*جدید دور کے حسن و زیبائش کے طریقے اور ان کا شرعی حکم* 
*قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی میں* (حصہ دوم)

31۔ *Cosmetic Veneers / Smile Designing* 
اس میں دانتوں کی سامنے والی سطح پر مخصوص مٹیریل لگایا جاتا ہے تاکہ دانت زیادہ سفید، یکساں یا مخصوص ساخت کے دکھائی دیں۔
اگر دانتوں میں کوئی حقیقی خرابی نہیں اور صرف فیشن اسمائل بنانے کے لیے دانتوں کی ساخت میں غیر ضروری تبدیلی کی جائے، تو اس سے بچنا لازم ہے۔

32۔ *Teeth Whitening* 
یہ الگ مسئلہ ہے۔ اگر صرف ایسی چیز استعمال کی جائے جو دانتوں کا بیرونی داغ صاف کرے اور دانت کی اصل ساخت کو نہ بدلے تو اس میں حرج نہیں ۔

اب ان طریقوں کی طرف آتے ہیں جن میں جسم کی چربی کم کرنے، جسم کو خاص ساخت دینے، کمر پتلی کرنے، چھاتی یا hips کی ساخت تبدیل کرنے اور بالوں و ناخنوں میں مصنوعی اضافہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

33۔ *Liposuction* کیا ہوتا ہے؟
یہ ایک سرجیکل عمل ہے جس میں جسم کے مخصوص حصوں سے اضافی چربی کو suction کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ اسےپیٹ، کمر،رانیں، کولہے، بازو، پشت / کمر کا پچھلا حصہ، ٹھوڑی
 وغیرہ کی contouring کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بعض خواتین ڈائٹ یا ورزش کے بجائے جلدی سے جسم کو slim یا مخصوص پروپورشن میں لانے کے لیے اسے کرواتی ہیں۔ محض حسن و فیشن کے لیے liposuction کروانا جائز نہیں۔

34۔ *Liposculpture / Body Sculpting* 
اس میں جسم کے مختلف حصوں کی چربی کم یا پھیلا کر مخصوص contour بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یعنی مقصد صرف وزن کم کرنا نہیں بلکہ جسم کی ساخت کو مخصوص انداز میں بنانا ہوتا ہے۔
محض جسم تراشنے کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں۔

35۔ *Cryolipolysis / Fat Freezing / CoolSculpting*
اس میں مخصوص ڈیوائس کے ذریعے جسم کے fat cells کو controlled cooling سے متاثر کیا جاتا ہے تاکہ چربی کی تہہ کم ہو۔
یہ liposuction کی طرح سرجیکل کٹنگ نہیں، مگر مقصد جسم کے مخصوص حصے کی چربی کو کاسمیٹک طور پر کم کرنا ہے۔
 بلا ضرورت ایسی چیزوں سے بچنا لازم ہے۔

36۔ *Fat-Dissolving Injections* 
کچھ کاسمیٹک کلینکس مخصوص انجیکشنز کے ذریعے localized fat کم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یہ بھی جسم میں سبسٹنس داخل کرکے fat ٹشو پر اثر ڈالنے والا کاسمیٹک عمل ہے۔
 غیر ضروری یہ کروانا مناسب نہیں؛ اور اگر سبسٹنس مضر یا شرعاً ناجائز ہو تو اس کا استعمال مزید ممنوع ہوگا۔

37۔ *HIFU Body / RF Body Contouring / Body Tightening*

 یہ توانائی پر مبنی طریقے ہیں جنہیں بعض clinics body contouring، fat reduction یا جلد ٹائٹ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
 بار بار جسم کو reshape کروانا ایک الگ قابلِ اجتناب طرزِ عمل ہے۔

38۔ *Tummy Tuck / Abdominoplasty* 
اس سرجری میں پیٹ کی اضافی چربی اور جلد کو ہٹاکر اور پیٹ کی wall کو ٹایٹ کیا جاسکتا ہے۔ 
اگر کوئی عورت محض فیشن کے لیے اپنے معمول کے جسم کو سپاٹ پیٹ بنانے کے لیے یہ سرجری کرواتی ہے تو یہ غیر ضروری ہے اور جائز نہیں۔

39۔ *Body Lift* 
اس میں جسم کے مختلف حصوں کی اضافی جلد اور ٹشو کو سرجیکل طریقے سے ہٹاکر contour بہتر کیا جاتا ہے۔
محض خوبصورتی کے لیے جائز نہیں۔

40۔ *Arm Lift / Thigh Lift* 
بازو یا ران کی جلد کو سرجیکل طریقے سے ہٹانا یا ٹائٹ کرکے body contour تبدیل کیا جاتا ہے۔
محض خوبصورتی کے لیے جائز نہیں۔

41۔ *Breast Augmentation* 
اس میں implants یا بعض صورتوں میں اپنے جسم کی fat transfer کے ذریعے چھاتی کی جسامت کو ابھارا جاتا ہے۔ یا بعض صورتوں میں نقلی چھاتی لگائی جاتی ھے۔ یہ دونوں صورتیں محض حسن کے لیے جائز نہیں۔
یہاں ’’اپنے شوہر کے لیے خوبصورت بننا‘‘ بھی اس اصل حکم کو خود بخود تبدیل نہیں کرتا، کیونکہ سوال یہ ہے کہ زینت کا ذریعہ کیا ہے۔ ہر مطلوبِ زینت کا طریقہ شرعاً جائز نہیں ہوتا۔

42۔ *Breast Lift* 
 اس میں چھاتی کے ٹشوزاور جلد کی جگہ کو تبدیل کرکے ساخت بدلی جاتی ہے۔یہ بھی درست نہیں ہے۔

43۔ *Breast Reduction* 
چھاتی کے سائز کو چھوٹا کروانا خوبصورتی کی خاطر یہ بھی جایز نہیں ۔

44۔ *Fat Transfer* 
اس میں جسم کے ایک حصے سے fat نکال کر دوسرے حصے میں منتقل کیا جاتا ہے۔ مثلاً پیٹ/ ران سے fat لے کر بعض دوسرے حصوں میں جسامت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
محض خوبصورتی کیلیے ہوتو جایز نہیں۔

45۔ *Buttock Augmentation /* BBL* 
اس میں implants یا fat transfer کے ذریعے جسم کے پچھلے حصے کی ساخت اور حجم بڑھایا جاتا ہے۔محض خوبصورتی کیلیے جائز نہیں۔

46۔ *Hip Augmentation* 
اسی طرح hips کو زیادہ نمایاں بنانے کے لیے implants یا fat transfer وغیرہ کیے جاتے ہیں۔یہ بھی جائز نہیں۔

47۔ *Rib Removal / Waist Narrowing* 
کچھ انتہائی کاسمیٹک عمل میں کمر کو زیادہ باریک دکھانے کے لیے پسلیاں یا اردگرد کے ڈہانچے میں سرجیکل alteration کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ جسم کی بنیادی ساخت میں انتہائی غیر ضروری مداخلت ہے اور محض fashion figure کے لیے ایسی تبدیلی کروانا شرعاً قابلِ جواز نہیں۔

48۔ *Leg-Lengthening Surgery* 
کچھ لوگ قد بڑھانے کے لیے ہڈی کو سرجیکل طریقے سے لمبی کرنے کا عمل کرواتے ہیں۔
یہ معمولی سرجری نہیں بلکہ بڑی orthopedic surgery ہے۔ محض لمبے دکھنے کے سبب سے یہ کروانا ہرگز قابل قبول نہیں ۔

49۔ *Calf Implants* 
ٹانگوں کے مسلز/ خد و خال کو زیادہ نمایاں بنانے کے لیے implants استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ یہ بھی جائز نہیں۔

50۔ *Cosmetic Ear Surgery / Otoplasty* 
کان کی ساخت یا سایز کو کاسمیٹک طور پر تبدیل کرنے کے لیے otoplasty کی جاتی ہے۔ یہ contemporary cosmetic surgery کی معروف category ہے۔ اس سے بچنا لازم ہے۔

51۔ *Hairline Lowering / Forehead Reduction*
اس میں پیشانی کو نیچے لانے یا بالوں کی لکیر کو چھوٹا دکھانے کے لیے اس حصے میں سرجیکل تبدیلی کی جاتی ہے۔ محض خوبصورتی کیلیے جائز نہیں۔

52۔ *Scalp Micropigmentation* 
اس میں سر کی جلد پر pigment کے ذریعے بالوں کے follicles جیسے dots بنائے جاتے ہیں تاکہ سر زیادہ بھرا ہوا دکھائی دے۔
اگر یہ permanent pigmentation ٹیٹو کی صورت اختیار کرے تو اسکا حکم الگ ہے؛ لیکن اس سے بھی بچنا لازم ہے۔

53۔ *Hair Colouring* 
بالوں کو رنگنا۔ اگر رنگ ایسا ہو کہ غسل میں پانی بالوں تک پہنچنے سے رکاوٹ پیدا ہو تو طہارت کا مسئلہ ہوگا۔ دارالعلوم دیوبند نے ایسے بالوں کو رنگنے کے متعلق وضاحت کی ہے جو تہہ بنا کر پانی روک دے۔
لہٰذا رنگ ایسا ہوکہ اسکی موجود گی میں پانی نہ پہونچے جلد تک تو غسل وضو نہیں ہوگا۔ اور رنگ میں اجزاء اگر ناپاک ہو تو ایسے رنگ کا استعمال جایز نہیں ہوگا۔

54۔ *Acrylic / Gel / Artificial Nails* 
ان میں مصنوعی مادے ناخن پر چڑھائے جاتے ہے، اگر ایسی تہہ بن جائے جو پانی کو اصل ناخن تک پہنچنے سے روکے تو وضو و غسل میں اسے ہٹانا ضروری ہوگا۔
لہٰذا نماز پڑھنے والی عورت کے لیے اس پہلو کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔

55۔ *Nail Extensions* 
اس میں ناخن کو نقلی مادے کے ذریعے لمبا کیا جاتا ہے۔
تہہ جم جائے تو طہارت درست نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ اگر استعمال میں حرام substance یا کسی غیر شرعی زینت کی مشابہت شامل ہو تو پھر جایز نہیں ہوگا۔

56۔ *Permanent Nail Polish / Gel Polish* 
 اس میں بعض اوقات ناخن پر ایسی تہہ بناتی ہیں جو پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ہر وضو غسل سے پہلے اسکو دور کرنا ہوگا۔ اسکی بناوٹ کے اجزاء میں کوئی ناجائز چیز ہو تو پھر اسکا استعمال بھی جایز نہیں ۔

57۔ *Waxing* 
اس میں بالوں کو جڑ سے نکالنے کے لیے موم استعمال کیا جاتا ہے۔ فقہ میں جسم کے بالوں کی مختلف اقسام اور مقامات کے احکام الگ ہیں۔ دارالعلوم دیوبند نے بھی غیر فطری بالوں کو دور کرنے کی اجازت بیان کی ہے، جبکہ عام سے بال کے بارے میں الگ تفصیل دی ہے۔

58۔ *Skin Tightening -RF, HIFU, Ultrasound* 
ان تمام میں اینرجی کے ذریعے جلد کے ٹشوز پر اثر ڈال کر ٹائٹ یا لفٹنگ کا مقصد حاصل کیا جاتا ہے۔ مسلمان خاتون کو اس طرزِ عمل سے بچنا چاہیے۔

59۔ *Chemical Peels، Microdermabrasion، Facials* 
یہ جلد کی سطح کو زندہ یا صاف کرنے یا علاج کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔۔ اگر علاج سطحی ہے، کوئی حرام اجزاء نہیں، ضرر نہیں اور شرعی حدود کی خلاف ورزی نہیں تو کؤیی حرج نہیں ۔
لیکن اسکو بہت زیادہ توجہ دینا اسلامی  
طریقہ نہیں ۔

60۔ ’’ *Slimming Injections* ‘‘
آج کل جسم‌کو دبلا کرنے کے نام سے مختلف انجیکشنز اور علاج بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہاں بہت احتیاط ضروری ہے، اسلیے کہ عموماً اس میں صحت کا نقصان ہوتا ہے۔ لہذا عام جسامت ہوتے ہوئے بھی بہت دبلے دکھنے کیلیے ایسا کرنا صحیح نہیں ہے۔

61۔ ’’ *Fairness Creams‘‘، Whitening Peels اور Skin-Lightening Treatments* 
جلد کی رنگت میں کمی بیشی کے لیے کریمز یا پیپلز یا لیزر، یا دیگر علاج استعمال کیے جاتے ہیں۔ کسی عورت کا اپنی فطری رنگت کو محض اس لیے حقیر سمجھنا کہ معاشرے نے ایک مخصوص رنگ کو ’’زیادہ خوبصورت‘‘ بنا دیا ہے، اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔
لیکن ایسی کریمز یا پیلز میں ناجائز اجزاء نا ہو تو استعمال جایز ہے، سنگھار کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

 *ایک نہایت اہم اصول* : 
اسکے علاوہ بھی اگر اور کوئی طور طریقے ہو تو دیکھا جائے:
کیا یہ صرف ظاہری خوبصورتی کیلیے ہے یا جسم کی ساخت بدل رہا ہے؟
کیا یہ جسم کی اوپری سطح پر کیا جارہا ہے یا مستقل تبدیلی؟
کیا اس میں ٹیٹو یا نص میں خاص ممنوع عمل شامل ہے؟کیا اس میں جسمانی ٹیشوز نکالا یا تبدیل کیا جارہا ہے؟کیا صرف حسن کے لیے فطری ساخت بدلی جارہی ہے؟ کیا اس میں واضح ضرر ہے؟کیا اس میں حرام یا نجس substance شامل ہے؟
کیا اس میں ستر یا غیر محرم کے سامنے بدن کھولنے کی قباحت ہے؟
بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی ریزولیوشن 173 میں بھی کاسمیٹک سرجری کے لیے شرعی مصلحت، ضرر سے بچاؤ، ماہر ڈاکٹر، رسک کی وضاحت اور شرعی ممانعت سے عدمِ تصادم جیسے اصول ذکر کیے گئے ہیں۔

 *آخری بات: خوبصورتی کا معیار کس نے مقرر کیا؟* 
اداکارؤں یا انفلیوسرز کو دیکھ کر ایک عام عورت اپنے چہرے کو آئینے میں دیکھ کر سوچتی ہے کہ میرے اندر تو کمی ہے۔
پھر وہ بھی ایک کے بعد ایک عمل شروع کرتی ھے۔یہ سلسلہ کہاں ختم ہوگا؟
اسلام عورت کو بدصورت رہنے کا حکم نہیں دیتا؛ اسلام اسے حلال زینت اختیار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ انسان اپنی فطری صورت کو ہر نئے فیشن کے مطابق کاٹتا، گھساتا، بھرتا اور بدلتا نہ رہے۔
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ’’لِلْحُسْنِ‘‘ کا لفظ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ محض حسن کی خواہش ہر طریقۂ حسن کو جائز نہیں بنا دیتی۔
لہٰذا مسلمان عورت کو یہ سونچنا چاہیے:
’’اللہ تعالیٰ نے مجھے جو جسم عطا کیا ہے، کیا میں محض فیشن اور مصنوعی معیار کی خاطر اسے اس طریقے سے بدلنے کی مجاز ہوں؟‘‘
اور جہاں نبی کریم ﷺ نے کسی مخصوص زیبائش سے منع فرمایا ہو، وہاں زمانے کا رواج، اداکاراؤں کی نقل، سوشل میڈیا کا ٹرینڈ اور بیوٹی انڈسٹری کی مقبولیت اس ممانعت کو ختم نہیں کرسکتی۔