*جدید دور کے حسن و زیبائش کے طریقے اور ان کا شرعی حکم*
*قرآن و حدیث اور فقہِ حنفی کی روشنی میں* (حصہ اول)
آج حسن و زیبائش کا تصور صرف میک اپ، لباس اور زیورات تک محدود نہیں رہا۔
خاص طور پر سوشل میڈیا، اداکاراؤں، ماڈلز اور انفلوئنسرز کے مخصوص چہروں اور جسمانی ساختوں کو ’’خوبصورتی کا معیار‘‘ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی خواتین اپنی فطری شکل کو معمولی سمجھنے لگتی ہیں اور پھر ایک کے بعد دوسرا cosmetic procedure کروانے لگتی ہیں۔
یہاں یہ بات ابتدا ہی میں واضح رہنی چاہیے کہ زیرِ بحث وہ صورتیں ہیں جن میں اصل مقصد علاج، بیماری، حادثے یا حقیقی جسمانی نقص کی اصلاح نہیں بلکہ محض خوبصورتی، فیشن، مصنوعی حسن، celebrity/influencer look اور ظاہری تبدیلی حاصل کرنا ہو۔ اس مضمون میں علاج و reconstructive surgery کے الگ فقہی ابواب کو موضوع نہیں بنایا گیا۔
اسلام عورت کو صاف ستھرا رہنے، زینت اختیار کرنے اور جائز طریقے سے خوبصورت رہنے سے منع نہیں کرتا۔ لیکن زینت اور تغییرِ خلقت میں فرق ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾
’’یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا فرمایا۔‘‘
(التین: 4)
اور شیطان کی طرف سے ایک بات قرآن میں نقل کی گئی:
﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ﴾
’’اور میں انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی خلقت کو بدلیں گے۔‘‘
(النساء: 119)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
«لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ»
’’اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں، گدوانے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور حسن کے لیے دانتوں میں کشادگی پیدا کرنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے، جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والی ہیں۔‘‘
(صحیح البخاری، 5939؛ صحیح مسلم، 2125)
یہاں «لِلْحُسْنِ» خاص طور پر قابلِ غور ہے: یعنی حسن کے لیے ایسی تبدیلی جس کی ممانعت نص میں آئی ہے۔
1۔ *بوٹوکس* *Botox* کیا ہوتا ہے؟
بوٹوکس میں botulinum toxin کے انجیکشن مخصوص muscles میں لگائے جاتے ہیں تاکہ ان کی حرکت عارضی طور پر کم ہو جائے۔ چہرے کی جھریاں کم دکھانے، forehead lines، frown lines وغیرہ کو ہموار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید کاسمیٹک میڈیسن میں neuromodulator injections ایک عام cosmetic procedure ہیں۔
اگر کوئی خاتون محض جوان اور خوبصورت نظر آنے، چہرے کی عمر کے آثار چھپانے اور مصنوعی youthful appearance حاصل کرنے کے لیے Botox کرواتی ہے تو یہ محض سادہ میک اپ نہیں بلکہ جسم کے اندر انجیکشن کے ذریعے facial muscles کے کام میں تبدیلی پیدا کرنے والا cosmetic procedure ہے۔
یہ جائز نہیں۔ اس میں مقصد، طریقۂ کار، جسم میں تبدیلی اور نقصان سب کا اعتبار ہوگا۔
*2۔ Dermal Fillers* کیا ہوتے ہیں؟
Dermal fillers ایسے مادے ہوتے ہیں جو جلد کے نیچے یا مخصوص حصوں میں انجیکٹ کیے جاتے ہیں تاکہ وہاں
وولیوم بڑھایا جائے۔ Hyaluronic-acid fillers سب سے معروف اقسام میں سے ہیں۔ ان کا استعمال ہونٹ، گال، chin، jawline اور بعض اوقات ناک وغیرہ کی ظاہری شکل بدلنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
محض حسن اور fashion look کے لیے fillers کروانا جائز نہیں۔
3۔ *Lip Fillers*
لِپ فِلّر دراصل dermal filler ہی کی ایک مخصوص قسم ہے جس میں ہونٹوں کے اندر/کناروں کے قریب filler inject کرکے انہیں زیادہ بھرا ہوا اور نمایاں بنایا جاتا ہے۔
آج ’’plump lips‘‘ ایک beauty trend بن چکا ہے، اسی لیے بہت سی خواتین اپنے قدرتی ہونٹوں کو معمولی سمجھ کر یہ عمل کرواتی ہیں۔
اگر مقصد محض فیشن، celebrity look یا ہونٹوں کو قدرتی حالت سے زیادہ بڑا بنانا ہے تو اس کا حکم ناجائز cosmetic alteration کا ہے۔
4۔ *Cheek Fillers / Face Fillers*
گالوں میں filler دے کر cheeks کو ابھارا جاتا ہے، جبکہ مختلف حصوں میں filler دے کر چہرے کی shape بدلی جاتی ہے۔
اس میں جسم کی موجودہ ساخت کو کسی طبی ضرورت کے بغیر مصنوعی طور پر reshape کیا جاتا ہے۔ لہٰذا محض beauty enhancement کے لیے اس کا استعمال جائز نہیں۔
5۔ *Nose Fillers*
اسے بعض جگہ non-surgical rhinoplasty بھی کہا جاتا ہے۔ انجیکشن کے ذریعے ناک کے مخصوص حصوں میں filler دے کر ناک کی ظاہری ساخت تبدیل کی جاتی ہے۔
محض خوبصورتی کے لیے ہو تو ناجائز ہے۔
6۔ *Rhinoplasty :ناک کی پلاسٹک سرجری* کیا ہوتی ہے؟
اس عمل میں ناک کی ہڈی، cartilage یا soft tissue کی سرجیکل reshaping کی جاتی ہے تاکہ ناک کی شکل تبدیل ہو۔ آج اسے ناک کو ’’زیادہ خوبصورت‘‘، ’’sharp‘‘، ’’نازک‘‘ یا کسی پسندیدہ facial appearance کے مطابق بنانے کے لیے بھی کروایا جاتا ہے۔
دارالافتاء دارالعلوم دیوبند نے واضح طور پر لکھا ہے کہ اگر ناک یا چہرہ عام انسانی خلقت کے دائرے میں ہو، صرف کم خوبصورت ہونے کی وجہ سے اسے plastic surgery کے ذریعے تبدیل کیا جائے تو یہ جائز نہیں، کیونکہ یہ تغییرِ خلق اللہ کے تحت داخل ہے۔
لہٰذا:
صرف ناک کو زیادہ خوبصورت، پتلا، سیدھا یا celebrity-style بنانے کے لیے rhinoplasty کروانا ناجائز ہے۔
7۔ *Thread Lift / Nose Thread Lift / Fox-eye Thread Lift*
اسکا طریقہ باریک medical threads جلد کے نیچے داخل کرکے tissue کو اوپر کھینچا جاتا ہے یا facial contour میں تبدیلی پیدا کی جاتی ہے۔ بعض اوقات اسے جو لائن، چِکس، بھنویں، یا ناک کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اگر مقصد صرف چہرے کو اپنی فطری حالت سے مختلف شکل دینا، ’’lifted face‘‘ یا ’’fox-eye look‘‘ پیدا کرنا ہے تو یہ cosmetic alteration ہے اور محض حسن کے لیے اس کا کروانا جائز نہیں۔
8۔ *Face Lift*
اس میں چہرے اور گردن کی جلد اور بعض underlying tissues کو سرجیکل طریقے سے reposition/tighten کیا جاتا ہے تاکہ چہرہ زیادہ جوان دکھائی دے۔
اگر کوئی عورت محض عمر کے قدرتی آثار مٹانے اور زیادہ جوان و حسین نظر آنے کے لیے فطری ساخت میں یہ surgical تبدیلی کرواتی ہے تو اس سے اجتناب لازم ہے۔
9۔ *Buccal Fat Removal*
اس میں گال کے اندر موجود مخصوص fat pad کا کچھ حصہ سرجیکل طریقے سے نکالا جاتا ہے تاکہ چہرہ زیادہ پتلا اور cheekbones زیادہ نمایاں نظر آئیں۔ یہ موجودہ کاسمیٹک سرجری میں باقاعدہ پروسیجر کے طور پر شامل ہے۔
محض ’’slim face‘‘ یا مخصوص beauty trend حاصل کرنے کے لیے جسم کے قدرتی tissue کو نکال دینا محض حسن کے لیے تبدیلی ہے، اس لیے جائز نہیں۔
10۔ *Chin Implant / Jaw Implant / Jawline Surgery*
چن یا jawline کی شکل بدلنے کے لیے implant لگایا جاسکتا ہے یا ہڈی/soft tissue کی surgical reshaping کی جاتی ہے۔
اگر مقصد صرف زیادہ sharp chin، V-line face یا influencer-style jawline حاصل کرنا ہو تو یہ بھی اسی اصول کے تحت آئے گا: فطری ساخت میں محض حسن کے لیے مستقل تبدیلی، ناجائز۔
11۔ *Dimple Creation Surgery*
چہرے پر مصنوعی گڑھا یعنی dimple پیدا کرنے کے لیے اندرونی tissue میں surgical تبدیلی کی جاتی ہے۔ یہ بھی جائز نہیں۔
12۔ *Eyelid Surgery / Blepharoplasty*
اس میں پلکوں کی اضافی جلد یا ٹشو کو سرجیکل طریقے سے کم یا reposition کیا جاتا ہے۔ کاسمیٹک استعمال میں مقصد آنکھوں کو مختلف ساخت یا زیادہ جوان دکھانا ہوتا ہے۔
یہ بھی جائز نہیں۔
13۔ *Brow Lift / Forehead Lift*
اس میں بھنوؤں اور پیشانی کے ٹشوز کو اوپر reposition کیا جاتا ہے تاکہ آنکھوں اور ابرو کی ساخت زیادہ lifted دکھائی دے۔
محض فیشن کے لیے یہ بھی جایز نہیں ۔
14۔ *Cosmetic Eye-Colour Procedures*
رنگین کانٹیکٹ لینس الگ چیز ہیں، لیکن آنکھ کے iris کی مستقل یا semi-permanent cosmetic تبدیلی کے لیے مختلف procedures بھی پیش کیے جاتے ہیں۔
ایسے invasive کاسمیٹک پراڈکٹ سے اجتناب لازم ہے۔
15۔ *Colored Contact Lenses*
یہ نسبتاً مختلف مسئلہ ہے۔ contact lens جسم کی ساخت کو مستقل طور پر تبدیل نہیں کرتا، بلکہ آنکھ کے اوپر ایک removable lens رکھا جاتا ہے۔
اس لیے اسے ہر حال میں ’’تغییر خلق‘‘ کہنا درست نہیں۔ لیکن عورت کے لیے اس کا استعمال اپنی جگہ دیگر شرعی احکام اجنبیوں کے سامنے زینت کی نمائش، دھوکے، ضرر وغیرہ سے متعلق ہوگا۔
لہٰذا اصل صورتِ استعمال دیکھی جائے گی۔
16۔ *Eyebrow Threading / Plucking / Shaping*
یہ ان مسائل میں سے ہے جہاں نص بالکل واضح ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے نامصات اور متنمصات کے بارے میں وعید فرمائی۔
دارالعلوم دیوبند کے فتاویٰ میں بھی فیشن کے لیے ابرو کو باریک یا نئی شکل دینے سے منع کیا گیا ہے۔ البتہ اگر ابرو کے بال غیر معمولی طور پر بڑھ کر بدنمائی پیدا کریں تو انہیں معتاد شکل تک لانے کی تفصیل الگ ہے۔
لہٰذا:
Fashion eyebrow shaping، threading، waxing، plucking، arch بنانا، eyebrow کو بہت باریک کرنا وغیرہ محض خوبصورتی کے لیے ناجائز ہیں۔
17۔ *Microblading / Permanent Eyebrows*
اس عمل میں باریک needles/blades کے ذریعے pigment جلد میں داخل کرکے بھنوؤں کے بالوں جیسی مستقل یا طویل مدت رہنے والی لکیریں بنائی جاتی ہیں۔جس سے ٹیٹو کا اثر پیدا کیا جاتا ہے۔
نبی ﷺ نے ٹیٹو کے متعلق فرمایا:
«لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ»
لہٰذا permanent tattooing اور اسی نوعیت کے permanent pigmentation کو محض خوبصورتی کے لیے کروانا جائز نہیں۔ دارالعلوم دیوبند نے حتیٰ کہ عیب چھپانے کے لیے tattoo کے بارے میں بھی اس سے منع کیا ہے۔
18۔ *Lip Blush / Permanent Lip Makeup*
اس میں pigment جلد میں داخل کرکے ہونٹوں کا رنگ مستقل یا طویل مدت تک نمایاں رکھا جاتا ہے۔
یہ لپ اسٹک کی طرح صرف اوپر لگانے والی چیز نہیں بلکہ pigment کو جلد میں داخل کیا جاتا ہے؛ اس لیے مستقل pigmentation ٹیٹو کے حکم سے اس کی مشابہت پیدا ہوتی ہے۔
محض حسن کے لیے کروانا جائز نہیں۔
19۔ *Skin Whitening Injections / Glutathione Injections / IV Beauty Drips*
Glutathione
یہ ایک سبسٹنس ہے جسے بعض کاسمیٹک کلینکس اسکین لائٹنگ کے مقصد سے injectable یا IV طریقے میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے injectable استعمال میں تحفظی اقدام بھی سامنے آئے ہیں؛ مثال کے طور پر امریکی ایف ڈی اے نے اگست 2026 میں contaminated/unsuitable glutathione injectables سے adverse events کی اطلاع دی۔
اگر کوئی عورت اپنی قدرتی رنگت کو محض اس لیے ناپسند کرکے کہ آج کل گوری جلد کو خوبصورت کا معیار بنایا گیا ہے، بار بار غیر ضروری انجیکشنز یا ڈرپس کے ذریعے اپنا رنگ تبدیل کرواتی ہے، تو اس میں بلا ضرورت جسم میں مداخلت، ممکنہ ضرر اور مصنوعی خوبصورتی کی پیروی جمع ہوسکتی ہے۔
اس سے اجتناب ضروری ہے۔ اور جس انجیکشنز میں مضر یا شرعاً ناجائز
اجزاء شامل ہو، اس کا استعمال مزید ناجائز ہوگا۔
20۔ *Chemical Peel*
اس میں مخصوص کیمیکل solution جلد پر لگایا جاتا ہے جس سے جلد کی اوپری تہیں کنٹرولڈ طریقے سے exfoliate ہوتی ہیں، جس سے complexion، pigmentation، fine lines وغیرہ میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بلا ضرورت ایسی مداخلت سے بچنا چاہیے، خصوصاً اگر اس میں ضرر ہو۔
21۔ *Laser Skin Resurfacing*
اس کے ذریعے جلد کی مخصوص تہوں پر اثر ڈال کر texture، pigmentation، scars یا wrinkles وغیرہ کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سرجری سے مختلف ہے۔ تاہم اگر بلا ضرورت محض appearance enhancement کے لیے کیا جائے اور اس میں ضرر یا شرعی قباحت ہو تو اس سے بچنا ہوگا۔
22۔ *Microneedling*
اس میں بہت باریک انجیکشنز سے جلد میں چھوٹے punctures کیے جاتے ہیں تاکہ collagen production کو stimulate کیا جائے۔ اسے acne scars اور cosmetic skin improvement کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ مستقل جسمانی ساخت بدلنے کے procedures سے مختلف ہے؛اسلیے محض فیشن کے لیے بار بار غیر ضروری procedures کروانا قابلِ اجتناب معاملہ ہے۔
23۔ *PRP Facial / Vampire Facial*
اس میں عموماً اپنے خون سے platelet-rich plasma تیار کرکے جلد میں استعمال کیا جاتا ہے، بعض اوقات microneedling کے ساتھ۔
یہ کاسمیٹک پراڈکٹ ہے، اس کا شرعی حکم اس کے اجزاء، طریقے، ضرر اور مقصد پر موقوف ہوگا۔
اگر غیر شرعی اجزاء یا واضح نقصان شامل ہو تو حکم اسی اعتبار سے سخت ہوگا۔
24۔ *Mesotherapy / Skin Boosters*
مختلف substances کو جلد میں انجیکشنز کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے تاکہ ہائیڈریشن، ٹیکسچر، یا ظاہری appearance بہتر دکھائی دے۔
اگر یہ صرف کاسمیٹک کے لیے ہو تو اسے خوبصورتی کیلیے علاج سمجھ کر بے دریغ کروانا مناسب نہیں، اور اگر اس میں ضرر یا ناجائز substance ہو تو ناجائز ہوگا۔
25۔ *Laser Hair Removal / IPL*
اس میں IPL کے ذریعے hair follicles پر لائٹ/انرجی استعمال کرکے بالوں کی لمبائی کم کی جاتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے غیر فطری facial hair کو دور کرنے کی گنجائش بیان کی ہے۔
البتہ ستر، اجنبی کے سامنے بدن کھولنے اور عورت سے عورت کے پردے کے مسائل اپنی جگہ ملحوظ رہیں گے۔
26۔ *Hair Transplant*
اس میں سر کے اپنے follicles کو ایک جگہ سے لے کر دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے۔
یہ بالوں کے ایکسٹینشن کی طرح باہر سے مصنوعی بال جوڑنا نہیں بلکہ اپنے follicles کی transplantation ہے، اس لیے دونوں کا حکم ایک نہیں ہوگا۔ بالوں کے ایکسٹینشن کے متعلق صحیح حدیث میں ممانعت آئی ہے: «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ».
27۔ *Weaving / Wigs*
اس میں اضافی بال اصل بالوں کے ساتھ جوڑے جاتے ہیں۔ بعض انسان کے بالوں سے اور بعض synthetic material سے ہوتے ہیں۔
صحیح بخاری میں نبی ﷺ نے اس کے متعلق لعنت فرمائی ہے۔
فقہِ حنفی میں بھی انسانی بال سے بال ملانے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے بھی لکھا ہے کہ انسانی بال استعمال کرنا ناجائز ہے۔
28۔ *Fake Eyelashes / Lash Extensions / Lash Lift*
اس میں مصنوعی پلکیں اصل پلکوں کے ساتھ چپکائی جاتی ہیں؛ lash ایکسٹینشن میں individual fibers کو پلکوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے، جبکہ lash lift میں اپنی پلکوں کو مخصوص کیمیکل پراسس سے کرل کیا جاتا ہے۔
مصنوعی پلک کے متعلق دارالعلوم دیوبند کے ایک فتویٰ میں اس کے مادے اور مقصد کی تفصیل طلب کی گئی ہے؛ اگر میک اپ کے اجزاء میں حرام/نجس چیز نہ ہو اور شوہر کے لیے زینت ہو تو بعض صورتوں میں گنجائش ذکر کی گئی ہے۔
29۔ *Acrylic Nails / Gel Nails Nail Extensions / Artificial Nails*
اس میں مصنوعی مادے کو قدرتی ناخن کے اوپر لگا کر ناخن کو لمبا اور مختلف شکل کا بنایا جاتا ہے۔
دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ کے مطابق nail polish اگر پانی کو ناخن تک پہنچنے سے روکے تو وضو صحیح نہیں ہوتا۔
لہٰذا artificial nails/gel/acrylic کو مستقل طور پر لگا کر وضو و غسل کرنا اور پھر نماز پڑھنا درست نہیں جب تک ایسی رکاوٹ دور نہ کی جائے جو پانی کے پہنچنے سے مانع ہو۔
30۔ *Cosmetic Teeth Reshaping / Teeth Filing / Artificial Gaps*
یہ مسئلہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اس پر حدیث میں براہِ راست نص موجود ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے: الْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْن
یعنی حسن کے لیے دانتوں میں مصنوعی کشادگی پیدا کرنے والی عورتوں کے متعلق وعید بیان فرمائی۔
لہٰذا صرف خوبصورتی کے لیے:
- دانت گھسوانا، دانتوں کے درمیان مصنوعی gap بنوانا، دانت کی قدرتی شکل بدلنا جائز نہیں ۔
31۔ *Cosmetic Veneers / Smile Designing*
اس میں دانتوں کی سامنے والی سطح پر مخصوص مٹیریل لگایا جاتا ہے تاکہ دانت زیادہ سفید، یکساں یا مخصوص ساخت کے دکھائی دیں۔
اگر دانتوں میں کوئی حقیقی خرابی نہیں اور صرف فیشن اسمائل بنانے کے لیے دانتوں کی ساخت میں غیر ضروری تبدیلی کی جائے، تو اس سے بچنا لازم ہے۔
32۔ *Teeth Whitening*
یہ الگ مسئلہ ہے۔ اگر صرف ایسی چیز استعمال کی جائے جو دانتوں کا بیرونی داغ صاف کرے اور دانت کی اصل ساخت کو نہ بدلے تو اس میں حرج نہیں ۔