*وقارِ نسواں اور قرآنی رہنمائی*
*سورۃ الأحزاب، آیت 35 کی روشنی میں*
*حریمِ مبشر*
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا﴾
ترجمہ: بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، سچے مرد اور سچی عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں؛ اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
قرآنِ کریم کی یہ آیت اُن آیات میں سے ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا اور ایک ایک صفت کے بیان میں دونوں کو شامل فرمایا۔ اس آیت میں عورت کا ذکر محض ضمنی یا تابعانہ انداز میں نہیں، بلکہ اس کی دینی حیثیت، ایمانی مقام اور اخروی کامیابی کو واضح کرنے کے لیے مستقل طور پر کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی قدر و منزلت کا اصل معیار اس کی جنس نہیں، بلکہ اس کا ایمان، عمل، اطاعت اور کردار ہے۔ مرد ہو یا عورت، جو شخص اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اوصاف اختیار کرتا ہے، وہ اس کی رحمت اور اجر کا مستحق بنتا ہے۔
یہ آیت عورت کے مقام و مرتبے کو سمجھنے کے لیے ایک جامع قرآنی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس میں عورت کی عزت کو کسی ظاہری امتیاز، معاشرتی مرتبے یا دنیاوی کامیابی سے وابستہ نہیں کیا گیا، بلکہ اسے ایسے اوصاف سے جوڑا گیا ہے جو انسان کے باطن کو سنوارتے، اس کے عمل کو درست کرتے اور اس کی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع بناتے ہیں۔ اسلام عورت کو ایک باوقار، ذمہ دار اور صاحبِ کردار انسان کی حیثیت سے دیکھتا ہے؛ ایسی انسان جو اپنے ایمان، عبادت، اخلاق اور معاملات کے ذریعے اپنی زندگی کو بامقصد بناتی ہے۔
آج کے دور میں عورت کے مقام، آزادی، ترقی اور حقوق کے بارے میں مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ کہیں آزادی کے نام پر اسے اس کی فطری ذمہ داریوں اور اخلاقی حدود سے بے نیاز کرنے کی کوشش ہوتی ہے، تو کہیں ترقی کے تصور میں کردار، حیا اور باطنی تربیت کو غیر اہم سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآنِ کریم کی یہ آیت عورت کو اس کی اصل پہچان کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ وہ پہچان جو نہ وقتی نعروں سے بنتی ہے، نہ معاشرتی مقبولیت سے، بلکہ ان صفات سے بنتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا اور مغفرت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ عورت کی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ وہ زمانے کے بدلتے ہوئے رجحانات کے درمیان اپنے ایمان، اخلاق اور دینی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے زندگی کے تقاضوں کو پورا کرے۔
معارف القرآن میں اس آیت کے پس منظر میں حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے سوال کا ذکر ملتا ہے کہ قرآنِ کریم میں مردوں کا ذکر بکثرت آتا ہے، تو عورتوں کا صراحت کے ساتھ ذکر کیوں کم دکھائی دیتا ہے؟ یہ سوال کسی اعتراض یا شکایت کے طور پر نہیں، بلکہ قرآنی خطاب کو بہتر طور پر سمجھنے اور عورتوں کے مقام کے بارے میں وضاحت حاصل کرنے کی غرض سے تھا۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی، جس میں اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کا الگ الگ ذکر فرما کر واضح کردیا کہ دینی فضائل اور اخروی اجر کے معاملے میں عورت بھی مرد کی طرح اللہ تعالیٰ کے خطاب میں شامل ہے۔ اس بیان سے عورت کے دل میں یہ اطمینان پیدا ہوتا ہے کہ ایمان و عمل کے میدان میں اس کی کوششیں بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر و قیمت رکھتی ہیں، اور اس کی نیکیوں کا اجر کسی صنفی امتیاز کی وجہ سے کم نہیں ہوگا۔
آیت کے آغاز میں سب سے پہلے اسلام اور ایمان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام انسان کے ظاہر کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کرنے اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا نام ہے، جبکہ ایمان دل کی تصدیق اور باطنی یقین سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلام انسان کے عمل اور طرزِ زندگی میں اطاعت کا اظہار کرتا ہے، اور ایمان اس اطاعت کی بنیاد بننے والا قلبی یقین ہے۔ ان دونوں صفات کو ساتھ ذکر کرنے میں یہ رہنمائی ہے کہ دین کی تکمیل صرف ظاہری اعمال سے نہیں ہوتی اور نہ محض زبانی دعوے کافی ہیں؛ بلکہ ظاہر کی فرمانبرداری کے ساتھ دل کا یقین بھی ضروری ہے۔ جب ایمان دل میں راسخ ہو اور اسلام زندگی کے اعمال میں ظاہر ہو تو انسان کی شخصیت میں دینی استقامت پیدا ہوتی ہے۔
اس کے بعد قنوت یعنی کامل فرمانبرداری کا ذکر ہے۔ قنوت محض کسی ایک حکم کی وقتی تعمیل کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے مسلسل عاجزی اور اطاعت اختیار کرنے کا وصف ہے۔ بندہ اپنی خواہشات، طبیعت کے تقاضوں اور حالات کی تبدیلی کے باوجود اللہ تعالیٰ کے حکم کو مقدم رکھے، تو اس کی زندگی میں قنوت کی حقیقت نمایاں ہوتی ہے۔ اطاعت کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب حکمِ الٰہی انسان کی اپنی پسند یا سہولت کے خلاف ہو۔ ایسے موقع پر اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کرنا بندگی کی علامت ہے۔ قرآنِ کریم نے اس صفت کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے بیان کرکے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اس کے بعد صدق یعنی سچائی کا ذکر کیا گیا ہے۔ سچائی صرف زبان سے درست بات کہنے تک محدود نہیں، بلکہ نیت، قول اور عمل تینوں میں سچائی مطلوب ہے۔ انسان کے دل میں جو ہو، اس کی زبان اسی کی ترجمان ہو اور اس کے اعمال بھی اس کے دعووں کی تصدیق کریں۔ بسا اوقات انسان اپنی بات کو درست ثابت کرنے کے لیے حقیقت چھپا لیتا ہے، اپنے مفاد کے لیے بات کو بدل دیتا ہے یا دوسروں کے سامنے اپنی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جو اس کے حقیقی کردار سے مختلف ہوتی ہے۔ قرآن کی یہ صفت انسان کو ایسی دو عملی سے بچنے کی دعوت دیتی ہے۔
معارف القرآن میں صدق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اسے ایمان کی بنیاد اور نفاق کی ضد کے طور پر واضح کیا گیا ہے۔ سچائی انسان کے کردار کو مضبوط بناتی ہے، اعتماد پیدا کرتی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس دلاتی ہے۔ جھوٹ بظاہر کسی وقتی مشکل سے بچا سکتا ہے، لیکن بالآخر انسان کے اعتماد، تعلقات اور باطنی سکون کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک سچی عورت اپنے گھر، خاندان، تدریس، معاشرتی معاملات اور دینی ذمہ داریوں میں امانت و دیانت کی مثال بنتی ہے۔ اس کی سچائی صرف اس کے الفاظ میں نہیں، بلکہ اس کے وعدوں، فیصلوں اور رویّوں میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔
اس کے بعد صبر کا ذکر ہے، جو زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو استقامت عطا کرتا ہے۔ صبر صرف مصیبت کے وقت خاموش رہنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہنا، گناہوں سے بچنے کے لیے اپنے نفس کو روکنا اور آزمائش کے وقت شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے ثابت قدمی اختیار کرنا بھی صبر میں شامل ہے۔ عبادت میں پابندی، خواہشات پر قابو، غصے کے وقت اپنے رویّے کو سنبھالنا اور مشکلات میں اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھنا صبر کی مختلف صورتیں ہیں۔
مصیبت اور آزمائش کے وقت مؤمن کا دل اس حقیقت کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اسی لیے وہ کہتا ہے: ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾۔ یہ کلمات محض زبان سے ادا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ بندے کو اس کے مالک اور آخری ٹھکانے کی یاد دلانے کے لیے ہیں۔ صبر انسان کو بے حسی نہیں سکھاتا، بلکہ اسے مشکل حالات میں درست راستہ اختیار کرنے، جائز تدبیر کرنے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنے کی تعلیم دی ہے، تاکہ بندہ آزمائش کے وقت اپنے رب سے تعلق مضبوط رکھے۔
اس کے بعد خشوع کا ذکر کیا گیا ہے۔ خشوع دل کی عاجزی، اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاجی کے احساس اور عبادت میں قلبی توجہ کا نام ہے۔ بالخصوص نماز میں خشوع انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہے؛ اس لیے اس کی زبان، دل اور جسم سب کو عبادت کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ جب نماز صرف حرکات و الفاظ تک محدود ہوجائے اور دل غفلت میں بھٹکتا رہے تو عبادت کی وہ روح کمزور پڑجاتی ہے جو بندے کو اپنے رب سے جوڑتی ہے۔ خشوع انسان کو اپنی بڑائی کے احساس سے نکال کر بندگی کی حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔ یہ صفت عورت اور مرد دونوں کی عبادت کو سنوارنے اور ان کے باطن میں اللہ تعالیٰ کی عظمت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
پھر صدقہ کرنے والوں اور صدقہ کرنے والیوں کا ذکر ہے۔ صدقہ میں فرض زکوٰۃ بھی شامل ہے اور نفلی صدقات بھی۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنا، ضرورت مند کی مدد کرنا، کسی پریشان حال کی حاجت پوری کرنا اور کسی مستحق کے لیے آسانی پیدا کرنا سب نیکی کے کام ہیں۔ صدقہ صرف مال کی مقدار سے نہیں، بلکہ نیت کی پاکیزگی سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ اگر انسان کسی کی مدد اس لیے کرے کہ لوگ اسے سخی کہیں یا اس کی تعریف کریں، تو اس کے عمل میں اخلاص کی کمی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس جب خرچ کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی مخلوق کے ساتھ خیر خواہی ہو تو معمولی نیکی بھی اجر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
عورت کے لیے صدقہ و خیرات کے مواقع بھی مختلف صورتوں میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ اپنی استطاعت کے مطابق زکوٰۃ ادا کرسکتی ہے، نفلی صدقہ دے سکتی ہے، ضرورت مند رشتہ داروں کی مدد کرسکتی ہے اور اپنی جائز ملکیت میں سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرسکتی ہے۔ معارف القرآن میں اس پہلو کی طرف بھی رہنمائی ملتی ہے کہ عورت شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت یا معروف رواج کے مطابق خرچ کرے تو اسے بھی اجر کی امید ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ صرف بڑے مالی وسائل رکھنے والوں کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ ہر شخص اپنی استطاعت اور جائز اختیار کے مطابق خیر کے کاموں میں حصہ لے سکتا ہے۔
اس کے بعد روزہ رکھنے والوں اور روزہ رکھنے والیوں کا ذکر ہے۔ روزہ انسان کے اندر تقویٰ، ضبطِ نفس اور اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ روزہ دار کھانے پینے اور دیگر جائز خواہشات سے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے رکتا ہے، تو اس کے اندر ناجائز امور سے بچنے کی قوت بھی پیدا ہونی چاہیے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ زبان، نگاہ، اخلاق اور معاملات کو بھی گناہوں سے محفوظ رکھنے کی تربیت ہے۔ فرض روزوں کے ساتھ نفلی روزے بھی انسان کو عبادت اور تقویٰ میں ترقی کا موقع فراہم کرتے ہیں، بشرطیکہ وہ شریعت کے احکام اور اپنی ذمہ داریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے ادا کیے جائیں۔
پھر اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والوں اور کرنے والیوں کا ذکر ہے۔ اس صفت کا تعلق عفت و پاک دامنی سے ہے، جو اسلامی معاشرت کے بنیادی اخلاقی اصولوں میں سے ہے۔ عفت صرف زنا سے بچنے تک محدود نہیں، بلکہ انسان کو ان تمام راستوں سے بھی محتاط رہنے کی تعلیم دیتی ہے جو بے حیائی اور اخلاقی بے راہ روی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ نگاہ کی حفاظت، گفتگو میں حدود کا لحاظ، غیر ضروری بے تکلفی سے بچنا اور اپنے طرزِ عمل کو حیا کے مطابق رکھنا اسی پاکیزہ کردار کا حصہ ہے۔
عورت کی عزت و حفاظت کا تعلق صرف اس کے ظاہری لباس سے نہیں، بلکہ اس کی مجموعی اخلاقی زندگی سے ہے۔ اسی طرح مرد بھی عفت و پاک دامنی کے معاملے میں برابر کے مکلف ہیں۔ قرآنِ کریم نے اس صفت کو دونوں کے لیے ذکر کرکے واضح کیا کہ پاکیزہ معاشرہ صرف عورتوں سے مطالبہ کرنے سے قائم نہیں ہوسکتا، بلکہ مرد و عورت دونوں کو نگاہ، کردار اور تعلقات میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کا پابند ہونا ہوگا۔ جب حیا کو کمزوری یا فرسودہ تصور سمجھنے کے بجائے ایک اخلاقی قوت مانا جائے تو معاشرتی تعلقات میں احترام اور ذمہ داری کا احساس مضبوط ہوتا ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنے والوں اور یاد کرنے والیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ذکرِ الٰہی عبادتوں کی روح اور مؤمن کی زندگی کا اہم سہارا ہے۔ نماز، تلاوت، دعا، تسبیح، استغفار اور دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و نگرانی کا احساس—یہ سب ذکر کی مختلف صورتیں ہیں۔ کثرتِ ذکر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان صرف زبان سے چند کلمات ادا کرے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی زندگی کے فیصلوں اور اعمال میں اللہ تعالیٰ کی یاد اثر انداز ہو۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتا ہے تو اسے اپنے قول و فعل کی جواب دہی کا احساس رہتا ہے اور وہ غفلت کے راستوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
آیت کے آخر میں ذکرِ الٰہی کا بیان اس حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ ان تمام صفات کو زندہ رکھنے کے لیے بندے کا اپنے رب سے تعلق مضبوط ہونا ضروری ہے۔ ایمان، اطاعت، سچائی، صبر، خشوع، صدقہ، روزہ اور عفت یہ سب اوصاف ذکرِ الٰہی سے تقویت پاتے ہیں۔ جس دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ رہتی ہے، وہاں نیکی کا احساس بیدار رہتا ہے اور انسان اپنے اعمال کو محض عادت یا رسم کے طور پر ادا کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔
ان تمام صفات کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر تیار ہے۔ مغفرت کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہوں کی معافی اور ان کے اثرات سے نجات کی امید ہے، جبکہ عظیم اجر اس کی طرف سے عطا ہونے والے بڑے انعام کی بشارت ہے۔ اس وعدے میں عورتوں کو بھی مردوں کے ساتھ شامل کرکے واضح کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا، مغفرت اور اخروی کامیابی کا راستہ دونوں کے لیے کھلا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان ان اوصاف کو اپنی زندگی میں کس حد تک اختیار کرتا ہے اور اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق کس طرح قائم رکھتا ہے۔
اگر ہم اپنے زمانے کے حالات کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان اوصاف کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہے۔ عورت کے لیے تعلیم، ملازمت اور مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، لیکن ان مواقع کے ساتھ باطنی تربیت، دینی استقامت اور اخلاقی ذمہ داریوں کی اہمیت بھی برقرار ہے۔ زندگی کے مصروف معمولات میں کبھی عبادت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے، سچائی مفادات کے دباؤ میں کمزور پڑنے لگتی ہے، صبر کو بے بسی سمجھ لیا جاتا ہے اور حیا کو پرانے زمانے کی قدر قرار دے دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ قرآن کی یہ صفات کسی خاص زمانے یا معاشرتی ماحول کے لیے نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کی اصلاح اور کامیابی کے لیے ہیں۔
آج نگاہ، گفتگو اور آن لائن روابط کے معاملے میں بھی انسان کو اپنے کردار کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ جدید ذرائعِ ابلاغ اور سہولتیں اپنی جگہ ایک وسیلہ ہیں، لیکن ان کا درست یا غلط استعمال انسان کے اپنے اختیار اور ذمہ داری سے متعلق ہے۔ قرآن کی رہنمائی یہ ہے کہ انسان کسی بھی ماحول میں ہو، اپنے ایمان اور اخلاق کی حدود کو فراموش نہ کرے۔ ترقی اور سہولتیں اسی وقت حقیقی فائدہ بن سکتی ہیں جب وہ انسان کو اس کی ذمہ داریوں سے غافل نہ کریں، بلکہ اسے علم، خیر اور نفع بخش عمل کی طرف لے جائیں۔
جو عورت ان قرآنی صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بناتی ہے، وہ اپنے کردار کے ذریعے ایک پُرسکون اور باوقار ماحول تشکیل دیتی ہے۔ وہ اپنے گھر میں محبت، امانت اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے، نئی نسل کی تربیت میں اخلاق اور دین کی اہمیت منتقل کرتی ہے اور اپنے معاملات میں انصاف و سچائی کو ملحوظ رکھتی ہے۔ اس کا اثر ہمیشہ شور و شہرت کے ساتھ ظاہر نہیں ہوتا؛ بعض اوقات خاموشی سے انجام دی جانے والی ذمہ داریاں ہی خاندان اور معاشرے کی بنیاد کو مضبوط کرتی ہیں۔ عورت کی قوت صرف بلند آواز یا نمایاں کامیابی میں نہیں، بلکہ اس کے صبر، حکمت، کردار اور مسلسل نیک عمل میں بھی جلوہ گر ہوتی ہے۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ان صفات کا حصول ایک مسلسل کوشش کا نام ہے۔ انسان سے کوتاہی ہوسکتی ہے، حالات میں کمزوری آسکتی ہے اور بعض اوقات نفس پر قابو پانا دشوار ہوسکتا ہے؛ لیکن قرآن کی یہ رہنمائی مایوسی نہیں، بلکہ اصلاح اور استقامت کی دعوت دیتی ہے۔ عورت اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں ان اوصاف کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، اپنی عبادت میں توجہ پیدا کرے، معاملات میں سچائی اختیار کرے، مشکلات میں صبر سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنے دل کو زندہ رکھے۔ یہی وہ تربیت ہے جو ظاہری کامیابی کے ساتھ باطنی سکون اور دینی وقار بھی عطا کرتی ہے۔
حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ انسان ہر بدلتے ہوئے زمانے کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش میں اپنی اصل پہچان بھول جائے، بلکہ کامیابی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ معیار کو اپنی زندگی کی بنیاد بنائے۔ معاشرتی تعریف اور وقتی مقبولیت بدلتی رہتی ہے، لیکن ایمان، سچائی، عفت، صبر اور اطاعت جیسی صفات کی قدر اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ عورت جب ان صفات کو خود اپناتی ہے اور اپنی اولاد اور آنے والی نسل تک منتقل کرتی ہے تو وہ صرف اپنی ذات کی اصلاح نہیں کرتی، بلکہ ایک پاکیزہ معاشرے کی تشکیل میں بھی حصہ لیتی ہے۔
سورۃ الأحزاب کی یہ آیت عورت کو اس کے حقیقی مقام کی یاد دہانی کراتی ہے۔ اس کا وقار اس کے ایمان اور کردار میں ہے، اس کی قوت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اخلاقی استقامت میں ہے، اور اس کی کامیابی اس مغفرت اور اجر میں ہے جس کا وعدہ ربِ کریم نے ان اوصاف کو اختیار کرنے والوں سے فرمایا ہے۔ یہی عورت کی حقیقی عزت، یہی اس کی اصل قوت اور یہی اس کی دائمی کامیابی ہے۔