: *وقت کی قدر، کامیابی کا سفر۔*
ہم سب روزانہ چوبیس گھنٹے گزارتے ہیں۔ نہ کسی امیر کے دن میں زیادہ گھنٹے ہوتے ہیں اور نہ کسی غریب کے دن میں کم۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب سب کو وقت برابر ملتا ہے تو کچھ لوگ اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ برسوں گزرنے کے باوجود وہیں کھڑے رہتے ہیں؟ اس کا ایک اہم سبب وقت کو استعمال کرنے کا فرق ہے۔
وقت صرف گھڑی کی سوئیوں کا آگے بڑھنا نہیں، بلکہ ہماری زندگی کا ایک ایسا سرمایہ ہے جو خرچ ہونے کے بعد واپس نہیں آتا۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں زمانے کی قسم کھا کر ارشاد فرماتے ہیں:
وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ۔
(سورۃ العصر: 1-2)
ترجمہ: زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔
اس مختصر سورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی کا ایک اہم اصول سمجھایا ہے کہ انسان کا اصل سرمایہ اس کی عمر ہے، اور اگر اس سرمایہ کو ایمان اور نیک اعمال میں استعمال نہ کیا جائے تو انسان نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوجاتا ہے۔
میری بہنو! وقت ضائع کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم فارغ بیٹھے رہیں۔ بعض اوقات ہم پورا دن مصروف رہتے ہیں، لیکن دن کے اختتام پر محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اہم کام مکمل نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصروف رہنا اور مفید کام کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔
مثلاً ایک شخص ضروری کام چھوڑ کر چھوٹے چھوٹے غیر ضروری کاموں میں لگا رہتا ہے۔ کوئی ہر چند منٹ بعد موبائل دیکھتا ہے، کوئی ایک کام شروع کرکے دوسرا کام اٹھا لیتا ہے، اور کوئی ہر کام کو یہ سوچ کر ٹالتا رہتا ہے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔ اس طرح وقت تو گزرتا رہتا ہے، لیکن مقصد حاصل نہیں ہوتا۔
آج سوشل میڈیا نے وقت کے ضیاع کی ایک نئی صورت پیدا کردی ہے۔ ہم موبائل صرف پانچ منٹ کے لیے کھولتے ہیں، لیکن کبھی ایک گھنٹہ گزر جاتا ہے اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا۔ ایک ویڈیو کے بعد دوسری ویڈیو، ایک پوسٹ کے بعد دوسری پوسٹ، اور پھر اچانک معلوم ہوتا ہے کہ جس کام کے لیے موبائل اٹھایا تھا وہ تو کیا ہی نہیں۔
اس کا حل یہ ہے کہ موبائل استعمال کرنے سے پہلے مقصد طے کریں۔ غیر ضروری نوٹیفکیشن بند رکھیں، ہر وقت موبائل اپنے پاس نہ رکھیں اور اپنے لیے استعمال کی حد مقرر کریں۔ کیونکہ جس چیز کو ہم خود قابو میں نہ رکھ سکیں، وہ آہستہ آہستہ ہمارے وقت پر قابض ہوجاتی ہے۔
وقت کی قدر کرنے کا ایک اہم طریقہ ترجیحات طے کرنا ہے۔ ہر کام ایک جیسا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ کام فوراً کرنے کے ہوتے ہیں، کچھ بعد میں ہوسکتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
مثلاً نماز کا وقت ہو تو اسے مؤخر کرکے کسی دوسرے کام میں لگ جانا درست ترجیح نہیں۔ کسی کی ضروری مدد درکار ہو تو اسے معمولی کاموں پر فوقیت دینی چاہیے۔ اور جو کام آج مکمل ہوسکتا ہے، اسے بلاوجہ کل پر نہیں ڈالنا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ۔
(صحیح البخاری)
ترجمہ: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے معاملے میں بہت سے لوگ نقصان اٹھاتے ہیں: صحت اور فراغت۔
غور کیجیے! جب انسان کے پاس صحت بھی ہو اور فرصت بھی، تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ دونوں ہمیشہ رہیں گی۔ لیکن جب صحت کمزور ہوجاتی ہے یا ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں تو اسے احساس ہوتا ہے کہ پہلے ملنے والا فارغ وقت کتنا قیمتی تھا۔
ایک اور بات قابلِ توجہ ہے کہ وقت کی منصوبہ بندی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دن کے ہر لمحے کو کام سے بھر دیں۔ آرام، نیند، اہلِ خانہ کے حقوق اور اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
اس کے لیے ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ رات کو سونے سے پہلے اگلے دن کے تین اہم کام لکھ لیں۔ صبح اٹھ کر سب سے پہلے ان کاموں کو مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ ایک وقت میں ایک کام کریں، اور جو کام شروع کریں اسے مکمل کرکے دوسرا کام شروع کریں۔ اس معمول سے نہ صرف وقت بچے گا بلکہ ذہنی انتشار بھی کم ہوگا۔
میری عزیز بہنو!
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وقت کی قدر صرف دنیاوی کامیابی کے لیے نہیں، بلکہ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی ضروری ہے۔
آئیے! ہم وقت کو محض گزارنے کے بجائے اسے صحیح مقصد کے لیے استعمال کرنا سیکھیں۔
کیونکہ کامیابی اچانک نہیں ملتی، یہ درست فیصلوں، مسلسل کوشش اور وقت کے بہترین استعمال سے حاصل ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی عمر کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ