الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین، اما بعد!
 *سوشل میڈیا، بے حیائی اور نوجوان نسل۔* 

یہ وہ دور ہے جس میں انسان کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی اسکرین ہے، لیکن اس اسکرین کے اندر پوری دنیا سمائی ہوئی ہے۔ اسی سے علم حاصل کیا جاسکتا ہے، دینی معلومات سیکھی جاسکتی ہیں، دور بیٹھے رشتہ داروں سے رابطہ رکھا جاسکتا ہے؛ لیکن اسی کے ذریعے بے شمار ایسے مناظر،اور خیالات بھی ہمارے گھروں میں داخل ہورہے ہیں جنہیں کبھی ہمارے معاشرے میں ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا، مگر آج رفتہ رفتہ معمول کی چیز بنا دیا گیا ہے۔
اصل خطرہ صرف یہ نہیں کہ نوجوان نسل سوشل میڈیا استعمال کررہی ہے؛ اصل خطرہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا آہستہ آہستہ نوجوان نسل کی سوچ، پسند، ناپسند، شرم و حیا اور زندگی کے معیار طے کررہا ہے۔
ذرا غور کیجیے! پہلے بے حیائی کے لیے انسان کو اپنے گھر سے باہر نکلنا پڑتا تھا، لیکن آج بے حیائی خود انسان کی جیب میں موجود ہے، آج ایک انگلی کی حرکت سے انسان ایسی چیزوں تک پہنچ جاتا ہے جنہیں دیکھنے کی اجازت نہ دین، دیتا ہے نہ اخلاق۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا۔ (سورۃ الإسراء: 36)
ترجمہ: بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

میری بہنو! آج بعض چیزیں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ ہم ان کے نقصان کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ مثلاً کسی اجنبی کی تصویر یا ویڈیو کو بار بار دیکھنا، غیر ضروری طور پر مخالف جنس سے گفتگو کرنا، ہر پوسٹ پر تبصرہ کرنا، نجی پیغامات میں بے تکلفی بڑھانا، اپنی ذاتی زندگی کے ہر لمحے کو دوسروں کے سامنے پیش کرنا، گھر کی خواتین اور بچوں کی تصاویر بلا ضرورت عام کرنا، نامناسب لباس اور انداز کو فیشن سمجھنا، اور دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی شخصیت کو نمائش کا ذریعہ بنانا۔
یہ سب کام بظاہر چھوٹے معلوم ہوتے ہیں، لیکن انسان کی حیا ایک ہی دن میں ختم نہیں ہوتی؛ وہ رفتہ رفتہ کم ہوتی ہے۔ پہلے جو منظر دیکھ کر طبیعت میں ناگواری ہوتی تھی، کچھ عرصے بعد وہی معمولی محسوس ہونے لگتا ہے۔ پہلے جس گفتگو سے انسان جھجکتا تھا، بعد میں اسی گفتگو میں بے تکلفی محسوس ہونے لگتی ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان کو غلط اور صحیح کے درمیان فرق ہی کم محسوس ہونے لگتا ہے۔
یہی سب سے بڑا نقصان ہے کہ گناہ صرف عمل نہیں رہتا، بلکہ گناہ کا تصور بھی دل سے کمزور ہونے لگتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ۔
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ: حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔

جب حیا ایمان کی شاخ ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ جس معاشرے میں بے حیائی کو ترقی، بے باکی کو خود اعتمادی اور حدود کے توڑنے کو آزادی سمجھا جانے لگے، وہاں ایمان کی حفاظت کس قدر ضروری ہوجاتی ہے!

اب سوال یہ ہے کہ بے حیائی پھیلنے کی وجوہات کیا ہیں؟
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی پسند کو اپنا معیار بنالیا ہے۔ جو چیز اچھی لگے، اسے دیکھ لیا؛ جو ویڈیو دلچسپ ہو، اسے آگے بڑھا دیا۔ ہم نے یہ سوچنا کم کردیا کہ کیا یہ چیز اللہ تعالیٰ کو پسند بھی ہے یا نہیں؟
دوسری وجہ اندھی تقلید ہے۔ کسی مشہور شخصیت کے لاکھوں فالوورز ہوں تو ہم اس کے ہر انداز کو قابلِ قبول سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے! مقبولیت، حق ہونے کی دلیل نہیں، اور لوگوں کی پسند، اللہ تعالیٰ کی رضا کا معیار نہیں۔
تیسری وجہ والدین اور گھر کے ماحول میں نگرانی اور تربیت کی کمی ہے۔ بعض گھروں میں بچوں کے ہاتھ میں موبائل تو دے دیا جاتا ہے، لیکن انہیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ انٹرنیٹ پر کیا دیکھنا ہے، کس سے بات کرنی ہے۔ صرف موبائل دے دینا کافی نہیں، اس کے استعمال کا شعور دینا بھی ضروری ہے۔
اور ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بے حیائی کو صرف لباس تک محدود کردیا ہے، حالانکہ بے حیائی صرف جسم کے ظاہر ہونے کا نام نہیں؛ نگاہوں کی بے احتیاطی، گفتگو کی بے باکی، تعلقات میں حد سے آگے بڑھنا بھی حیا کے خلاف ہوسکتی ہے۔
غور کیجیے! قرآن نے حیا کی حفاظت کا آغاز نگاہوں سے کیا ہے۔ اس لیے صرف لباس درست کرلینا کافی نہیں، نگاہ، گفتگو، سوچ اور تعلقات کی پاکیزگی بھی ضروری ہے۔
لیکن سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ آج جو چیزیں ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کررہے ہیں، کل وہی ہماری اگلی نسل کے لیے معمول بن سکتی ہیں۔
آج ایک بچی اپنی ماں کو ہر وقت موبائل میں مصروف دیکھتی ہے، کل وہ بھی اسی کو زندگی کا لازمی حصہ سمجھے گی۔ آج گھر میں نامناسب ویڈیوز چلتی ہیں اور بچے انہیں دیکھتے ہیں، کل انہیں یہ سمجھانا مشکل ہوگا کہ یہ سب غلط ہے۔ 
ہم اپنی زبان سے حیا کی اہمیت بیان کریں، لیکن ہمارے اپنے موبائل میں بے احتیاطی موجود ہو، تو ہماری نصیحت کا اثر کمزور پڑ جائے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ۔
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ: تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
لہٰذا اولاد کے ایمان اور اخلاق کی حفاظت صرف مدرسے یا اسکول کی ذمہ داری نہیں، والدین اور گھر کے ہر ذمہ دار فرد کی بھی ذمہ داری ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اصلاح کیسے ہو؟
سب سے پہلے ہمیں اپنے موبائل کے استعمال کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ یہ سوچیں کہ کیا یہ عمل میرے لیے آخرت میں نفع کا سبب ہوگا یا نقصان کا؟
دوسرا یہ کہ اپنے سوشل میڈیا کو پاکیزہ بنائیں۔ ایسے صفحات اور اکاؤنٹس سے دور ہوجائیں جو مسلسل بے حیائی، نامناسب لباس، غیر ضروری تعلقات اور گناہ کی ترغیب دیتے ہیں۔ جو چیز ہمارے ایمان کو کمزور کررہی ہو۔
تیسرا یہ کہ موبائل کے استعمال کی حدود مقرر کریں۔ گھر والوں کے ساتھ بیٹھتے وقت موبائل ایک طرف رکھیں، بچوں کے سامنے نامناسب مواد نہ دیکھیں، ان کے استعمال پر محبت اور حکمت کے ساتھ نگرانی رکھیں اور انہیں اعتماد کے ساتھ صحیح و غلط سمجھائیں۔
چوتھا یہ کہ نوجوان نسل کو صرف روکیں نہیں، انہیں پاکیزہ متبادل بھی دیں۔ قرآن کی تلاوت، دینی مطالعہ، مفید تعلیم، اچھے مشاغل اور صالح صحبت کی طرف ان کی رہنمائی کریں۔ خالی ذہن اور بے مقصد وقت کو اکثر غلط مصروفیات اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس پیدا کریں۔ یاد رکھیے! انسان لوگوں سے اپنی سرگرمیاں چھپا سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سے کچھ پوشیدہ نہیں۔

میری عزیز بہنو!
یاد رکھیے! نسلوں کی تباہی ہمیشہ بڑے بڑے گناہوں سے شروع نہیں ہوتی؛ کبھی چھوٹی چھوٹی بے احتیاطیاں، مسلسل دہرائے جانے کے بعد، بڑے فتنوں کی بنیاد بن جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری نگاہوں، ہمارے دلوں، ہماری نسلوں اور ہمارے گھروں کی حفاظت فرمائے.
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔