی یا حرکت کی خرابی کی صورت میں اختیار کیا جاتا ہے۔
*شرعی حکم* : اگر اس میں شوہر کا مادۂ تولید، بیوی کا بیضہ اور اسی بیوی کا رحم استعمال ہو تو اس کی گنجائش کے قائل معاصر فقہاء اسے آئی وی ایف کی ایک صورت شمار کرتے ہیں، بشرطیکہ شرعی شرائط پوری ہوں۔ تاہم جو دارالافتاء مصنوعی طریقۂ تولید کو ممنوع قرار دیتا ہے، اس کے موقف کے مطابق حکم مختلف ہوسکتا ہے۔ اس لیے محض آئی سی ایس آئی کا نام سن کر اسے قطعی جائز یا ناجائز قرار نہیں دینا چاہیے۔
۷۔ *کسی دوسرے مرد کا مادۂ تولید استعمال کرنا*
بعض طبی مراکز میں ایسے مرد کا مادۂ تولید استعمال کیا جاتا ہے جو اس بچے کا باپ نہیں ہوتا۔ اسے اسپرم ڈونیشن کہا جاتا ہے۔
*شرعی حکم* : معروف معاصر سنی فقہی اداروں کے مطابق کسی اجنبی مرد کا مادۂ تولید استعمال کرکے شادی شدہ عورت کو حاملہ کرنا ناجائز ہے۔ مجمع الفقہ الاسلامی نے بھی اسے ممنوع قرار دیا ہے۔ اس سے نسب، باپ کی تعیین، وراثت اور خاندانی رشتوں کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
شوہر کی رضامندی، ڈونر کا رشتہ دار ہونا یا اس مادے کا بلا معاوضہ فراہم کیا جانا اس ممانعت کو ختم نہیں کرتا۔
۸۔ *کسی دوسری عورت کا بیضہ استعمال کرنا*
اس طریقے میں دوسری عورت کا بیضہ لے کر شوہر کے مادۂ تولید سے بارآور کیا جاتا ہے اور پھر جنین بیوی کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔
*شرعی حکم* : مجمع الفقہ الاسلامی اور معروف معاصر سنی فقہی اداروں نے اس صورت کو ممنوع قرار دیا ہے، کیونکہ اس میں جینیاتی مادریت اور حمل کو جنم دینے والی عورت کے درمیان فرق پیدا ہوجاتا ہے، جس سے نسب اور مادریت کے شرعی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
کسی عورت کا اپنی بہن یا کسی قریبی رشتہ دار کو بیضہ عطیہ کرنا بھی اس حکم کو تبدیل نہیں کرتا۔
۹۔ *کرائے کی کوکھ (Surrogacy)*
کرائے کی کوکھ میں کسی دوسری عورت کے رحم کو حمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں شوہر اور بیوی کے مادۂ تولید سے بننے والا جنین دوسری عورت کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے، جب کہ بعض صورتوں میں دوسری عورت کا بیضہ بھی استعمال ہوتا ہے۔
*شرعی حکم* : مجمع الفقہ الاسلامی کے معروف فیصلے کے مطابق کسی دوسری عورت کے رحم میں جنین منتقل کرکے بچہ حاصل کرنا ممنوع ہے۔ اس میں مادریت، نسب اور بچے کے حقوق کے پیچیدہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
دوسری عورت کا رشتہ دار ہونا، اس کی رضامندی یا معاوضہ نہ لینا اس طریقے کو جائز نہیں بناتا۔ اسی طرح شوہر کی دوسری بیوی کا رحم استعمال کرنے کی صورت بھی مجمع الفقہ الاسلامی کے معروف موقف کے مطابق ممنوع ہے۔
۱۰۔ *منجمد بیضے اور جنین*
جدید طب میں بیضے اور جنین کو مخصوص حالات میں منجمد کرکے محفوظ کیا جاسکتا ہے تاکہ مستقبل میں علاج کے لیے استعمال کیے جائیں۔
*شرعی حکم:** غیر بارآور بیضوں کو محفوظ کرنے کی گنجائش بعض معاصر فقہی اداروں نے شرائط کے ساتھ بیان کی ہے۔ بارآور جنین کو محفوظ رکھنے کے معاملے میں بھی بعض اداروں نے نکاح کے قائم رہنے، نسب کی حفاظت اور اسی بیوی کے رحم میں منتقلی جیسی شرائط ذکر کی ہیں۔
مجمع الفقہ الاسلامی کی قرارداد نمبر 55 (6/6)، مؤرخہ مارچ 1990ء، میں زائد بارآور بیضوں کے متعلق یہ قرار دیا گیا کہ آئندہ علاج کے لیے صرف مطلوبہ تعداد میں بیضوں کو بارآور کیا جائے۔ اگر زائد بارآور بیضے باقی رہ جائیں تو انہیں طبی نگہداشت کے بغیر ان کی فطری موت تک چھوڑ دیا جائے اور کسی دوسری عورت کے رحم میں منتقل نہ کیا جائے۔
۱۱۔ *نکاح ختم ہونے کے بعد محفوظ جنین کا استعمال*
اگر نکاح کے دوران جنین تیار کرکے محفوظ کرلیے گئے ہوں، لیکن بعد میں طلاق ہوجائے یا شوہر کا انتقال ہوجائے، تو ان جنین کو استعمال کرنے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
معاصر فقہی فیصلوں میں مصنوعی تولید کے لیے نکاح کا قائم رہنا بنیادی شرط شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد سابق شوہر کے محفوظ شدہ مادۂ تولید یا جنین سے حمل ٹھہرانے کی اجازت معروف سنی فقہی موقف کے مطابق نہیں دی جاتی۔
یہاں محض اس بات سے حکم تبدیل نہیں ہوتا کہ جنین نکاح کے دوران تیار ہوا تھا۔ حمل ٹھہرانے کے وقت زوجیت کے برقرار رہنے کی شرط بھی اہم ہے۔
۱۲ *۔ زائد جنین کو تلف کرنا یا تحقیق میں استعمال کرنا*
آئی وی ایف میں کبھی ایک سے زیادہ بیضے بارآور ہوجاتے ہیں اور بعض جنین فوری طور پر رحم میں منتقل نہیں کیے جاتے۔ اس صورت میں انہیں محفوظ رکھنے، تلف کرنے یا تحقیق کے لیے استعمال کرنے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
مجمع الفقہ الاسلامی نے زائد بارآور بیضوں کے بارے میں اپنی مذکورہ قرارداد میں خاص ہدایت دی ہے کہ ابتدا ہی سے ضرورت سے زیادہ بیضے بارآور نہ کیے جائیں، اور اگر زائد بارآور بیضے باقی رہ جائیں تو انہیں طبی نگہداشت کے بغیر ان کی فطری موت تک چھوڑ دیا جائے۔
چونکہ مختلف مراحل کے جنین، ان کی نشوونما اور ان کے استعمال کے مسائل میں تفصیل ہے، اس لیے انہیں عام لیبارٹری کے مادّے کی طرح سمجھ کر کوئی عمومی حکم نہیں لگانا چاہیے۔ تحقیق یا تلف کرنے کے معاملے میں مخصوص صورت کا حکم معتبر مفتی سے معلوم کیا جائے۔
۱۳۔ *جنین کی جنس کا انتخاب*
بعض طبی مراکز میں جنین کی جینیاتی جانچ کے ذریعے جنس معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس کا ایک مقصد بعض موروثی بیماریوں سے بچنا بھی ہوسکتا ہے، جب کہ بعض افراد محض بیٹے یا بیٹی کی خواہش میں جنس منتخب کرنا چاہتے ہیں۔
*شرعی حکم* : یہ بھی ناجاءز ہے۔
قرآن مجید نے بیٹیوں کو اللہ تعالیٰ کی عطا قرار دیا ہے؛ لہٰذا بیٹی کی پیدائش کو باعثِ شرمندگی سمجھنا یا صرف جنس کی بنیاد پر اولاد کو حقیر جاننا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
۱۴۔ *حمل ٹھہرنے کے بعد اسقاطِ حمل*
اگر علاج کے بعد حمل ٹھہر جائے اور بعد میں کوئی طبی پیچیدگی پیدا ہوجائے تو اسقاطِ حمل کا سوال پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کا حکم حمل کے مرحلے، طبی خطرے اور عذر کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔ ماں کی جان کو حقیقی خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں مستند ماہرینِ طب کی تشخیص اور معتبر مفتی کی رہنمائی ضروری ہے۔
اسی طرح محض اس وجہ سے کہ حمل مصنوعی طریقے سے ٹھہرا ہے، حمل کو ختم کرنے کی اجازت نہیں مل جاتی۔ حمل ٹھہر جانے کے بعد اس کے متعلق شرعی احکام مستقل طور پر ملحوظ رکھے جائیں گے۔
۱۵۔ *طبی معائنے میں ستر اور خلوت کے احکام*
حمل کے علاج میں کبھی عورت کے مخصوص اعضا کا معائنہ، اندرونی الٹراساؤنڈ یا بیضے حاصل کرنے کا طبی عمل ضروری ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں مرد کے مادۂ تولید کا نمونہ بھی درکار ہوتا ہے۔
شرعی اصول یہ ہے کہ عورت کے علاج میں خاتون معالج اور مرد کے علاج میں مرد معالج کو ترجیح دی جائے۔ اگر ہم جنس معالج میسر نہ ہو یا تاخیر سے نقصان کا اندیشہ ہو تو واقعی طبی ضرورت کی مقدار میں رخصت کی تفصیل معتبر مفتی سے معلوم کی جائے۔ ستر صرف ضرورت کی حد تک کھولا جائے اور خلوت سے بچنے کی مناسب تدابیر اختیار کی جائیں۔
طبی عمل کے ہر مرحلے کو ایک ہی حکم میں شامل کرنا درست نہیں؛ اس لیے علاج کے مخصوص طریقۂ کار کی تفصیل بتا کر فتویٰ لینا ضروری ہے۔
۱۶۔ *استمناء کے ذریعے مادۂ تولید حاصل کرنا*
مصنوعی تولید کے بعض طریقوں میں شوہر کے مادۂ تولید کا نمونہ درکار ہوتا ہے۔ اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسے کس طریقے سے حاصل کیا جائے۔
فقہِ حنفی میں استمناء بالید کے متعلق اصل حکم ممانعت کا ہے، اس لیے محض طبی ضرورت کا نام لے کر اسے بلا تفصیل جائز نہیں کہا جاسکتا۔ بعض فتاویٰ میں میاں بیوی کے باہمی تعلق کے دوران عزل کے ذریعے نمونہ حاصل کرنے کی صورت بیان کی گئی ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے شائع شدہ فتویٰ نمبر 46511 میں بھی شوہر کے ذریعے نمونہ حاصل کرنے کے ایک مخصوص طریقے اور ڈاکٹر کے معائنے کے متعلق تفصیل موجود ہے۔ اس لیے اس معاملے میں طریقۂ کار کو واضح کرکے معتبر حنفی مفتی سے حکم معلوم کیا جائے۔
۱۷۔ *علاج کے اخراجات اور باہمی رضامندی*
حمل کا علاج بعض اوقات طویل اور مہنگا ہوتا ہے۔ اس لیے میاں بیوی کو علاج شروع کرنے سے پہلے اس کی ضرورت، کامیابی کے امکانات، ممکنہ نقصانات، متبادل طریقوں اور اخراجات کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہییں۔
ایک دوسرے پر علاج کے لیے غیر معمولی دباؤ ڈالنا، طبی نقصان کو نظرانداز کرنا یا مالی استطاعت سے باہر اخراجات کے معاملے میں اختلاف کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ علاج کے اخراجات، واجب نفقے اور کسی مخصوص مالی تنازع کے احکام حالات کے لحاظ سے مختلف ہوسکتے ہیں، اس لیے ضرورت پڑنے پر الگ شرعی رہنمائی لی جائے۔
۱۸۔ *بچے کی کفالت اور اسلامی گود لینے کا تصور*
اگر علاج کے باوجود اولاد نہ ہو تو ایک راستہ یہ بھی ہے کہ کسی یتیم یا ضرورت مند بچے کی کفالت کی جائے۔ بچے کی تعلیم، تربیت، خوراک، رہائش اور دیگر ضروریات پوری کرنا بڑی نیکی ہے۔
تاہم اسلامی کفالت اور بچے کا حقیقی نسب مٹا کر اسے کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ۔
ترجمہ: ان بچوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔ (الأحزاب: 5)
لہٰذا بچے کی کفالت کرتے وقت اس کا حقیقی نسب محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ کفالت سے بچہ تمام شرعی احکام میں حقیقی اولاد کے برابر نہیں ہوجاتا؛ بلکہ وہ وراثت سے محروم ہوتے ہیں۔
۱۹۔ *اولاد نہ ہونے پر معاشرتی رویہ*
حمل نہ ٹھہرنے کی وجہ سے طعنہ دینا، اسے بانجھ کہہ کر ذلیل کرنا، ہر مجلس میں اولاد کے متعلق سوال کرکے اسے پریشان کرنا یا اس کی طبی کیفیت کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا مناسب نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اولاد نہ ہونے کا سبب صرف عورت میں نہیں ہوتا۔ اس لیے صرف بیوی کو ذمہ دار ٹھہرانا علمی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے غلط ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے جذبات، صحت اور عزتِ نفس کا خیال رکھنا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ۔
ترجمہ: نہ خود نقصان پہنچانا ہے اور نہ بدلے میں نقصان پہنچانا۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث: 2340؛ موطأ امام مالک، کتاب الأقضیۃ)
یہ حدیث اسلامی فقہ کے اہم اصولوں میں سے ہے۔ علاج کے معاملات میں بھی کسی کو غیر ضروری جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچانے سے بچنا چاہیے۔
۲۰۔ *دعا، صبر اور اللہ تعالیٰ سے امید*
علاج کے ساتھ دعا کرنا بھی مومن کا طریقہ ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد عطا ہونے کا واقعہ اور قرآن مجید میں بیان کردہ دیگر انبیائے کرام کے حالات ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
لیکن دعا کو کسی مخصوص نتیجے کی ضمانت نہیں بنانا چاہیے۔ اگر علاج کے باوجود اولاد نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دعا قبول نہیں ہوئی یا انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہے۔ بندے کا کام جائز اسباب اختیار کرنا، دعا کرتے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی حکمت پر بھروسا رکھنا ہے۔
اولاد نہ ہونے کی صورت میں علاج روکنے کا فیصلہ کرنے والے جوڑے کو بھی ملامت نہیں کرنی چاہیے، اور علاج جاری رکھنے والے کو بھی غیر ضروری طعنوں کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ ہر خاندان کے حالات، صحت، مالی استطاعت اور برداشت مختلف ہوتی ہے۔
*خلاصۂ احکام*
جدید طبی طریقوں کے متعلق چند بنیادی اصول ہمیشہ پیشِ نظر رہنے چاہییں:
اول، جائز ادویات، تشخیصی معائنوں اور طبی ضرورت کے تحت جراحی کے ذریعے علاج کی گنجائش ہے، بشرطیکہ شرعی حدود اور طبی احتیاطوں کا لحاظ رکھا جائے۔
دوم، مصنوعی تولید کی تمام صورتوں کا حکم ایک نہیں۔ آئی وی ایف اور آئی یو آئی کے بارے میں معاصر فقہاء کے فتاویٰ میں اختلاف موجود ہے، اس لیے مخصوص طریقۂ کار کے ساتھ معتبر دارالافتاء سے رجوع کرنا چاہیے۔
سوم، اجنبی مرد کا مادۂ تولید، کسی دوسری عورت کا بیضہ یا کسی دوسری عورت کا رحم استعمال کرنے والی صورتیں معروف معاصر سنی فقہی فیصلوں کے مطابق ممنوع ہیں۔
چہارم، جنین کی حفاظت، زائد جنین، طلاق یا وفات کے بعد محفوظ جنین کے استعمال اور حمل ضائع کرنے کے احکام میں تفصیل ہے۔ ان مسائل میں عمومی اندازے کے بجائے معتبر فقہی رہنمائی ضروری ہے۔
پنجم، نسب کی حفاظت، نکاح کی حرمت، ستر کے احکام اور مریض کی رازداری کو علاج کے ہر مرحلے میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، لیکن اولاد کی خواہش رکھنے والوں کے لیے جائز علاج کی کوشش کرنا بھی درست ہے۔ طب کے نئے طریقوں سے فائدہ اٹھانے میں حرج نہیں، بشرطیکہ ان کے شرعی احکام کو سمجھا جائے اور ممنوع صورتوں سے بچا جائے۔