ہندوستانی سیاست!


✍️ :-ایم یو صدیقی


ہندوستان میں آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد یعنی ۱۸۵۷ سے ۱۹۴۷ تک اور پھر اس کے بعد کے طویل عرصے میں مسلم قیادت کا چرچا ہمیشہ کسی نہ کسی صورت میں رہا ہے۔ اور اس پورے سفر میں متعدد شخصیات مسلم قائد کے طور پر سامنے آئیں جس میں کچھ مقبول بھی ہوئیں اور قومِ مسلم کے ایک نمایاں طبقے نے انہیں اپنا رہنما بھی مانا لیکن اس کے ساتھ-ساتھ ایک بڑی فہرست ایسی شخصیات کی بھی ہے جنہوں نے خود کو قائد کہا مگر قوم نے انہیں کبھی دل سے قبول نہیں کیا۔ حالانکہ یہاں ایک اشکال دور کرنا ضروری ہے کہ اختلافِ رائے تقریبا ہر شخصیت سے کسی نہ کسی درجے میں تو ہوتی ہی ہے مگر جب کسی شخص کو مجموعی طور پر امت کی ایک بڑی تعداد اپنا قائد تسلیم کر لے تو اس کو بہرحال ایک "مقبول شخصیت" کہا جا سکتا ہے خواہ جزوی اعتراضات برقرار رہیں۔
بہرحال ہماری بدقسمتی یا خصوصیت یہ ہے کہ ۱۸۵۷ سے آج تک ہماری تاریخ میں چند گنی چنی شخصیات کے سوا کوئی فرد بھی ایسا نہیں ہے اور خاص طور پر فی زمانہ ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو تمام تر اختلافات کے باوجود بحیثیتِ مجموعی مسلم قیادت کے طور پر قوم کے دلوں پر راج کرتا نظر آئے۔ حالانکہ اس صورتِ حال کی متعدد وجوہات اہلِ علم نے بیان کی ہیں یعنی کسی نے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی، کسی نے نفسیاتی و سماجی عوامل کا تجزیہ کیا جبکہ کسی نے استعماری سیاست اور پھر بعد کی داخلی کمزوریوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مگر جو بات سب سے زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے وہ "نظریات کی لڑائی" اور "اپنوں کے درمیان رسہ کشی" ہے اور یہی وہ عنصر ہے جس نے قیادت کے ہر ابھرتے ہوئے چراغ کے گِرد گَرد و غبار اٹھا کر روشنی مدھم کر دی۔ بہر کیف آج کے ہندوستان میں گذشتہ ایک دہائی سے زائد وقت سے ایک شخصیت مسلم قائد کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد انہیں اپنا رہنما بھی مان رہی ہے ۔ کیونکہ اس کا اندازہ اس سے لگتا ہے کہ ان کے جلسوں میں ہجوم ہے، سوشل میڈیا پر چرچے ہیں اور سیاسی حلقوں میں ان کا نام بحث کا مستقل عنوان بن چکا ہے۔ لیکن دوسری جانب وقت کے بڑے علماء، اربابِ فکر اور سنجیدہ دانش وروں کا ایک معتدبہ طبقہ انہیں مسلم قیادت کے دائرے سے باہر قرار دے رہا ہے یا کم از کم شدید تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔ ان کا نام لینا یہاں ضروری بھی نہیں اور شاید حکمت کے تقاضے سے مطلوب بھی نہیں کیونکہ ہندوستانی سیاست سے معمولی سا تعلق رکھنے والا شخص بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اشارہ کس طرف ہے۔ اس کے علاوہ مقصدِ تحریر بھی کسی فرد کی ذات پر الزام رکھنا نہیں بلکہ اس "طریقۂ سیاست" پر اپنی کمزور سی رائے پیش کرنا ہے جو اس وقت قوم کے سامنے ایک ماڈل کے طور پر رکھا جا رہا ہے اور جو آنے والی نسلوں کی فکری و عملی تشکیل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ 
جہاں تک مطالعہ اور تاریخ کے متنوع حوالوں اور ماضی و حال کے تجربات سے جو بات سمجھ آتی ہے اور جس کو الفاظ کا جامہ پہناتے ہوئے خوف بھی محسوس ہوتا ہے کیونکہ سچ بولنے کی قیمت کبھی نہ کبھی ضرور ادا کرنی پڑتی ہے۔ یعنی تنقید کا نشانہ بننا، غلط فہمیوں کا شکار ہونا یا کسی خاص گروہ کی ناراضگی مول لینا آج کے ماحول میں کچھ بعید نہیں ہے۔ تاہم سچ بہرحال سچ ہے اور سچ کو ایک نہ ایک دن زبانوں پر آنا اور صفحات پر اترنا ہی ہوتا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ زیرِ بحث شخصیت سے کسی طرح کا میرا ذاتی اختلاف نہیں ہے اور نہ ہی کوئی شخصی رقابت یا مفاد کا ٹکراؤ اس تحریر کا محرک ہے۔ بلکہ اختلاف اگر ہے تو فقط نظریات اور طرزِ سیاست سے ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر اس کمزور قلم سے چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں اور اس احساس کے ساتھ کہ یہ حرفِ آخر نہیں ہے بلکہ ایک طالبِ علمانہ رائے ہے جس پر بہتر عالمانہ اور جامع گفتگو کی ہمیشہ گنجائش باقی رہے گی۔ 
خیر اس شخصیت کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جس کی بناء پر مجھے موجودہ ہندوستانی صورتِ حال میں یہ شخصیت بظاہر "جناح کی کاپی" محسوس ہوتی ہے اسلیے کہ انکا فکر و تصورِ قومیت، مطالبات پیش کرنے کا انداز، سیاسی حکمتِ عملی میں حد درجہ سختی اور بعض مواقع پر ایسا طرزِ عمل جو اکثریتی سماج کے ساتھ فاصلہ بڑھانے کا سبب ایسے عناصر ہیں جو ماضی میں جناح کے اندر نظر آتے تھے۔
 حالانکہ یہاں پر انصاف کی بات یہ ہے کہ قومِ مسلم کے تئیں ان کی فکری و عملی تڑپ، تعلیمی، سماجی اور سیاسی سطح پر ان کی جدوجہد اور ہندوستانی نظام میں مسلمانوں کے جائز حقوق کے لیے ان کی آواز کو بالکلیہ نظر انداز کرنا بھی ناانصافی ہوگی۔ یعنی یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ وہ اپنی جگہ مخلص بھی ہیں، سرگرم بھی اور اپنی سمجھ کے مطابق قوم کی بھلائی چاہتے بھی ہیں۔ البتہ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں "مقصد کی درستگی" کے باوجود "طریقۂ کار کی خرابی" قوم کو نقصان کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ جذباتی نعرے، مسلسل محاذ آرائی، سیاسی بصیرت کے بجائے وقتی جوش سے فیصلے اور ایسی حکمتِ عملی جس کے نتیجے میں کبھی مسلمانوں کے اندر گروہ بندی، مسلکی تقسیم اور تنظیمی ٹکراؤ بڑھتا ہے اور کبھی وسیع تر قومی منظرنامے میں مسلمانوں کو مزید شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جانے لگتا ہے۔ اس کے علاوہ اس طرزِ سیاست کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ قوم کے ایک حصے کو "اصلی، جری اور بے خوف" مسلمانوں کا لقب ملتا ہے اور دوسرے مخالف حلقوں کو "پسپا، مفاہمتی یا بزدل" کہہ کر عملاً قوم کو دو خانوں میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اجتماعی طاقت بکھرتی ہے، سنجیدہ مکالمہ ختم ہوتا ہے اور مسلم معاشرہ داخلی محاذ آرائی میں الجھ کر اپنے اصل، دیرپا اہداف سے دور ہو جاتا ہے۔ 
حالانکہ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ قیادت جب نظریاتی شدت، سیاسی ہٹ دھرمی اور وقتی مقبولیت کے خمار میں دور رس نتائج کو نظر انداز کر دے تو قوم کو دہائیوں تک اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ برصغیر کی تقسیم، بے شمار فسادات، مہاجرت اور مسلسل عدمِ تحفظ کا جو سلسلہ ۱۹۴۷ کے بعد اب تک چلا آ رہا ہے وہ اسی نوع کی چند سیاسی غلطیوں کی تلخ یاد تازہ کر دیتا ہے۔
جبکہ سچ یہ بھی ہے کہ اس پس منظر میں آج کے ہندوستانی مسلمان کسی نئے تجربے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم قیادت کے کسی بھی نئے ماڈل کو جذباتی نعروں کے بجائے تاریخ، شریعت، عقلِ سلیم اور موجودہ زمینی حقائق کے آئینے میں پرکھا جائے۔ کیونکہ قیادت کا معیار صرف جراتِ اظہار نہیں بلکہ حکمت، دور اندیشی، اجتماعیت، عدل اور امت کے مختلف طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت بھی ہے ورنہ ایک شخص بظاہر "قائد" تو کہلائے گا مگر قوم مسلسل انتشار اور کمزوری کی دلدل میں دھنستی چلی جائے گی۔