الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین، اما بعد!
*قبر، اور اس کے بعد پیش آنے والے قیامت کے ہولناک مراحل!*
ذرا تصور کیجیے! ایک انسان دنیا میں اپنی زندگی گزار رہا ہے، اپنے گھر میں ہے، اپنے اہل و عیال کے درمیان ہے، اپنے منصوبوں میں مصروف ہے، لیکن اچانک موت کا وقت آجاتا ہے۔ اس کی سانسوں کی مہلت ختم ہوجاتی ہے.
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾
ترجمہ: اور موت کی سختی حق کے ساتھ آپہنچی، یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔ (سورۃ ق: 19)
جب موت آئے تو اس وقت نہ دولت کام آئے گی، نہ عہدہ۔
موت کے بعد انسان کا پہلا پڑاؤ قبر ہے۔
آج ہم اپنے گھروں میں روشنیوں کے درمیان رہتے ہیں، لیکن ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ہمیں ایک قبر میں اتار دیا جائے گا، دو گز زمین ، گھپ اندھیرا ۔
فرمانِ نبی ہے:
«إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ»
ترجمہ: جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ذرا اس تنہائی کا تصور کیجیے!
اب وہاں دو فرشتے آئیں گے اور اس سے سوال کریں گے:
مَنْ رَبُّكَ؟ تیرا رب کون ہے؟
مَا دِينُكَ؟ تیرا دین کیا ہے؟
مَنْ نَبِيُّكَ؟ تیرا نبی کون ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب وہی بندہ دے پائے گا، جس نے ایمان پر زندگی گذاری ہوگی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ مومن صحیح جواب دیتا ہے، جبکہ کافر اور منافق جواب نہیں دے پاتے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اور قرآن مجید میں فرعون اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں برزخی عذاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا ۚ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾
ترجمہ: وہ آگ ہے جس کے سامنے انہیں صبح و شام پیش کیا جاتا ہے، اور جس دن قیامت قائم ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔ (سورۃ غافر: 46)
یعنی قیامت قائم ہونے سے پہلے بھی بعض لوگوں کو عذاب دیا جائے گا، اور قیامت کے بعد ان کے لیے مزید سخت عذاب ہوگا۔
ذرا اپنے دل سے پوچھیے! اگر آج ہماری زندگی ختم ہوجائے تو ہم کس حال میں قبر میں اتریں گے؟
اور پھر ایک دن ایسا آئے گا جب صور پھونکا جائے گا اور یہ پوری کائنات اپنے موجودہ نظام کے ساتھ باقی نہیں رہے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ وَّحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةً فَيَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ﴾
ترجمہ: پھر جب صور میں ایک مرتبہ پھونک ماری جائے گی، اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک ہی بار میں ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے، تو اس دن ہونے والا واقعہ پیش آکر رہے گا۔ (سورۃ الحاقہ: 13-15)
وہ پہاڑ جنہیں دیکھ کر انسان اپنی طاقت کا اندازہ لگاتا ہے، وہ زمین جس پر انسان اپنی ملکیت کے دعوے کرتا ہے، سب اللہ کے حکم سے بدل دیے جائیں گے۔
پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور تمام انسان قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ﴾
ترجمہ: جس دن وہ قبروں سے تیزی کے ساتھ نکلیں گے، گویا کسی نصب کی طرف دوڑ رہے ہوں۔ (سورۃ المعارج: 43)
اس دن کوئی اپنی قبر میں نہیں رہ سکے گا، کوئی اپنی موت کو واپس نہیں لے سکے گا، سب کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہوگا۔
میدانِ حشر کا منظر!
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا»
ترجمہ: تمہیں قیامت کے دن ننگے پاؤں، بے لباس اور بغیر ختنہ کے اٹھایا جائے گا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا مرد اور عورتیں ایک ساتھ ہوں گے اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
«الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ»
ترجمہ: اس دن معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا کہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھیں۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
قرآن مجید اس دن کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے.
﴿يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُّغْنِيهِ﴾
ترجمہ: جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن اپنی ایسی فکر ہوگی جو اسے دوسروں سے بے پروا کردے گی۔ (سورۃ عبس: 34-37)
یہ نفسا نفسی کا عالم ہوگا!
ماں اپنے بچے کو دیکھ کر بھی اپنی نجات کے بارے میں سوچ رہی ہوگی، اولاد اپنے والدین کے لیے کچھ نہ کر سکیں گے، شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے کام نہ آسکیں گے۔
کیوں؟ اس لیے کہ اس دن ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَوْمَ تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُمْ بِسُكَارَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِيدٌ﴾
ترجمہ: جس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی، اور ہر حمل والی اپنا حمل گرا دے گی، اور تم لوگوں کو نشے کی حالت میں دیکھو گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔ (سورۃ الحج: 2)
یہ قیامت کی دہشت کا عالم ہوگا! ایسی گھبراہٹ جس کے سامنے دنیا کی تمام پریشانیاں معمولی معلوم ہوں گی۔
اور اس دن صرف خوف ہی نہیں ہوگا، بلکہ انتظار بھی ہوگا۔ حساب شروع ہونے کا انتظار، فیصلے کا انتظار، اپنے انجام کے ظاہر ہونے کا انتظار!
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سورج مخلوق کے بہت قریب کردیا جائے گا، پھر لوگ اپنے اعمال کے مطابق اپنے پسینے میں ہوں گے؛ کسی کا پسینہ ٹخنوں تک ہوگا، کسی کا گھٹنوں تک، کسی کا کمر تک اور کسی کو پسینہ لگام کی طرح گھیر لے گا۔ (صحیح مسلم)
ذرا سوچیے! نہ کوئی سایہ، نہ دنیا کا آرام۔ ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق اس دن کی سختی میں ہوگا۔
پھر حساب و کتاب کا مرحلہ شروع ہوگا!
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَاوَيْلَتَنَا مَالِ هَٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَّلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا﴾
ترجمہ: اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا، پھر تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ اس کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے، اور کہہ رہے ہوں گے: ہائے ہماری بربادی! اس کتاب کو کیا ہوا کہ اس نے کوئی چھوٹی یا بڑی بات نہیں چھوڑی مگر اسے شمار کر رکھا ہے! اور انہوں نے جو کچھ کیا تھا سب اپنے سامنے موجود پائیں گے، اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ (سورۃ الکہف: 49)
ذرا اس آیت کے الفاظ پر غور کیجیے: لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَّلَا كَبِيرَةً!
کوئی چھوٹی بات نہیں چھوڑی، کوئی بڑی بات نہیں چھوڑی!
وہ جھوٹ جسے ہم نے معمولی سمجھا، وہ غیبت جسے ہم نے محفل کا حصہ سمجھا، وہ نگاہ جسے ہم نے چھوٹی بات سمجھ کر نظر انداز کیا، وہ نماز جسے ہم نے قضا کیا، وہ بے پردگی جسے ہم نے معمولی سمجھا، فوٹوز ویڈیوز جو غیر محرم کو دکھانا کلچر سمجھتے ہیں، سب کا حساب ہوگا۔
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ انسان خود اپنے اعمال نامے کو دیکھ کر حیران رہ جائے گا!
پھر اللہ تعالیٰ میزان قائم فرمائے گا، اعمال کا وزن ہوگا۔
﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ﴾
ترجمہ: اور ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو قائم کریں گے، پھر کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا، اور اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے حاضر کردیں گے، اور حساب لینے کے لیے ہم کافی ہیں۔ (سورۃ الانبیاء: 47)
اور پھر انسان سے اس کی زندگی کے بارے میں سوال ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ فِيمَ فَعَلَ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أَنْفَقَهُ، وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَ أَبْلَاهُ»
ترجمہ: قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں خرچ کیا، اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کتنا عمل کیا، اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس کے جسم کے بارے میں کہ اسے کس کام میں کھپایا۔ (سنن ترمذی)
ذرا اپنے علم کے بارے میں سوچیے! ہم نے قرآن و حدیث پڑھا، دینی مسائل سیکھے، لیکن کیا ہم نے ان پر عمل بھی کیا؟
اور پھر جہنم کا وہ انجام جس سے قرآن مجید نے بار بار ڈرایا ہے!
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ﴾
ترجمہ: اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ (سورۃ البقرۃ: 24)
اور جہنم کے دروازوں پر فرشتوں کی سختی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَلَٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ﴾
ترجمہ: اور کافروں کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اور اس کے نگہبان ان سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں تمہارے رب کی آیات سناتے تھے اور تمہیں اس دن کی حاضری سے ڈراتے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! لیکن کافروں پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا۔ (سورۃ الزمر: 71)
جہنم کے عذاب کی شدت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ۗ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾
ترجمہ: جب بھی ان کی کھالیں پک جائیں گی تو ہم انہیں دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں، بے شک اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔ (سورۃ النساء: 56)
اور ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
﴿وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ ۚ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا﴾
ترجمہ: اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا، کیا ہی برا مشروب ہے اور کیا ہی بری آرام گاہ! (سورۃ الکہف: 29)
اور فرمایا:
﴿إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾
ترجمہ: بے شک وہ آگ ان پر بند کردی جائے گی، لمبے لمبے ستونوں میں۔ (سورۃ الہمزہ: 8-9)
یہ وہ جہنم ہے جس سے انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی امتوں کو ڈرایا، جس سے قرآن مجید نے بار بار خبردار کیا، جس کے عذاب کی شدت انسانی تصور سے باہر ہے۔
پھر ہم کس چیز میں غافل ہیں؟ کیا چند لمحوں کی لذت کے لیے ہمیشہ کے عذاب کو بھلا دینا عقل مندی ہے؟ کیا دنیا کی معمولی خواہشات کے لیے اپنے آخرت کے انجام کو خطرے میں ڈالنا دانش مندی ہے؟
محترم سامعات!
آج ہماری زندگی ہمارے اختیار میں ہے۔ ہم عبادتیں کرسکتے ہیں، توبہ کرسکتے ہیں، حقوق ادا کرسکتے ہیں، گناہوں سے بچ سکتے ہیں، قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرسکتے ہیں، بے پردگی سے بچ سکتے ہیں، حلال و حرام کی تمیز کرسکتے ہیں ۔
لیکن جس وقت موت آجائے گی، اس وقت عمل کا دروازہ بند ہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلے ہی خبردار کردیا ہے:
﴿وَأَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ فَيَقُولُ الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ﴾
ترجمہ: اور لوگوں کو اس دن سے ڈرائیے جب ان پر عذاب آئے گا، تو ظالم کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمیں تھوڑی مدت کی مہلت دے دے، ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔ (سورۃ ابراہیم: 44)
لیکن اس وقت مہلت کہاں ملے گی؟
آج جو مہلت ہے، اسی میں نجات کی تیاری کرنی ہے۔
آئیے! آج ہم اپنے دلوں میں یہ سوال لے کر واپس جائیں:
اگر آج رات ہماری آنکھ بند ہوگئی، اگر کل ہمارا جنازہ اٹھا، اگر ہمیں اسی وقت قبر میں اتار دیا گیا، تو ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟
کیا ہم اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے تیار ہیں؟
کیا ہمارا اعمال نامہ اس قابل ہے کہ ہم اسے دیکھ سکیں؟
کیا ہم نے جہنم سے بچنے کا کوئی سامان کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ ہمیں غفلت کی زندگی سے نکال کر فکرِ آخرت کی زندگی عطا فرمائے، قبر کے عذاب سے محفوظ فرمائے، قیامت کی سختیوں سے اپنی پناہ میں رکھے، حساب و کتاب میں ہماری حفاظت فرمائے اور جہنم کے عذاب سے نجات عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔