*نقوش جاوداں*
بنام راغب الحسینی پورنوی
قسط ثانی
✍🏻گل رضا راہی ارریاوی
کہتے ہیں مہمان برکت کا سبب ہوتے ہیں اور وہ اپنا رزق لے کر آتے ہیں ،مہمانوں کی وجہ سے میزبان کو کچھ اچھا کھانے پینے کا موقع مل جاتا ہے ،الحمد للہ میرے پاس مہمان آتے ہیں ،جس سے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے ، راقم اس برکت کا مشاہدہ بچشم خود کررہاہے ،تقریبا گاہے بہ گاہے ہر دو دن میں کوئی نہ مہمان آتاہے، سب کا انتظام اللہ تعالیٰ کرنے والے ہیں وہ کرتاہے توقع سے زیادہ کرتاہے -
ایسے ہی ایک معزز مہمان معروف خطاط اور ناظم اعلی حجۃ الاسلام دارالعلوم وقف دیوبند رفیق گرامی مولانا راغب الحسینی پورنوی میرے قیام گاہ پرا تشریف لاۓ ، موصوف کی دلکش تزئین کاری ، شاندار کتابت ،پرکشش وجاذب نظر تحریر دارالعلوم دیوبند و وقف دارالعلوم میں مقبول و معروف ہے بہت سے احباب ان سے ان سے استفادہ کررہے ہیں ،فیسبک کے ذریعے ان کی دلنشیں کتابت نظر نواز ہوتی رہتی ہے ،بر بناۓ ایں زیارت وملاقات کی دیرینہ خواہش تھی ، بقول نوح ناروی
سنتے رہے ہیں آپ کے اوصاف سے ہم
ملنے کا آپ سے کبھی موقع نہیں ملا
اشتیاق دید آج بروز جمعہ بعد نماز عصر پوری ہوئی-
رابطہ کی تفصیل یہ ہے کہ کل موصوف کی شاندار کتابت میں نے اپنے فیسبک احباب سے نشر کیا تو برادرم نے دیکھا اور خود رابطہ کیا، حال و احوال کی دریافتگی کے بعد بتایا کہ میری وہ تحریر برابر پڑھتے ہیں اور پسند بھی کرتے ہیں، جس سے راقم کو حوصلہ ملا ،پھر میں نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، تو موصوف اپنے کسر نفسی کی وجہ سے از خود میرے رہائش گاہ پہ تشریف لاۓ اور ملاقات کا شرف بخشا ،پھر میں نے بطوریاد گار کہاکہ آپ میری کسی ایک کتاب پر نام لکھ دیں تاکہ میری یادوں کی ڈائری میں آپ اور آپ کی دلکش تحریر محفوظ ہوجائے، موصوف نے میرے کتابوں میں ایک کتاب "ترجمۂ شیخ الہند بہ نام تفسیر عثمانی " پر اپنے مبارک قلم سے میرا نام تحریر کیا جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء
پھر موصوف سے بہت دیر تک گفت وشنید ہوئی ،کتابت سے اپنی دلچسپی کو بتلایا، ملاقات دلچسپ رہی اور مستقبل کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا-
اس شعر کے ساتھ رخصت ہورہاہوں ---
منحصر وقت مقررپہ ملاقات ہوئی
آج یہ آپ کی جانب سے نئی بات ہے
اللہ تعالی انہیں خوش رکھے آمین